آئی ایم ایف اور پاکستان قرض پیکج کی بحالی کے قریب

  • اتوار 10 / جولائی / 2022

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستان ہفتے کے روز قرض پیکج کی بحالی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسلام آباد نے آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے اپنے اخراجات کو کم، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

 یہ اقدامات پاکستان کو آئی ایم ایف کے 153ارب روپے کے بنیادی سرپلس بجٹ کے حصول کے مطالبے کو پورا کرنے کے قریب لاتے ہیں جوکہ نئے مالی سال کے لیے قومی پیداوار کا 0.2 فیصد ہے۔ بات چیت کے آخری دور کے بعد اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے رہائشی نمائندے ایستھر پیریز روئیز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور حکام کے درمیان آنے والے سال میں میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانے کی پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے اور مالی سال 23 کے بجٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

اس وقت  سے پاکستان نے آئی ایم ایف کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دیگر اہم اقدامات کیے ہیں۔ لیکن ولسن سینٹر، واشنگٹن میں جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگل مین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کی جانب سے مزید اقدامات چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ آئی ایم ایف مزید فنڈز جاری کرنے سے قبل آئی ایم ایف کے معیار پر پورا اترنے کے لیے اسلام آباد کے عزم کا بہتر اندازہ لگانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ نئی حکومت نے 'آہستہ اور غیر فیصلہ کن انداز میں' اپنے کاموں کا آغاز کیا، توانائی کی سبسڈی کو ہٹانے سے انکار کر دیا جسے آئی ایم ایف ختم کرنا چاہتا تھا اور بات چیت کے پچھلے دور میں یہی بات مہنگی ثابت ہوئی۔

انہوں ںے کہاکہ شہباز شریف حکومت اب اپنے کفایتی بجٹ کے اجرا اور آمدنی پیدا کرنے والے دیگر اقدامات کے ذریعے تمام صحیح کام کر رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کے فنڈز آنا شروع ہو جائیں۔ بلومبرگ فنانشل وائر بھی اس جائزے سے اتفاق کرتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان شاید آئی ایم ایف کے قرض کے حصول کے قریب ہے۔