سری لنکا میں مشتعل مظاہرین کا صدر کی رہائش گاہ پر دھاوا، صدر کا استعفے کا فیصلہ
سری لنکا میں عوام کا شدید احتجاج اور صدر گوٹابایا راجا پکسے کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ صدر بدھ کے روز مستعفی ہوجائیں گے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے صدر کی جانب سے یہ اعلان ملک میں جاری معاشی بحران پر پرامن احتجاج کے بعد ڈرامائی انداز میں ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد کیا گیا ہے۔ اسپیکر مہیندا یاپا ابیواردینا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ صدر گوٹابایا راجا پکسے نے اطلاع دی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ 13 جولائی کو استعفے کے فیصلے کا مقصد پرامن انتقال اقتدار یقینی بنانا ہے، میں عوام سے درخوست کرتا ہوں کہ قانون کا احترام کریں اور امن قائم رکھیں۔
صدر کے استعفے کا اعلان ہوتے ہی کولمبو کے مختلف علاقوں میں جشن منایا گیا اور آتش بازی کی گئی۔ اس سے قبل وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے بھی پیش کش کی تھی کہ وہ کل جماعتی حکومت کے لیے راہ ہموار کرنے کی خاطر استعفے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب فوج اور پولیس اہلکار صدر راجا پکسے کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہے تھے۔ مظاہرین صدر پر الزام لگا رہے تھے کہ 7 دہائیوں کے بدترین بحران کے وہ ذمہ دار ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے جب حملہ کیا گیا تو صدر راجا پکسے اور وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے دونوں اپنی سرکاری رہائش گاہوں میں موجود نہیں تھے۔ قبل ازیں سری لنکا کے تجارتی مرکز اور دارالحکومت کولمبو میں ہزاروں مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا تھا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقامی ٹی وی نیوز نیوز فرسٹ چینل کی ویڈیو فوٹیج میں مظاہرین کو سری لنکا کے جھنڈے اور ہیلمٹ تھامے صدر کی رہائش گاہ میں گھستے ہوئے دیکھے گئے۔
اس ضمن میں وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ صدر گوٹابایا راجا پاکسا کو ہفتے کے روز منصوبہ بندی کے تحت نکالی گئی ریلی سے قبل ان کی حفاظت کے پیش نظر جمعہ کو سرکاری رہائش گاہ سے نکال لیا گیا تھا۔ صدر کے گھر کے اندر سے ایک فیس بک لائیو اسٹریم میں سینکڑوں مظاہرین کو دیکھا گیا، جن میں سے کچھ جھنڈوں میں لپٹے ہوئے، کمروں اور راہداریوں میں جمع ہو کر گوٹابایا راجا پاکسا کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
نوآبادیاتی دور کی سفید عمارت کے باہر بھی سینکڑوں لوگ جمع ہوئے جہاں کوئی سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔ ہسپتال کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جاری مظاہروں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 21 زخمی افراد زخمی ہسپتال میں داخل ہوئے۔
دو کروڑ 20 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ جزیرہ غیر ملکی زرمبادلہ کی شدید قلت سے نبرد آزما ہے جس کے باعث ایندھن، خوراک اور ادویات کی ضروری درآمدات محدود ہیں، اور 1948 میں آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ ملک کے زوال کا ذمہ دار صدر گوٹابایا راجا پاکسا کو ٹھہراتے ہیں اور مارچ سے جاری احتجاج میں ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران عوام میں عدم اطمینان مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ نقدی کی کمی کے شکار ملک کو ایندھن کی وصولی رک گئی ہے، جس کے باعث اسکول بند کرنے اور ضروری خدمات کے لیے پیٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔