حج قربانی اور عید پر کچھ مغالطے؟

سب سے پہلے تمام اہل وطن کو پیشگی عید مبارک اور حجاج کرام کو حج اکبر مبارک، اگرچہ بشمول سعودی عرب دنیا کے بیشتر اسلامی یا غیر اسلامی ممالک میں آج عید الاضحی منائی جا رہی ہے لیکن مفتی پوپلزئی کی کاوشوں کے باوجود ہم پاکستانی انڈیا اور بنگلہ دیش کے ساتھ کل عید منائیں گے۔

سمجھنے والوں کے لئے اس رمز میں علاقائی یکجہتی کا کتنا بڑا نکتہ یا اشارہ پنہاں ہے۔ ہم لاکھ خود کو عربستان سے نتھی کریں لیکن قدرت اور فطرت ہمیں یعنی جنوبی ایشیا کے باسی مسلمانوں کو ہمیشہ ہندوستان اور اس سے ملحق و وابستہ خطوں سے جوڑ کر ہی رکھتی ہے۔ ہمارے قومی شاعر و مفکر علامہ اقبال تادمِ مرگ خود کو ’’ہندی مسلمان‘‘ ہی کہتے کہلواتے رہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو یہ درویش کلام اقبال سے اس کے بیسیوں نمونے پیش کرسکتا ہے۔ اسی طرح جناح صاحب کی تقاریر سے بھی اس مسلم اکثریتی خطے کے لئے درجنوں مرتبہ

’مسلم انڈیا‘ کی اصطلاح یا الفاظ ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔

عرض مدعا یہ ہے کہ گاؤ ماتا کی قربانی کے باوجود ہماری جتنی فطری قربت و ہم آہنگی اس خطے کے باسیوں یا ہمجولیوں سے ہے اتنی بے تکلفی عربوں سے نہیں ہے۔ اس کے دلچسپ مظاہر یہ درویش بارہا دبئی، ابوظہبی اور دوہا میں اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرکے آیا ہےاور مزاح میں وہاں بسنے والے اپنے پاکستانی بھائیوں سے پوچھا ہے کہ آپ کو تو یہ کہا گیا تھا کہ ہندو اور مسلمان کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے تو پھر دیار غیر میں آکر تم لوگ اپنے عرب بھائیوں کی بجائے اپنے ان انڈین ہندو بھائیوں سے کیوں شیر و شکر یا گھی شکر اور کھچڑی بنے ہوئے ہو؟ اس پر وہ اپنے عربی بھائیوں کو دو چار صلواتیں بھیجتے ہوئے انڈین کافروں سے جپھی ڈالے بولتے ہیں یہ تو ہمارا کنبہ ہیں۔ ہم سب تو یہاں ایک فیملی کی طرح رہتے ہیں۔

ہمارے راسخ العقیدہ پاکستانی بھائیوں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم لوگ اپنی عیدیں، شبراتیں یا آغاز و اختتام رمضان وغیرہ ہندوستان کی بجائے سعودی عرب کے مطابق کیوں نہیں منا پاتے؟ اس پر علمائے اسلام کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ شرعی تقاضا ہے کہ چاند دیکھ کر اس کی مطابقت میں اپنےتہوار مناؤ یا تواریخ کا حساب کتاب رکھو۔ جہاں تک حساب کتاب یا روز مرہ کے امور و معاملات کے تعین کا تعلق ہے وہ تو ہم نے مسیحیوں کے عیسوی کیلنڈر کی مطابقت میں اپنا رکھا ہے جس پر ہم لوگ لاکھ ناک بھنویں چڑھائیں لیکن کریں گے وہی جو زمانے کا چلن ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ جب پندرھویں اسلامی یا ہجری صدی کا آغاز ہو رہا تھا تو یہاں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور سب جانتے ہیں کہ وہ کس قدر پکے سچے اسلامی آدمی اور ہر چیز کو اسلامائز کرنے کے لئے ان کی روح ہمہ وقت تڑپتی رہتی تھی۔ اسی کیفیت میں انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی سربراہی میں ایک ہجرہ کمیٹی بنائی تھی جنہوں نے مسیحیوں کے عیسوی کیلنڈر کی جگہ تیغ ِ ہلال کا نشان ہجری اسلامی یا عربی کیلنڈر رائج کرنے کے لئے کئی عجیب و غریب جتن کئے تھے۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ ہمارے تمام قومی اخبارات کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی پیشانی پر لوگو کے نیچے جب تاریخ لکھیں تو عیسوی کیلنڈر کو بعد میں جبکہ اسلامی یا ہجری کیلنڈر کو پہلے رکھا کریں۔ یوں تب رائج ہونے والا یہ سلسلہ آج کے دن تک چلا آ رہا ہے حالانکہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو اپنی تقریبات یا پروگرام کا حساب اسلامی مہینوں کی مطابقت میں کرتا ہو۔

درویش نے اس سارے اہتمام کے خلاف شمسی و قمری کیلنڈر کی بحث میں کچھ آرٹیکلز بھی تحریر کئے تھے جن کا مدعا یہ تھا کہ جو چیز اپنے اندر اصابت یا کوالٹی رکھتی ہے لوگ اسے ازخود آگے بڑھ کر اپنا لیتے ہیں۔ واعظ و نصائح کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں آپ نے غیر معیاری سودا بیچنا ہو۔ اس سچائی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ پچھلے برس سعودی کراؤن پرنس کی ہدایت پر خود سعودی عرب میں تمام حکومتی امور کے حوالے سے ہجری کیلنڈر کو ترک کرتے ہوئے عیسوی کیلنڈر کو اختیار کرلیا گیا تھا۔ رہ گئے مذہبی امور و عبادات ظاہر ہے وہ قمری مہینوں کے بغیر ممکن ہی نہیں ہیں۔ اب جب ہمارے لوگوں میں یہ غبار اٹھتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے تہوار امہ کی یکجہتی و یگانگت کو واضح کرنے لئے یکساں و اکٹھےکیوں نہیں مناتے تو یہ خواہش آگے بڑھنے سے قبل ہی دم توڑ دیتی ہے۔

درویش کو ہمیشہ اس سوال میں دلچسپی رہی ہے کہ یہاں شرعی احکام کی مطابقت میں یوم عرفہ یا یوم حج کیوں نہیں منایا جاتا؟ کیونکہ حج تو ہندوستان یا یورپ میں نہیں کروایا جا سکتا۔ یہ تو صرف مکہ شریف میں ہی ہوسکتا ہے جہاں میدان عرفات ہے اور یہ بھی شرعی حکم ہے کہ حج سے اگلے روز قربانی کی جائے یعنی عید الاضحی منائی جائے۔ اب یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہم کل جمعۃ المبارک کے روز وقوف عرفہ فرما چکے، یوم حج منا چکے جسے ہم نے انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خطبہ حج سنا اور آج منیٰ میں قربانی ہوتے یا عید مناتے بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم آج ہفتہ کے روز یوم حج منا رہے ہیں لیکن اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں جب ہم نے اپنے خطے میں نظر آنے والے چاند کی مطابقت میں چلنا ہے تو ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ اس سے علاقائی ہم آہنگی و یکجہتی کو کتنی اہمیت مل رہی ہے۔

حج اور قربانی کے حوالے سے کچھ سوالات اور کچھ غلط تصورات ہیں جو ہمارے لوگوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں یہاں ان کی وضاحت مفاد عامہ کے حق میں مستحسن رہے گی۔ ایک عام تاثر ہے جو یہ درویش بھی نیم ملاؤں کی زبانی بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہے کہ حج چونکہ ایک خالص دینی فریضہ ہے تو اس سفر میں کوئی کاروباری سرگرمی نہیں ہونی چاہیے۔ حالانکہ یہ سوچ قطعی غلط اور لاعلمی پر مبنی ہے قبل از اسلام اور مابعد اسلام حج جہاں مذہبی فریضہ گردانا جاتا رہا ہے، وہیں اس کی کاروباری سرگرمی پر قطعاً کوئی قدغن عائد نہیں کی گئی تھی بلکہ پورے عرب میں زمانہ قدیم سے یہ عبادت کے علاوہ سب سے بڑی کاروباری سرگرمی تھی۔ لوگ یہاں ایکسپو کی طرح اپنا مال لاتے بیچتے اور خریدتے تھے۔ چار مہینوں کی حرمت کا تصور بنیادی طور پر اسی سے منسلک ہے۔

اسی طرح قربانی کے متعلق ہمارے بہت سے لبرل دوست سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ صرف منیٰ تک محدود تھی اور بالخصوص اس امر پر ناک بھنویں چڑھاتے ہیں کہ مسلمان لاکھوں جانوروں کا بے دریغ خون بہاتے ہیں جبکہ یہی رقم وہ غربا کی خدمت یا ضروریات مثلاً راشن روٹی کے لئے دے سکتے ہیں۔ درویش سب سے بڑھ کر لبرل سیکولر کا دعوی رکھنے کے باوجود عرض گزار ہے کہ کائنات کی ہر چیز انسانوں کے لئے ہے۔ قربانی کے جانور اگر قربان کرتے ہوئے ان کا گوشت احباب یا غربا کو کھلایا جاتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے بھی یہ انسانی سوسائٹی کے لئے کار آمد چیز ہے البتہ رستے بلاک کرنے یا گندگی پھیلانے کا حق کسی کو نہیں۔ نہ تو معصوم بچوں کے سامنے خون بہایا جانا چاہیے اور نہ ہی نرم دل لوگوں کو خون خوار اور سخت دل بنانا چاہیے۔

یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ حج ہو یا قربانی یہ صاحبان استطاعت یا امراء پر واجب ہے۔ یعنی جن کے پاس سال بھر کے اخراجات کے باوجود وافر رقوم موجود ہوں ایسے فرائض کی ادائیگی میں ایک تو عوامی ٹیکسز سے جمع کردہ سرکاری رقوم کی سبسڈی قطعی نہیں بنتی ہے۔ دوسرے سبسڈی کی روح غرباء کی مدد ہے نہ کہ امراء پر لٹانا، یہ تو حج کو خراب کرنے والی بات ہے۔ نیز قربانی میں بھی دلآزاری کا یہ پہلو پیش نظر رہے کہ اہل محلہ یا دیہہ پر اپنی امارت کی نمائش یا دھاک کا پہلو نہیں نکلنا چاہیے جس سے غریبوں کے بچے اپنی غربت یا محرومی سے غمگین ہوں کہ ہم بے چارے تو اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ مفاد عامہ یا غربا کی دلجوئی کے لئے اس نوع کی گنجائش نکالیں کہ جو غریب قربانی کا جانور خریدنے کی سکت نہیں رکھتا وہ اپنے بچوں کی دلجوئی و خوشی کے لئے اگر مرغے کی قربانی دے گا تو پروردگار عالم اسے بھی قبول فرما لے گا۔