پنجاب پولیس اور بیوروکریسی حکومت کے غیرقانونی احکامات نہ مانیں: عمران خان
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب پولیس اور بیوروکریسی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کے دوران صوبائی حکومت کے غیر قانونی احکامات پر عمل نہ کرے۔
عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے دباؤ کے باوجود ان کی حکومت نے عالمی مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا تھا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے مہنگائی مخالف احتجاج میں شرکت کریں۔ منگل کو ایک نیوز کانفرنس سے قبل پارٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حمزہ شہباز زیادہ دیر وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی 20 جنرل نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ میں صوبے کی پولیس اور بیوروکریسی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ شریف مافیا کے کہنے پر آپ جو کچھ کر رہے ہیں اور 25 مئی کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل لوگوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی ریکارڈنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پولیس اور بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔ حکومت نہیں بچے گی، لیکن آپ ہمارے خلاف جو بھی قدم اٹھائیں گے اس کی قیمت آپ تنخواہ دار لوگ ادا کریں گے۔ آپ کو اپنے خاندانوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ہمارے پاس پولیس حکام کی تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔
ملک کی ابتر مالی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران حالات مشکل تھے لیکن ہم نے آئی ایم ایف کے دباؤ، کمزور معیشت اور کووڈ19 کی وبا کے باوجود عالمی مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا۔
دریں اثنا، پی ٹی آئی کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے خیبرپختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مخلوط حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مبینہ طور پر ناقص پالیسیوں اور مسلسل اضافے کی وجہ سے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہے۔