ٹیکساس میں لاری سے 46 تارکین وطن کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست ٹیکساس میں سان انتونیو کے مضافات سے ایک لاوارث لاری میں کم از کم 46 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ غیر قانونی تارکینِ وطن تھے۔
آگ بھجانے والے ایک سرکاری اہلکار کے مطابق چار بچوں سمیت 16 افراد کو ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ بچ جانے والوں کا جسم بہت گرم تھا اور وہ ہیٹ سٹروک اور گرمی سے نڈھال حالت میں تھے۔ ٹیکساس میں واقع سان انتونیو کا علاقہ، امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے تقریباً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور انسانی سمگلروں کے لیے ایک اہم روٹ ہے۔
انسانی سمگلر امریکہ میں بنا دستاویزات کے داخل ہونے والے تارکین وطن کو منتقل کرنے کے لیے لاریوں کا استعمال کرتے ہیں۔ سان انتونیو کے میئر رون نیرنبرگ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ خاندان بھی تھے اور ممکنہ طور پر وہ بہتر زندگی کی تلاش میں تھے۔ یہ واقعہ بھیانک انسانی المیے سے کم نہیں۔
سان انتونیو کے فائر چیف چارلس ہُڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہنگامی امداد فراہم کرنے والے اہلکار ایک لاش ملنے کی اطلاع کے بعد شام چھے بجے کے قریب جائے وقوعہ پر پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم کام پر آئیں گے اور ایک ٹرک کھولیں گے جس سے لاشوں کے ڈھیر ملیں گے۔
گاڑی کو اس کا ڈرائیور چھوڑ کرغائب ہو گیا تھا اور اس میں کوئی ایئرکنڈیشن کام نہیں کر رہا تھا اور نہ اس کے اندر پینے کا پانی موجود تھا۔ کے ایس اے ٹی کے مقامی ٹی وی چینل کے مطابق یہ گاڑی سان انتونیو میں ریل کی پٹریوں کے قریب سے ملی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں ایک بڑے ٹرک کے اردگرد ہنگامی امداد فراہم کرنے والے افراد کی ایک قابل ذکر تعداد دکھائی دیتی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سان انتونیو کے پولیس چیف ولیم میک مینس نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات وفاقی ایجنٹوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ تین افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔