اسحاق ڈار بھی شوق پورا کرلیں

سیانوں کے بقول وہم  کا علاج تو  حکیم لقمان کے پاس بھی نہ تھا۔ کچھ ایسا ہی  مسئلہ  خوش فہمی کے ساتھ بھی ہے۔ جسے لاحق  ہو جائے اسے ساون سمیت سال بھر ہرا ہی  نظر آتا ہے۔ حکومت میں ہوں تو اپنے عقلِ کل ہونے  کی خوش فہمی،  حکومت  میں نہ ہوں تو یہ خوش فہمی کے  عوام انہیں صبح شام یاد کرتے ہوں گے۔

  ہاں کچھ   وبال اگر جنجال بھی تھے تو  اس میں ان کا  کیا قصور، سب کو معلوم  ہے کہ  ٌ  وہ   ٌ  بے قصور تھے۔  ایسی ہی ایک خوش فہمی کا تذکرہ حال ہی میں  نظر سے  گزرا۔ پاکستان کیوں دو لخت ہوا؟ وجوہات جاننے کے لئے حمود الرحمان کمیشن قائم ہوا۔  اس سانحے کے مرکزی کردار یحییٰ خان  کھاریاں کے ایک بنگلے میں نظر بند تھے۔ انہیں راولپنڈی میں کمیشن کے سامنے  پیش کرنے اورواپس لانے کی سیکیورٹی  کی ذمہ داری ایک نوجوان پولیس آفیسر  سردار محمد چوہدری کی تھی جو بعد میں  صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل بنے۔ انہوں نے  اپنی یادداشتوں پر مشتمل  ایک  کتا ب جہانِ حیرت میں اس  سلسلے میں رونما ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کچھ یوں کیا ہے: یحییٰ خان  کو کمیشن کے سامنے پیش کرنے  کی غرض سے لانے اور لے جانے کے لئے مجھے دو کاریں  اور ایک ہیلی کاپٹر دیا گیا تھا۔ ہم صبح سویرے بذریعہ ہیلی کاپٹر پنڈی لاتے اور شام کو واپس لے جاتے تھے۔ آخری دن اس نے ہیلی کاپٹر میں سفر سے انکار کر دیا اور بذریعہ سڑک جانے پر اصرار کیا۔یحییٰ خان راستے میں کہنے لگا: مجھے راولپنڈی لے چلو، میں اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا: یہ ناممکن ہے۔ کیوں؟ اس نے بڑے تند لہجے میں سوال کیا۔  ٌ اس لیے کہ لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا تھا وہ آپ کی تکا بوٹی کر دیں گے ٌ۔ ٌ لوگ میرے خلاف کیوں ہوں گے؟ اس افسوسناک واقعے کے ذمہ دار سیاستدان تھے، میں نہیں۔  ٌ میں نے دوبارہ نرمی سے سمجھایا ٌ عوام ایسی باریکیوں کو نہیں سمجھتے، وہ عام طور پر بے خبر ہوتے ہیں  ٌ۔

 اسی دوران گاڑی سہالہ کے ریلوے پھاٹک پر رک گئی۔ کچھ لوگوں نے اس  ویران جگہ میں بھی اسے پہچان لیا، اس کے بعد میں نے دیکھا  کہ ہماری کار کو پتھر مارے جا  رہے  تھے۔ خوش قسمتی  سے وہ پھاٹک جلد  ہی کھل گیا اور ہم نے  بھگوڑوں کی طرح کار  تیزی سے بھگا دی۔  یحیٰ خان کا رنگ فق ہوگیا اور بری طرح کانپنے لگا جیسے اس کا دم نکل رہا ہو۔ اس حالت پہ  میں نے اسے کہا: آؤ راولپنڈی چلیں۔ اس نے فی الفور جواب دیا: نہیں، ہمیں کھاریاں واپس چلنا چاہئے ۔

یہ واقعہ ہمیں میڈیا  کی پیالی میں گزشتہ چند دنوں سے اٹھے طوفان سے یاد آیا۔ ن لیگ کی سربراہی میں یہ حکومت بنی تو یہ دعویٰ شد و مد سے میڈیا میں جگہ پانے لگا کہ اسحاق ڈار  نے اپنی زنبیل کھول لی ہے اور اپنے نسخہ ہائے معیشت لکھنا اور لکھانا شروع کر دئے ہیں۔ لندن میں ہونے والی بیٹھکوں سے واقف ایک دوست  نے یہ  پیشین گوئی بھی سنائی کہ اسحاق ڈار روپے کی شرح مبادلہ کو 160 روپے تک لے  آئیں گے، واضح رہے  کہ اس وقت  عدم اعتماد کے دوران روپے کی یہ شرح 185 تھی۔ پھر کیا ہوا، سبھی کو معلوم ہے۔

اسحاق ڈار ن لیگ کے معاشی جادوگر کے طور پر پہچانے جاتے رہے۔ اس شناخت کو مزید پختگی سمدھیانے تعلق  کی بنا پر بھی ملی۔ ن لیگ کے پچھلے دور میں  اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں کو ان کے بہی خواہوں نے  ڈار اکنامکس کا نام دیا۔ اُس دور میں ن لیگ کے معاشی ترقی کے سب دعوے اسی شناخت پر استوار ہیں۔  بہت سے ناقدین نے البتہ اس وقت بھی انہیں  چیلنج کیا کہ کواکب جو نظر آ رہے ہیں ویسے ہیں نہیں۔  روپے کی شرح کو غیر حقیقی طور پر جامد  رکھ کر امپورٹس کی بالواسطہ  سہولت کاری کی گئی جس کا نتیجے میں  کی حکومت تاریخی تجارتی خسارہ چھوڑ کر گئی۔ ایکسپورٹس 2013 میں 25 ارب ڈالرز تھیں جو 2017 میں گر کر 22 ارب ڈالرز رہ گئیں۔

ماہرین کے بقول جی ڈی پی میں  گروتھ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت   میں اضافے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ تصرف  کے فلڈ گیٹ کھولنے کے سبب تھی،   جس کا فوری نتیجہ  بیرونی بجٹ خسارے، تجارتی خسارے اور  قرضوں  میں اضافے کی صورت میں رونما ہوا۔ عمران خان اسی ملبے کا رونا روتے تھے کہ  ن لیگ اتنے بڑے بڑے چھید معیشت کی جھولی میں چھوڑ کر گئی۔  اسی ملبے کو سنبھالنے کی کوشش میں ان کے معاشی جادوگر اسد عمر بھی اپنی مہارت کا جادو گنوا بیٹھے۔   2013 اور 2022 کے درمیان معیشت اور عالمی  مواقع کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ ن لیگ کی حکومت چار ووٹوں اور اتحادی ناز برداریوں کی محتاج ہے نہ کہ ماضی کی دبنگ اکثریت پر کھڑی ہے۔ سی پیک کا  یک بارگی چھکا بھی لگ چکا جس کے نتیجے میں چار سالوں میں بیس ارب ڈالرز سے زائد قرضوں یا کچھ قلیل حصہ سرمایہ کاری کے طورپر آیا۔ اب تو چینی کمپنیاں شاکی ہیں کہ ان کی ادائیگیاں  سست روی کا شکار ہیں۔

 ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری دوستی اب کارگزاری کی تپش سے گزر کر احتیاط سے دامن گیر ہے۔   یہ عیاشی بھی شاید اب کی بار  حاصل نہ ہو کہ ایک بہی خواہ  بیوروکریٹ  کو گورنر اسٹیٹ بنک مقرر کرکے حکومت اور اسٹیٹ بنک کو ون پیج پر لایا  جا سکے۔ عالمی مارکیٹ میں روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے انرجی اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں تقریبا دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ روپے کی جو شرح مبادلہ 160  پر لانے کا عندیہ تھا وہ اب دو سو سے بھی اوپر ہے اور اپنی امان کے لئے آئی ایم ایف سے پروگرام کی منظوری کا منتظر ہے۔

 اسحاق ڈار ضرور تشریف لائیں، اپنی معاشی جادوگری کے جوہر دکھائیں، لندن بیٹھے ان کی بے چینی کو بھی چین آ جائے گا مگر شاید اب کی بار نہ آسمان 2013 کی طرح مہربان ہے اور  نہ  زمین  موافق ہے۔