لاہور میں سینئر صحافی ایاز امیر پر نامعلوم افراد کا حملہ

  • ہفتہ 02 / جولائی / 2022

لاہور میں سینئر صحافی ایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے پر حملہ کرکے انہین زدو کوب کیا گیا۔ حملہ آور ان کا موبائل اور پرس بھی چھین کر لے گئے۔

نجی ٹی وی 'دنیا نیوز' سے منسلک سینئر صحافی ایاز امیر نے بتایا کہ آج ہم پروگرام کے بعد نکلے تو ایک گاڑی نے بڑے عجیب طریقے سے میری گاڑی کو روکا، ایک آدمی نے کورونا والا ماسک پہن کر ڈرائیور کو جھپٹ لیا۔ ہم نے کھڑکی کے شیشے نیچے کیے کہ یہ گاڑی ایسے کیوں چلا رہا ہے۔

میں اس سے تکرار کر رہا تھا کہ تم کون ہو تو دو آدمی میری طرف آئے اور مجھے مارا اور کھینچ کر زمین پر گرا دیا۔ سڑک پر رش ہوتا ہے تو وہاں پر لوگ اکٹھا ہو گئے، میرا پرس اور موبائل جو سامنے پڑے ہوئے تھے وہ بھی لے گئے۔ ٹوئٹر پر تصاویر گردش کر رہی ہیں، جس میں وہ اپنی کار میں بیٹھے ہیں جبکہ ان کی قمیض پھٹی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایاز امیر کی جانب سے ایک سیمینار میں خطاب کے بعد یہ واقعہ پیش آیاہے۔ اس سیمینار میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی موجود تھے۔ سیمینار اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا جس کا موضوع ' رجیم چینج اینڈ اٹس فال آؤٹ آن پاکستان' تھا۔

اایاز امیر کی تقریر کے جو حصے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اور سینئر صحافیوں کی جانب سے اس کو شیئر کیا گیا، ان میں ایاز امیر پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کر رہے تھے جبکہ وہ عمران خان کو ان کے دور میں کی گئیں غلطیوں کی بھی نشاہدی کر رہے تھے۔

ایاز امیر پر حملے کی اطلاعات کے فوراً بعد عمران خان نے سینئر صحافی پر پُرتشدد حملے کی شدید مذمت کی۔ عمران خان نے ٹوئٹ میں کہا کہ صحافیوں، اپوزیشن اور شہریوں کے خلاف تشدد اور جعلی ایف آئی آرز کے ساتھ پاکستان بدترین فسطائیت کی طرف جا رہا ہے۔ جب ریاست اخلاقی اختیار کھو دیتی ہے تو وہ تشدد کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے سینئر صحافی و کالم نگار ایاز میر پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لے کر انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی اور احکامات دیے ہیں کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ ایاز میر پر تشدد کے واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے، ایاز میر پر تشدد کا واقعہ قابل مذمت ہے۔

صحافیوں، وکلا ، سیاست دانوں اور سول سوسائٹی نے ایاز امیر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی عندلیب عباس نے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ سچائی کو کچلنے کی بری کوشش ہے۔ سینئر صحافی مظہر عباس نے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ سینئر صحافی کامران خان نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کرنے والوں کو مار کر خاموش کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت آزادی اظہار پر پابندی لگادے۔