وزارت انسانی حقوق اکیلے لاپتہ افارد کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی: وفاقی وزیر

  • جمعہ 01 / جولائی / 2022

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے اتوار کو جاری کیے گئے اپنے اس بیان کی تردید کی ہے کہ حراست میں لیے گئے کچھ لاپتا افراد بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو یا کچھ پڑوسی ممالک سے رابطے میں تھے۔

 ڈان نیوز کو حالیہ انٹرویو میں دیے گئے اپنے ریمارکس کی وضاحت کرتے ہوئے ریاض پیرزادہ نے کہا کہ ان کا یہ کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے معاملے کو ان کی وزارت اکیلے حل نہیں کر سکتی کیونکہ یہ تفتیشی اتھارٹی نہیں ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ لاپتا افراد سے متعلق بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں میں زیر غور ہے تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزارت کے سیکریٹری پہلے ہی کسی بھی پینل میں بل کے زیر بحث ہونے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر چکے ہیں۔

ایک حالیہ اجلاس کے دوران سیکریٹری نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت ایسے کسی بھی بل کے بارے میں لاعلم ہے بلکہ وزارت داخلہ اور پارلیمانی امور سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کا پتا لگائیں۔

ڈان نیوز کو دیا گیا ریاض پیرزادہ کا انٹرویو متنازع ریمارکس پر مشتمل ہے جس میں وزیر نے واضح طور پر کہا تھا کہ کچھ لاپتا افراد یادیو یا پڑوسی ممالک سے رابطے میں تھے۔ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نے لاپتا افراد کے معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک بل اور تجاویز پارلیمنٹ کو بھجوائی تھیں اور اب یہ پارلیمانی کمیٹیوں میں زیر بحث آنے کے باوجود وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ وزیر نے امید ظاہر کی کہ کمیٹیاں جلد ہی اپنی بات چیت مکمل کر لیں گی اور اس سلسلے میں کسی غیر ملکی ایجنڈے پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ سابق وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ڈان نیوز کو بتایا کہ انہوں نے لاپتا افراد کے بل کا معاملہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا تھا۔ مجھے انہیں اس بات پر قائل کرنے میں تین سال لگے کہ لوگوں کو اٹھانے کا عمل ختم ہونا چاہیے۔