درآمدات میں اضافہ، ملک کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • اتوار 03 / جولائی / 2022

پاکستان کا تجارتی خسارہ 48 ارب 66 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اضافہ کی وجہ توقع سے زیادہ درآمدات ہیں جن میں 57 فیصد اضافہ ہؤا۔

 مئی میں 800 سے زائد اشیا کی درآمدات پر پابندی کے باوجود تجارتی خسارہ خطرناک حد تک پہنچ گیا۔ تجارتی فرق کے خلاف اتحادی حکومت کی کوششیں مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں جو کہ ایک سال پہلے کے 3 ارب 66 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں جون کے دوران 32.3 فیصد بڑھ کر 4 ارب 84 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جس کی بڑی وجہ برآمدات کے مقابلے درآمدات میں تقریباً دگنا اضافہ تھا۔

ختم ہونے والے مالی سال کا تجارتی خسارہ سال 18-2017 کے 37 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی وجہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق درآمدات سے تھی۔ مالی سال کے تجارتی خسارے کو بین الاقوامی منڈی میں تیل اور اشیا کی قیمتوں میں اب تک کے سب سے زیادہ اضافے نے بڑھایا۔

عالمی سطح پر اجناس کی قیمتیں بڑھنے کے باعث درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جبکہ برآمدات تقریباً ڈھائی ارب ڈالر سے 2 ارب 80 کروڑ ڈالر ماہانہ پر رک گئی ہیں جو زیادہ تر نیم تیار شدہ مصنوعات اور خام مال پر مشتمل ہیں۔

مئی میں تجارتی خسارہ 4 ارب 4 کروڑ ڈالر اور اپریل میں 3 ارب 78 کروڑ ڈالر رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سابق وزیراعظم عمران خان کو اپریل میں پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے معزول کیا گیا تو ماہانہ خسارے میں کوئی کمی نہیں آئی۔