دنیا کی محض 15فیصد آبادی کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے: رپورٹ

  • ہفتہ 02 / جولائی / 2022

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم آرٹیکل  نے 19 ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کے صرف پندرہ فیصد ملکوں میں آزادانہ طور پر معلومات حاصل کرنے کے علاوہ اُسے شیئر لرنے کی بھی آزادی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی اس فہرست میں تنزلی ہوئی ہے اور ان کا شمار ایسے ممالک میں کیا گیا ہے جہاں پہلےاظہار کی آزادی محدود تھی تو اب انتہائی محدود ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین، روس اور میانمار جیسی آمرانہ اقوام کے علاوہ بھارت اور برازیل جیسے جمہوری ممالک سمیت ،دنیا بھر کی اسی

 فیصد آبادی ایک دہائی پہلے کی نسبت کم آزادیِ اظہار رکھتی ہے۔ گلوبل ایکسپریشن رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آمرانہ حکومتیں اور حکمران، اِس حوالے سے اپنا سخت کنٹرول مزیدبڑھا رہے ہیں۔ ایسے حکمرانوں کی مثال دیتے ہوئے رپورٹ نے برازیل کے صدر ژائیر بولسونارو، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ذکر کیا۔ چینی حکومت پر خصوصی تنقید کرتے ہوئےکہا گیا ہے کہ وہ لاکھوں افراد کی شناخت، معلومات اور آرا پر حتمی اختیار قائم کئے ہوئے ہے۔ 

ملکوں کی درجہ بندی میں اِس سال ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں۔ ہیں۔ناروے ، سویڈن  اسٹونیا اور فن لینڈ کو نمایاں پوزیشن دی گئی ہے۔  بدترین رینکنگ میں شمالہ کوریا سر فہرست ہے۔ اس کے بعد شام، اریٹیریا اور ترکمنستان کا نمبر آتا ہے۔

 رپورٹ میں پاکستا ن اور بھارت کو انتہائی محدود آزادیِ اظہار کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔