وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب: منحرف ارکان کو ہٹا کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم

  • جمعرات 30 / جون / 2022

لاہور ہائی کورٹ نے 16 اپریل کو ہونے والے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے منحرف اراکین کے ووٹ شمار کیے بغیر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرانے کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت کی۔ لارجر بینچ میں جسٹس صداقت علی خان کے علاوہ جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس شاہد جمیل خان شامل تھے۔

سماعت کے بعد جاری کردہ مختصر حکم نامے میں لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ 16 اپریل کو ہونے والے الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی منحرف قانون سازوں کے 25 ووٹوں کو چھوڑ کر کی جائے۔ اگر حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کرسکے تو آرٹیکل 130(4) کے تحت الیکشن دوبارہ کرایا جائے گا حتی کہ کہ عہدے کے لیے موجود کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہو۔

فیصلے میں کہا گیاہے کہ آرٹیکل 130(4) کے مطابق ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کسی رکن کو 186 ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے صرف موجودہ اراکین اور ان کے ووٹوں میں سے اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعتوں کے دوران عدالت نے 16 اپریل کے حالات تناظر میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا۔

واضح رہے کہ 16 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ ان کو منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ 186 ووٹوں سے 11 ووٹ زیادہ ملے تھے۔

حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں ووٹ دینے والوں میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین بھی شامل تھے۔