ہندو درزی کے قتل پر بھارتی شہر اودے پور میں کرفیو
- تحریر بی بی سی اردو
- جمعرات 30 / جون / 2022
اودے پور میں ڈراونا سا سناٹا ہے۔ علاقے میں ڈر ہے، خوف ہے۔ ہر جگہ پولیس موجود ہے اور سب دکانیں بند ہیں۔ شہر میں اس وقت کرفیو نافذ ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
اس وقت یہاں اکثریتی ہندو اور اقلیتی مسلمان لوگوں کے درمیان تناؤ کافی واضح ہے جو اس گنجان آبادی والے شہر میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ کنہیا لال کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس دوران بھی نہایت سخت سکیورٹی تھی۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کو نہیں لگتا تھا کہ اودے پور میں ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ کیمرا پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں لیکن جن لوگوں نے ہم سے بات کی، اس سے یہ بات واضح تھی کہ سوسائٹی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہے۔ جے پال ورما مارکیٹنگ ایگزیکٹیو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ہندو اکثریتی ملک میں رہتے ہیں اس لیے یہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہوں گا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔‘
یہاں کی آبادی کا بیشتر حصہ اچانک کرفیو کے لیے تیار نہیں تھا اور اسی لیے اب اکثریت کو روز مرہ کی بنیادی اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی مکیش گردیا کہتے ہیں کہ دیہاڑی دار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لوگ ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں سامان کے لیے۔ آج صبح امتحان بھی ہونا تھا تو باہر سے آنے والے طالب عملوں کو ناشتے کے لیے کچھ نہیں ملا۔ جو بھی ہوا وہ بہت بڑا صدمہ ہے۔
حالیہ چند مہینوں میں راجستھان سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی خبریں پہلے سے زیادہ آرہی ہیں۔ پہلی خبر کرولی سے آئی، جہاں 2 اپریل کو نئے سال کے موقع پر ہندو تنظیموں نے بائیک یاترا نکالی جس میں 22 افراد زخمی ہوئے۔ دوسری بار 3 مئی کو عید کے موقع پر جودھ پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھی گئی۔ یہ سارا تنازعہ جھنڈوں اور لاؤڈ سپیکر کو ہٹانے سے شروع ہوا جس کے بعد بات کرفیو کے نفاذ تک جا پہنچی۔ اس میں تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد الور میں بھی کشیدگی کی صورتحال تھی اور اب اودے پور میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا جس کے بعد سے علاقے میں کشیدگی ہے۔
کچھ ماہرین ان تمام واقعات کو الگ الگ نہیں بلکہ جوڑ کر دیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے چند رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس قتل کے خلاف دارالحکومت دلی میں مارچ کریں گے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ ان کو ’اس قتل سے بہت صدمہ پہنچا۔‘ انہوں نے حملہ آوروں کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈیا کی چند ممتاز مسلمان تنظیموں نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔ آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈین قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ ایک بیان میں آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ’کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور کسی کو بھی مجرم قرار دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ یقیناً ایک انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔‘