عذرِ گناہ بدتر از گناہ
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 29 / جون / 2022
اس حقیقت کو منوانے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان کو وہ ذمہ داری کبھی نہیں اٹھانی چاہیے جس کی اس کے اندر صلاحیت یا استعداد نہ ہو۔ بصورت دیگر وہ ناکامی سے ہی دو چار نہیں ہوگا بلکہ اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی کئی نقصانات کا باعث بنے گا۔
کئی لوگ عہدے و ناموری یا مفادات کے لالچ میں ایسی حرکت کرتے ہیں اور جب منہ کی کھانی پڑتی ہے تو حجت بازی شروع کردیتے ہیں میں تو ٹھیک تھا بس میرے اوزار ٹھیک نہیں تھے۔ لوگ ٹھیک نہیں تھے۔ ایسے لوگوں کے لئے ہی یہ محاورہ ایجاد ہوا تھا ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا یا حجت گناہ بدتر از گناہ، یا من پاپی حجتاں ڈھیر۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ان دنوں ہمارے ایک سابق کرکٹر اور حالیہ دنوں حکومتی امور میں اناڑی ثابت ہونے والے ہینڈسم لیڈر اور اس کے ہمنواؤں کی ہے۔ علی بابا جان کے تازہ ارشادت پر تو ہم بعد میں آتے ہیں پہلے کچھ قوالوں اور ہمنواؤں کا اظہار خیال ملاحظہ ہو: ایک صاحب ہیں جو ماضی قریب میں رویت ہلال کے حوالے سے بڑی سائنسی و سائنٹیفیک باتیں کیا کرتے تھے۔ جنونیت کے بالمقابل بالعموم شعور کا بول بالا دیکھنے کے متمنی رہتےتھے آج اسی لئے میں فرما رہے ہیں کہ ’’پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ پلیئر ہے وہ کیسے نیوٹرل ہوسکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری پاکستانی سیاست میں اے پولیٹیکل نہیں بلکہ سیاسی کھلاڑی ہیں، پاکستان میں ہمیشہ رجیم چینج ان دونوں نے مل کر کی ہے اور یہ کہ اگر عسکری ادارہ نہ چاہتا تو ہماری حکومت نہ گرتی‘‘۔
ماقبل بھی وہ اس نوع کی تلخ نوائی کر چکے ہیں کہ باقی سب باتیں محض باتیں ہیں اصلی بات یہی ہے کہ ہماری ’’ان‘‘ کے ساتھ ان بن ہوگئی تھی ہم نے بہت کوششیں کیں کہ تعلقات ٹھیک ہو جائیں مگر کامیابی نہ مل سکی اس طرح ہم محرومِ تمنا ہو کر رہ گئے۔ ایک اور نورتن، اپنے تئیں نامی گرامی ماہر معیشت، جنہوں نے موجودہ معاشی بدحالی کی پہلی اینٹ استوار کی، فرماتے ہیں کہ ’’ آپ طاقت سے ملک بند تو کرسکتے ہیں چلا نہیں سکتے۔ طاقتوروں کے لئے یہ پیغام ہے کہ اب قوم بدل چکی ہے، آپ بھی بدل جائیں۔ امریکی کال پر بند کمرے میں بائیس کروڑ عوام کے فیصلے ہوں گے تو ملک نہیں چلےگا‘‘۔ ایک سابق خاتون وزیر جن کےبارے میں سیالکوٹی ن لیگی لیڈر نے انتہائی سخت الفاظ بولے تھے اور درویش نے ان کی مذمت کا فریضہ سرانجام دیا تھا آج ایک سیمینار میں فرما رہی تھیں کہ ’’ یہ سب کچھ امریکا کا کیا دھرا ہے امریکی ایجنڈا پاکستان توڑنا یا اسے کمزور کرنا ہے۔ امریکا نے ایران میں رجیم چینج کے لئے یہی سب کچھ کیا ہے، میڈیا اور حکومتی ارکان کو خریدا ہے۔ بالکل ویسا ہی طریق کار امریکا نے پاکستان میں اختیار کیا ہے‘‘۔
بہتر ہوتا اگر وہ اپنی بیٹی سے ہی کچھ سیکھ لیتیں۔ کچھ اسی نوع کے بیانات دیگر نو رتنوں کے بھی ہیں۔ طوالت سے بچتے ہوئے ہم سابق کھلاڑی کی طرف آنا چاہتے ہیں مگر پہلے یہ واضح رہے کہ یہ سب لوگ ذہنی طور پر کس قدر کنفیوز ہیں ان سب کی باہمی تضاد بیانی خود الزامات و بیانات سے واضح ہے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی اپنی صلاحیتوں کے فقدان اور کوتاہیوں کا ملبہ کس کس پر ڈالیں۔ ان کی نظروں میں ہر بندہ چور اور بکاؤ مال ہے، ارکان اسمبلی بھی بکے ہوئے ہیں اور پاکستانی میڈیا بھی امریکا کا زرخرید غلام ہے۔ بس وہی چند پوتر ہستیاں اتفاق سے پاکستان میں پیدا ہوگئی ہیں جو اپنے ’’تقریر ساز‘‘ لیڈر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ ہاں البتہ پنڈی کا ایک جہادی اور بھی ہے جس کے متعلق ہمارے موجودہ وزیر داخلہ کچھ نرم گرم الفاظ استعمال فرماتے رہتے ہیں اور وہ اپنے تئیں کایاں یا انتہائی شاطر ان دنوں اس قدر پریشان ہے، اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ دوبارہ گیٹ نمبر چار کے سامنے ہاتھ باندھے نیاز مندی کے ساتھ کھڑا رہے یا ’’نازی ازم‘‘ کا پرچار کرنے کسی پہاڑی کی طرف منہ کر جائے۔
ویسے کل تک کا بیانیہ یہی تھا کہ میں جم کر سیسہ پلائی دیوار بن کر پہاڑی کے ساتھ کھڑا ہوں گیٹ نمبر چار والے ناراض ہوں گے تو پاؤں پکڑ کر بعد میں انہیں منا لوں گا کہ آقا آپ ہی نے تو ادھر بھیجا تھا۔ اردو محاورہ ہے کہ چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ، یہاں میاں سے مراد وہ میاں صاحبان نہیں ہیں جنہوں نے تھیوری اور پریکٹس کے تفاوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی یا بیانیے کا ایسا توازن بنا رکھا ہے اور پوری طرح کوشاں ہیں کہ سانپ مرے نہ مرے لاٹھی ضرور تڑوا لی جائے۔ یہاں مطلوب و مقصود کرکٹر میاں ہیں جو ان دنوں اپنے لیڈران و کارکنان سمیت اس قدر کنفیوزو پریشان ہیں کہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے۔ جرأت رندانہ اتنی ہے کہ بہت کچھ بولنا چاہتے ہیں مگر کیا کریں جیل یاترا کا خوف اتنا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی چھپنے کےلئے محفوظ مقام یا پناہ گاہ کونسی ہوگی:
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
غصہ آتا ہے تو من چاہتا ہے کہ امریکا سمیت اس کے تمامتر حواریوں پر تابڑ توڑ حملے کئے جائیں بشمول اسٹیبلشمنٹ کسی کو نہ بخشا جائے۔ اس روا روی و جنوں میں یہاں تک کہہ جاتا ہے کہ ہم اپنا آئین توڑ کر ان کی خدمت کرتے رہے، سی آئی اے اور ایف بی آئی پاکستانیوں کو اٹھا اٹھا کر گوانتا ناموبے لے گئیں، ہمارے لوگوں نے ان سے پیسے کمائے، رمزی یوسف اور ایمل کانسی کو بیچا گیا، اگر ہم نے امریکا کی شرائط مانیں تو نظریۂ پاکستان دفن کرنا پڑے گا۔ بھٹو دور کے علاوہ ہم ہمیشہ امریکی غلامی کرتے رہے۔ جب غصے کا نشہ اترتا ہے تو یوٹرن میں الفاظ کا یہ بہاؤ تھم جاتا ہے۔ میں امریکا کا مخالف ہرگز نہیں ہوں، ہماری تو ساری برآمدات امریکا و یورپ جاتی ہیں، میں تو بس ٹشو نہیں بننا چاہتا ہوں۔ میں تو چاہتا ہوں ڈونلڈ لو نے جو مراسلہ بھیجا ہے اس کی زبان غیر اخلاقی ہے۔ اس سفارت کار کو ایسی جرأت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایسا غیر ذمہ دارانہ مراسلہ بھیجنے پر اسے سخت سزا ملنی چاہیے تھی اور ساتھ ہی پینترا بدل کر اپنی شان یا خودستائی شروع ہو جاتی ہے کہ ہم نے اس سفارت کار کے خلاف اس قدر احتجاج ریکارڈ کروا دیا ہے کہ آئندہ اسے یا کسی دوسرے سفارت کار کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ ہمیں اس نوع کا کوئی مراسلہ ارسال کرسکے۔
یہ ہے تمامتر سازش کی اصلیت یا ڈراپ سین۔ بندہ پوچھے یہ کیا بے پیندے کی ہانکی جا رہی ہیں۔ ایسے جیسے کسی کا بیانیہ ہی نہیں ذہن بھی ہل جائے۔ حضور آپ کا غصہ امریکا پر ہے، جوبائیڈن پر ہے یاتیسرے درجے کے سفارت کار ڈونلڈ لو پر؟ کیا آپ وہی نہیں ہیں جن کی ٹرمپ سے ایک ملاقات ہوگئی تھی تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ آج ایک مرتبہ پھر بانوے کا ورلڈ کپ جیت آیا ہوں۔ بے چارے معید یوسف نے کاوشیں تو بہت کیں اگربائیڈن کی ایک کال کروانے میں کامیاب ہو جاتے تو شاید تمام گلے شکوے ویسے ہی اس خوشی میں بدل جاتے۔ حقیقی آزادی یا غلامی کی بحث ہی اختتام پذیر ہو جاتی۔ آج آپ جن پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ غیر ملکی دہشت گردوں کو کیوں گوانتا ناموبے بھجوا رہے تھے، کیا آپ کویاد نہیں ہے اس وقت جو اس نوع کے سودے فرما رہے تھے تب ان کی ناک کا بال تو جناب ہی تھے۔ کیا ان کی شان میں قصیدے کل تک آپ ہی نہیں پڑھ رہے تھے؟
آج اتنی دور دور کی کوڑیاں لانے اور تمام طاقتوروں سمیت سب کو بکاؤ مال قرار دینے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اپنی ساڑھے تین سالہ بری کارکردگی پر ایک نظر ڈال کر 2013 کی طرح یہ تسلیم کرلیں کہ ہمیں 2018 میں بھی حکومت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ ہماری اس کے لئے قطعی تیاری نہیں تھی۔ دوسروں کو چور اور کرپٹ کہتے کہتے ہم خود انہی خصوصیات کے سزا وار ٹھہرے۔ ہم غربت، بے روزگاری اور بری حکمرانی کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے چکروں میں الجھے رہ گئے۔ یہاں تک کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ اپنے بلنڈرز یا کوتاہیاں تسلیم کرتے ہوئے اصلاح کا سوچنے سے یقیناً آپ سب کی نہ صرف یہ کہ کنفیوژن دور ہوگی بلکہ من کی شانتی بھی ملے گی۔