کیا سیاسی تماشہ بند ہوسکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 04 / جولائی / 2022
پاکستان کا سیاسی و ریاستی بحران ایک بند گلی میں ہے۔ ان میں ایک بڑی وجہ ملک میں تمام فریقین کے درمیان جاری سیاسی دنگل ہے۔ یہ سیاسی تماشہ مسائل کے حل کی بجائے مسائل کے بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔
فریقین کے سامنے ریاست، ملک، سیاست یا جمہوریت سمیت آئین کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات ہیں۔ اسی بنیاد پر ملک میں فریقین کے درمیان بداعتمادی او رٹکراؤ کی سیاست کا غلبہ نظر آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس سوچ اور فکر کو طاقت نہیں مل رہی ہے کہ ہم بطور ریاست درست سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔مسائل کا پیداہونا فطری امر ہوتا ہے او رجیسے جیسے نظام چلتا ہے تو مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں او رمسائل کا متبادل حل بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت سے گزررہے ہیں اور اس میں مفاہمت کی سیاست کی گنجائش نہیں ہے۔
حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار یا طاقت کے دیگر مراکز جب سیاست، جمہوریت، آئین اور قانون کے مقابلے میں اپنے اپنے مفاداتی فریم ورک میں کام کریں گے تو بگاڑ کا پیدا ہونا فطری ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں سب فریق اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کاموں میں مداخلت اپنا حق سمجھتے ہیں۔اس پورے کھیل میں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارا یہ رویہ اور طرز عمل ملک میں سیاست اور جمہوریت سمیت ادارہ جاتی نظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ جب تمام فریقین خود کو قانون کے تابع نہیں کرنا چاہتے تو کیسے ملک کے سیاسی، سماجی، معاشی، انتظامی او رقانونی نظام کو چلایا جاسکتا ہے۔ تمام فریقین کی سطح پر ہونے والے فیصلوں کو دیکھیں تو ان میں واضح طور پر تضادات کی سیاسی سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر بہت زیادہ سیاسی ہوگئے ہیں او رہر کام میں یا تو سیاست کرتے ہیں یا اس میں سے اپنا سیاسی مفاد کو تلاش کرنا ہماری مجبوری بن چکی ہے۔ سیاسی فریقین خود اپنے سیاسی فیصلے کرنے کی بجائے معاملات کو خود ہی عدالتوں کی طرف لے جاتے ہیں اور عدالتوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ سیاسی فیصلوں میں فریق بنیں۔ عدالتی فیصلوں میں بھی ہم کو ایسی ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔اگر معاملات عدالتوں میں حل نہیں ہوتے یا نہیں لائے جاتے تو ایک شکل ہمیں اسٹیبلیشمنٹ پر بڑھتا ہو ا انحصار دیکھنے کو ملتا ہے۔اس لیے سیاست، عدالت او راسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ہمیں آنکھ مچولی کا جوکھیل دیکھنے کو ملتا ہے وہ حالات کو ٹھیک کرنے کی بجائے اور زیادہ خراب کرتا ہے۔
اس وقت پاکستان کے حالات ایک بڑے ڈیڈ لاک کی سیاست کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ حالات طاقت کے مراکز میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حکومتی اتحادی حکومت ایک طرف جبکہ دوسری طرف عمران خان حکومت مخالف تحریک میں ایک توانا آواز کے طو رپر تنہا کھڑے ہیں۔عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کے عمل نے ملک کے تمام اہم فریقین میں ٹکراؤ پیدا کیا ہے۔رجیم چینج کے معاملات نے ہمارے حالات کو درست کرنے کی بجائے خراب کردیا ہے۔جو سمجھا جارہا تھا تمام تبدیلی کا عمل ملک کو آگے کی طرف لے کر جائے گا، غلط ثابت ہورہا ہے۔ وجہ صاف ہے کہ جو بھی حکومت کی تبدیلی کا اسکرپٹ لکھا گیا اور جو بھی اس کے کردار تھے سب کی حکمت عملی ناکام ہوئی ہے۔ جو نتیجہ اخذ کیا گیا او رجس پر یہ سارا سیاسی مینار سجایا گیا وہ سیاسی طو رپر اپنی اہمیت قائم نہیں کرسکا۔ وجہ صاف ہے کہ مہم جوئی کے اس کھیل نے ہمیں سیاسی طور پر بھی اور ریاستی محاذ پر بھی تنہا کردیا ہے۔ اس کے باوجود ہم ماضی کی سیاسی غلطیوں یا تجربات سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔
اس کھیل کو اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے جب سب قانون کی حکمرانی پر متفق ہو ں کیونکہ قانون کی حکمرانی کا تصور ہی ملک سے سیاسی تماشوں یا سیاسی مہم جوئی کہ کھیل کو کسی بھی سطح پر پزیرائی نہیں مل سکے گی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس بنیادی نکتہ پر سب فریقین کیسے متفق ہوں گے۔ اگر واقعی ہم نے مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں قومی سطح پر سیاسی مفاہمت اور فریم ورک پر اتفاق کرنا ہوگا۔اصولی طور پر تو یہ کام سیاسی فریقین کو مل کر کرنا ہے او راس کے لیے ان کو آپس میں مکالمہ اور حتمی ایجنڈے پر پہنچنا ہوگا مگر اب یہ کھیل محض سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں طاقت کے مراکز بھی فریق ہیں۔ اس لیے ہمیں مسائل کے حل کے لیے گرینڈ مکالمہ درکار ہے۔
مفاہمت کا عمل اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب سیاسی ڈیڈ لاک یا بداعتمادی کے ماحول کو تبدیل کیا جائے۔ سیاسی اختلاف نے جو سیاسی دشمنی کی شکل اختیار کرلی ہے اس سے اپنی جان چھڑانا ہوگی۔ سیاسی ماحول میں تناؤ اور ٹکراؤ کا خاتمہ قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ محاز آرائی کے کھیل نے سیاست او رجمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے او راس محاز آرائی کا ایک او ربڑا نتیجہ سیاسی و معاشی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
اسی طرح ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس کھیل میں سب سے زیادہ فرق قومی سیاست یا ریاستی مفادات سے جڑے معاملات پر پڑتا ہے۔ بظاہر ایسے لگتا ہے کہ ہم سب نہ صرف غیر سنجیدہ ہیں بلکہ مسائل کے حل میں ہم خود بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اس کھیل میں سب سے اہم کردار رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد او راداروں کا ہوتا ہے۔جب تک اہم فیصلہ ساز اداروں او رافراد پر سیاسی دباؤ کی کیفیت کو پیدا نہیں کیا جائے گا تو ہمارا سیاسی قبلہ درست نہیں ہوگا۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔اس میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خود رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا ادارے بھی سیاسی طاقتوں کے فریق بن کر حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ سیاست کی سطح پر یہ کھیل اسی صورت میں درست سمت میں چلے گاجب ہم سب فریقین اپنا اپنا احتساب کریں اور اپنی ترجیحات کو ازسرنو تبدیل کریں۔ پاکستان کے داخلی، علاقائی یا خارجی حالات ہم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ حالات کو جس انداز سے چلایا جارہا ہے وہ ملک کے لیے درست نہیں۔ حالات کا تقاضہ ہے ہم اپنے طور طریقے تبدیل کریں او رملک کو اس انداز میں چلائیں جو قومی سیاست، جمہوریت اور آئین سمیت قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔
اہل سیاست اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس وقت لوگ واقعی حالات سے مایوس ہیں او ران کو آگے بڑھنے کے لیے امید کی سیاست درکار ہے۔ ان کو یہ یقین دہانی چاہیے کہ اہل سیاست اپنے اپنے مفادات سے زیادہ خود کو عوامی مفادات کے لیے پیش کریں۔ اگر ریاستی نظام میں ریاست، حکومت اور عام آدمی کا مقدمہ کمزور ہوجائے تو اس کا براہ راست اثر ریاستی نظام کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب اس ملک میں جاری سیاست کا کھیل بند ہوگا اور عوامی مفادات پر مبنی سیاست کو نمایاں حیثیت دی جائے گی۔