جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو ایبے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے

  • جمعہ 08 / جولائی / 2022

جاپان کے سابق وزیرِ اعظم شنزو ایبے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان پر حملہ کے بعد ان کی حالت تشویش ناک بتائی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شینزو ایبے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں نارا شہر میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ حملے کے بعد پولیس نے ایک مشکوک شخص کو بھی جائے وقوعہ سے حراست میں لے کر اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

ایک عینی شاہد خاتون نے نشریاتی ادارے 'این ایچ کے' کو بتایا کہ شنزو ایبے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص ان کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ مبینہ طور پر اسی شخص نے تین فائر کرکے ایبے کو شدید زخمی کردیا۔ حملے میں ایبے بے ہوش ہوگئے۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا اور چند گھنٹے بعد ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔ 

شنزو ایبے کی حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ذرائع نے جی جی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جس وقت شنزو ایبے زمین پر گرے ان کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔ وزیرِ اعظم فومیو کیشیدا نے ایبے کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیا۔ فومیو کیشیدا واقعے کے بعد اپنی انتخابی مہم ادھوری چھوڑ کر واپس دارالحکومت ٹوکیو پہنچ گئے ہیں جہاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے شینزو ایبے پر حملے کو وحشیانہ قرار دیا اور کہا کہ سابق وزیرِ اعظم پر حملہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔

مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کو جس وقت زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اس وقت وہ سانس نہیں لے رہے تھے اور ان کا دل بھی نہیں دھڑک رہا تھا۔ اس وقت بھی ان کے بچنے کی امید نہیں تھی۔ 

واضح رہے کہ شنزو ایبے جاپان کی تاریخ میں سب سے طویل مدت تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہنے والے سیاست دان ہیں۔ پہلی مرتبہ انہوں نے 2006 میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور ایک سال تک اس عہدے پر رہے جس کے بعد وہ 2012 سے 2020 تک اس منصب پر براجمان رہے۔

2020 میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران اس سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر شنزو ایبے تنقید کی زد میں تھے اور ان کی مقبولیت کے گراف میں بھی کمی واقع ہوئی تھی۔

وہ آنتوں کے ورم کے مرض میں بھی مبتلا تھے اور ان کی طبیعت میں اچانک خرابی کے بعد کابینہ میں شامل حکام اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے کہا تھا کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے وزیرِ اعظم شنزو ایبے کی طبیعت خراب ہے اور انہیں آرام کی ضرورت ہے۔  28 اگست 2020 کو شنزو ایبے نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔