کیا عمران خان پنجاب میں شکست قبول کررہے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 08 / جولائی / 2022
پاکستانی سیاست کا محور اب ایک ہفتہ بعد پنجاب میں 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات بنے ہوئے ہیں۔ یوں تو عمران خان ملکی سیاست میں اس وقت تک کردار ادا نہ کرنے کی بات کرتے ہیں جب تک نئے انتخابات نہ ہوں اور ’عوام کی نمائیندہ منتخب حکومت‘ اقتدار نہ سنبھال لے۔ لیکن اب وہ پنجاب میں پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا ئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا۔
حیرت ہے کہ ملک کی جو تقدیر مرکز میں خود عمران خان کے خلاف عدم اعتماد اور ان کے بقول امریکہ کی مرضی سے امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے کے بعد بگڑنا شروع ہوگئی تھی ، اب اس کی تبدیلی کا آغاز پنجاب سے کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ حکمت عملی ایک ہی بات واضح کرتی ہے کہ عمران خان کسی بھی قیمت پر اقتدار سے دور نہیں رہ سکتے ۔ اسی لئے دھاندلی اور انتخاب چوری کرنے کے نعرے ان کا مرغوب مشغلہ ہیں۔ وہ چیف الیکشن کمشنر کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں اور ان پر ہر طرح کی الزام تراشی سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کسی صورت شفاف انتخاب نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم اسی سانس میں یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ کسی ’مسٹر ایکس‘ کی لاہور میں موجودگی اور حمزہ شہباز کی حمایت میں دھاندلی کی مکمل تیاری کے باوجود ضمنی انتخاب میں تمام نشستیں جیت لیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) امپائر کی حمایت کے باوجود عبرت ناک شکست کاسامنا کرے گی۔
اس میں تو کئی شک نہیں ہے کہ 17 جولائی کو ہونے والا ضمنی انتخاب پنجاب میں حکومت سازی کے لئے بے حد اہم ہے۔ جن بیس نشستوں پر انتخاب ہورہا ہے ، وہ تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی رکنیت ختم کرنے کے فیصلہ کے بعد منعقد ہوگا۔ یعنی اصولی طور پر یہ تمام سیٹیں تحریک انصاف کی ہیں لیکن وہاں سے منتخب ہونےوالے ارکان نے چونکہ پارٹی لائن سے اختلاف کرکے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ دیا تھا ، اس لئے آئینی تقاضوں کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان ارکان کو پارٹی کے فیصلہ سے انحراف کے جرم میں نمائیندگی کے حق سے محروم کردیا تھا۔ اس لئے پنجاب میں حکومت پر دوبارہ قبضہ کرنے سے بھی زیادہ عمران خان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ نشستیں واقعی ان کی مقبولیت یا ان کی پارٹی کے پروگرام کی وجہ سے تحریک انصاف کو ملی تھیں۔ اب ان حلقوں کے عوام ان نمائیندوں یا ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے بلکہ عمران خان کی ’امانت‘ انہیں لوٹا دیں گے۔
اگر تحریک انصاف ان نشستوں کی اکثریت جیتنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو یہ عمران خان کے مقبولیت کے دعوؤں کی نفی ہوگی اور ملکی آئین کی اس وضاحت پر بھی سوالیہ نشان لگے گا کہ کوئی رکن اسمبلی اپنے ضمیر کےمطابق ووٹ نہیں دے سکتا ۔ اسے بہر حال پارٹی لائن پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے ان انتخابات میں صرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہی داؤ پر نہیں لگی بلکہ عمران خان کی مقبولیت اور غیر متنازعہ مقبول ترین لیڈر ہونے کے دعوؤں کے غبارے سے ہوا نکلنے کا بھی امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے بیانات میں ہر طرح کے زیر و بم نوٹ کئے جاسکتے ہیں۔ پنجاب کے یہ ضمنی انتخاب جیت کر عمران خان اپنے خلاف عدم اعتماد کو زیادہ پرزور طریقے سے سازش قرار دیں گے اور وزارت عظمی پر اپنا دعویٰ ظاہر کریں گے ۔ تاہم اگر بدقسمتی سے وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو وہ دھاندلی اور انتخابات کو جعل سازی سے جیتنے کے الزامات کے ساتھ میدان میں موجود رہیں گے۔ بدقسمتی سے یہ رویہ ملکی سیاست میں کسی مثبت تبدیلی کا سبب نہیں ہوگا بلکہ انتشار اور بے چینی کا دورانیہ طویل ہوجائے گا۔
سیاسی مقابلے میں اترنے سے پہلے ہر سیاست دان کو ہار اور جیت دونوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ عمران خان البتہ وہ واحد سیاست دان ہیں جو ملکی انتخاب میں فتح کو صرف اپنا حق سمجھتے ہیں کیوں کہ اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں میں وہی ’ایماندار اور اصول پرست‘ ہیں اور ملک کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ عمران خان کو سیاسی طور سے یہ اخلاقی ہائی گراؤنڈ فراہم کرنے میں اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے عدم اعتماد کے بعد فوری طور سے انتخابات کروانے کا اصول ماننے کی بجائے شہباز شریف کی قیادت میں ایک کمزور اتحادی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران حکومت کی تمام ناکام اور غلط معاشی پالیسیوں کا بوجھ اس کے گلے آپڑا۔ اب حکومتی ترجمان لاکھ یہ کہتے رہیں کہ پیٹرول ، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سابقہ حکومت کی کوتاہیاں ہیں لیکن بڑھی ہوئی قیمتوں کو ادا کرنے والے لوگوں کو یہ دلیل سمجھانا ممکن نہیں ہے۔
شہباز شریف نے حکومت سنبھال کر عمران خان اور تحریک انصاف کو ساڑھے تین سال کے دوران تمام غلطیوں سے سبکدوش کردیا۔اسی لئے سیاسی تجزیہ نگاروں کو سمجھ نہیں آتا کہ انتخابی سال سے محض چند ماہ پہلے حکومت سنبھالنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان پر سیاسی دباؤ جاری رکھا جاتا اور انہیں عام انتخابات میں اپنی معاشی غلطیوں کا حساب براہ راست عوام کو دینے پر مجبور کیا جاتا۔ اتحادی حکومت کے سارے دلائل نومبر میں موجودہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ اور اس عہدہ پر نئی تقرری کے معاملہ پر آخر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت کا قیام اور وجود اس بات سے مشروط ہے کہ اس وقت ملک میں فوج کا سربراہ کون ہے۔ اسی لئے عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ضروری تھا تاکہ وہ اپنی مرضی کا نیا آرمی چیف لگا کر خود ملکی اقتدار پر ’ہمیشہ‘ کے لئے قابض نہ ہوجاتے۔
یہ دلیل بودی اور جمہوری نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے۔ اگر ملک کی منتخب حکومت کو کام کرنے اور اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے مسلسل فوج کے سہارے کی ضرورت ہے تو اپوزیشن میں رہ کر اسٹبلشمنٹ کو سیاست سے علیحدہ ہونے کے مشورے کیوں دیے جاتے ہیں؟ اس کے برعکس یہ زیادہ اہم ہے کہ مرضی کا آرمی چیف بنانے کی بجائے ایسی قانون سازی کی جائے اور فوجی قیادت کو کسی بھی منتخب حکومت کے تابع فرمان رکھنے کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں کہ سیاست اور فوج کا تعلق ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ موجودہ صورت حال میں تو تحریک انصاف اور اتحادی حکومت میں شامل سیاسی پارٹیاں یکساں طور سے سیاست میں فوج کے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ عمران خان فوج کو ’نیوٹرلز‘ قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ جب تک عسکری قیادت ’چوروں لٹیروں‘ کی موجودہ حکومت ختم نہیں کرے گی ، اس وقت تک حالات معمول پر نہیں آسکتے۔
گویا ملک کا اہم ترین اپوزیشن لیڈر فوج سے توقع کررہا ہے کہ وہ سیاسی بازی جیتنے میں اس کی مدد کرے۔ فوج اپنی جگہ پر یہ سوچ کر پریشان ہے کہ 2018 میں یہ مدد فراہم کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں ملک معاشی و سفارتی لحاظ سے مسلسل کمزور ہؤا ہے۔ عمران خان کی صورت میں جو مسیحا قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تھی ، وہ قومی معیشت و سیاست میں زندگی کی روح نہیں پھونک سکا۔ اس لئے بت سازوں سے ایسے ناکام لیڈر کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچنے اور سیاست سے گریز کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ موجودہ اتحادی حکومت کو درحقیقت اسی بالواسطہ مدد نے تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے کا موقع دیا۔ لیکن اس دوران ایک خاص مقصد سے تراشا گیا صنم اب خود کو سچ مچ کا عوامی لیڈر سمجھ کر اقتدار پر جملہ حقوق محفوظ سمجھتا ہے۔ یہی حق حاصل کرنے کے لئے وہ فوج کو نیوٹرلز کا طعنہ دیتے ہوئے للکارتا رہا ہے۔
البتہ پنجاب کے ضمنی انتخاب نے عمران خان کو ایسی مشکل میں ڈال رکھا ہے کہ وہ جان نہیں پارہے کہ نیوٹرلز کی منت سماجت کی جائے یا ان کے گلے پڑا جائے۔ عمران ریاض جیسے اینکرز کے ذریعے اس لڑائی کو بڑھانے اور اسٹبلشمنٹ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ عمران خان ہی ایک بار پھر فوج کو عوامی مقبولیت دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ عمران خان یہ فراموش کررہے ہیں کہ جس ادارے نے 70 برس تک سیاسی بساط پر مہروں کو آگے پیچھے کیا ہو، وہ کسی وقتی ہزیمت کو مستقل ہار ماننے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ خاص طور سے جب ملک کی تمام سیاسی قوتیں اپنے ’درد ‘کا مداوا کرنے کے لئے ’اسی عطار کے لڑکے‘ سے دوا لینے کا برملا اعلان بھی کرتی ہوں۔ عمران خان کی آواز تو ان میں سب سے واضح اور بلند ہے۔
اس پس منظر میں عمران خان نے آج لاہور میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ سے مصالحت کا ڈول ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میری نیوٹرلزکے ساتھ لڑائی نہیں ہے کیوں کہ ان کی مخالفت کا مطلب دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوگا۔ میں نے کوئی ریڈ لائن عبور نہیں کی ، اس لئے مجھے گرفتاری کا خوف نہیں ہے۔ ملک کو شفاف انتخاب ہی مشکل سے نکال سکتے ہیں۔ عوام کی نمائیندہ حکومت ہی ان کے مسائل حل کرسکتی ہے‘۔ لیکن وہ یہ سمجھنے میں بدستور ناکام ہیں کہ اعتماد کا جو رشتہ ٹوٹ چکا ہے، اسے خیر سگالی کے ہلکے پھلکے پیغامات سے دوبارہ استوار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ فوج میں اپنی ’مقبولیت‘ کا ڈراوا دے کر عسکری قیادت کو دباؤ میں لانے کی کوشش بھی جائے اور ایک مشکل ضمنی انتخاب کے موقع پر باالواسطہ طورسے اعانت کی خواہش بھی قائم رہے۔
حیرت انگیز طور پر ایک طرف عمران خان فوجی قیادت کو موجودہ حکومت کو اقتدار دلوانے اور ان کی سرپرستی کرنے کا الزام بھی دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ اگر اسٹبلشمنٹ ان کے ساتھ سلسلہ جنبانی کرلے تو معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف وہ عوام کی نمائیندہ حکومت کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ’نیوٹرلز ‘ کو پیغام بھی دے رہے ہیں کہ آپ سے بات تو ہوسکتی ہے لیکن اس کے لئے آپ کو شفاف انتخابات کی ضمانت دینا ہوگی۔ اب یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ اس ملک میں شفاف انتخابات وہی ہوں گے جن میں عمران خان کامیاب ہوسکیں۔ دریں حالات یہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔
17 جولائی کے ضمنی انتخاب میں عمران خان کا وقار اور سیاست داؤ پر لگی ہے۔ اسی لئے انتخابی نتائج تو ہفتہ دس دن میں آئیں گے لیکن انہیں دھاندلی زدہ قرار دینے کی تیاری پہلے سے کر لی گئی ہے۔ لگتا ہے عمران خان دھیرے دھیرے پنجاب میں اپنی شکست قبول کرنے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔