پاکستان مغرب کی حمایت یافتہ بھارتی فوج کا مقابلہ کررہا ہے: مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی

  • بدھ 29 / جون / 2022

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل نے کہا ہے کہ بھارت مغربی ممالک کی حمایت کے باعث اپنے روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔

 خطے میں عدم توازن کی بھارتی کوششوں اور اسے کسی فوجی مہم جوئی سے روکنے کے لیے پاکستان کے پاس جوابی اقدامات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی جنرل مظہر جمیل قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام ’قومی سلامتی کے تقاضے، روایتی و غیر روایتی سیکیورٹی محکموں کا جامع فریم ورک‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مظہر جمیل کا کہنا تھا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر امن چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب تنازعات بشمول جموں و کشمیر کے بنیادی مسئلے کو برابری کے اصول کی بنیاد پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کو روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے جامع طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طاقت کی عالمی سیاست سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتا۔ ہمیں بڑی طاقتوں کے درمیان جاری مقابلے میں الجھے بغیر اپنی قومی طاقت اور صلاحیت کو بڑھانا چاہیے۔ اقتصادی اور فوجی سیکیورٹی ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ ایک مضبوط روایتی و غیر روایتی سیکیورٹی فریم ورک کے بغیر ملک کا دفاع اور اس کی مضبوطی کا مقصد کھوکھلا رہے گا۔

سیمینار کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی زیرقیادت مغربی بلاک بھارتی فوجی سازوسامان کی حمایت کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی اصولوں اور عزائم کے معاہدوں کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی دہلی کو جدید ایٹمی ٹیکنالوجی اور مواد تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔

بھارت کی ہندو قوم پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کی مغربی سرپرستوں کی جانب سے حمایت کی جا رہی ہے۔ مظہر جمیل نے کہا کہ یہ حمایت بھارت کو ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ ایٹمی طاقت بنا رہی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی دہلی کو جو بھی سیاسی یا فوجی سپورٹ ملتی ہے، وہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے اور اس حمایت کی بنیاد پر خود کو چین کے خلاف ایک طاقتور حریف کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت اور جارحانہ نظریات کے پیش نظر پاکستان کے پاس خطے میں عدم توازن پیدا کرنے اور فوجی مہم جوئی کی کسی بھی بھارتی کوشش کو روکنے کے لیے جوابی اقدامات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مظہر جمیل کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست کے طور پر پاکستان اسٹریٹجک استحکام کا خواہاں ہے اور وہ اپنے مکمل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کو برقرار رکھے گا۔ جوہری خطرات کو کم کرنے اور جنگ کے امکانات کو روکنے کے لیے بھارت کے ساتھ دوطرفہ ہتھیاروں کے کنٹرول کے طریقہ کار پر مذاکرات اور بات چیت کےلیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔