دس لاکھ زائرین نے حج ادا کیا

  • جمعہ 08 / جولائی / 2022

دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج آج حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔ زائرین نے رات منیٰ میں قیام کیا اور نماز فجر کے بعد عازمین میدان عرفات روانہ ہوئے۔

رواں سال 10 لاکھ افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان 10 لاکھ افراد میں بیرون ملک سے آنے والے 8 لاکھ 50 ہزار عازمین حج بھی شامل ہیں جبکہ گزشتہ 2 سال کے بعد وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے حج کی ادائیگی کے لیے آنے افراد کی تعداد بہت بڑی حد تک کم ہوگئی تھی۔

حج کا خطبہ دیتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تعلیم دی ہے۔ حقیقتاً حج کا زاد راہ تقویٰ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں۔  تقویٰ توحید سے آتا ہے جس کی دعوت نبی اکرمﷺ سمیت تمام انبیا کرام لے کر آئے۔ اللہ رب العالمین سے ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تمہارے سب معاملات اللہ کے علم میں ہیں اور یہ بات ذہن نشین رکھو کہ اگر تم اللہ کا ڈر اور خوف اپنے دل و دماغ میں قائم رکھو گے تو اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔ توحید اسلامی عقائد میں بنیادی جزو ہے۔ اے لوگوں اللہ رب العزت کی عبادت کرو کہ وہ تمہارا پروردگار اور تمہارا پیدا کرنے والا ہے اور تمہیں رزق دینے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہی وہ دعوت ہے جسے تمام انبیا کرام لے کر آئے، ہر نبی نے یہی دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے، ہر نبی نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی حتیٰ ہمارے نبیﷺ نے بھی توحید کی تعلیم دی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہیں دنیا کی کوئی بھی تکلیف پہنچے، وہ تکلیف بھی اللہ کی طرف سے ہے، جب تم اس تکلیف میں پڑ جاتے ہو تو اللہ رب العزت ہی تمہیں اس تکلیف سے نجات دلاتا ہے، کوئی اور نہیں جو تمہاری تکالیف کو دور کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے خود فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دینا، کلمہ طیبہ پڑھنا، نماز پڑھنا، ذکوٰۃ دینا،، حج کرنا اور روزہ رکھنا اور حقیقت یہ ہے کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ پاؤ تو روزے رکھا کرو، جب حج کا مہینہ آئے تو حج کریں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک کلام میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے استطاعت رکھنے والے تمام اہل ایمان پر حج فرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حج جاتے ہوئے میہنوں میں ادا کیا جاتا ہے اور حج یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا ربط نہ کای جائے، کوئی فسق و فجور کی بات نہ کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ حج کا زاد راہ تقویٰ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق یہ ہے کہ اس کا خون اس پر حرام ہے۔ اس کی عزت و حرمت اس پر حرام ہے لہٰذا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ انتہائی اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آئے اور کسی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے آپس میں رنجشیں اور چپقلش پیدا ہو۔

خطبہ کے بعد ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے دعا کرائی اور پھر عازمین نے مسجد نمرہ میں نماز ظہر اور عصر ادا کی۔