لوٹا ۔۔ شاہ محمود کی ناکامیوں کی کہانی

ایک گاؤں میں ایک کنویں کے ارد گرد بڑا شور تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ایک گیڈر کنویں میں گر گیا ہے اور بڑا شور ڈالا ہوا ہے اور ساتھ دھمکی دے رہا ہے اگر مجھے کنویں سے نہ نکالا تو میں کہیں منہ کر جاؤں گا اور تمہارا بڑا نقصان ہو گا ۔
میں نے یہی کیفیت ملتان کے ایک سیاسی لیڈر کی دیکھی ہے جو کہہ رہا تھا کہ حلقہ نمبر 217 والو خیال کرنا اگر میرے بیٹے زین قریشی کو ووٹ نہ دیا تو نقصان تمہارا ہوگا تو اس موقع پر آواز آئی کہ کیا یہ نقصان آپ کو ووٹ دینے اور ممبر اسمبلی بنانے سے بھی زیادہ ہوگا؟ ملتان کے لوگ جب بھی شاہ محمود قریشی کی ٹرولنگ کرتے ہیں تو ایک بات کہتے ہیں کہ شاہ صاحب ان چیزوں میں سے ہیں جنہوں نے ملتان کا کوئی فائدہ نہیں کیا ۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ شاہ صاحب ملتان کی بڑے مشہورگھرانے کے فرد ہیں مگر ان کی پہلی سیاسی اننگز بڑی عجیب تھی اور شاہ صاحب جیسے حاسد مزاج آدمی کے لئے بڑی تکلیف کا باعث بھی تھی ۔
جب 1983 میں بلدیاتی انتخابات میں ملتان کے دو سیاسی گھرانوں کے دو نوجوان سیاست میں داخل ہوئے، یہ وہ دور ہے جو غیر سیاسی جماعتیں اور غیر سیاسی بنیادوں پر انتخابات ہوتے تھے اور اس دور میں خاندان اور فیملی کی بنیاد پر لوگ سیاست میں حصہ لیتے تھے۔ ملتان کے دو گروپوں میں ایک کے سربراہ اس وقت سید حامد رضا گیلانی تھے اور دوسرے قریشی گروپ کے اس وقت کے گورنر پنجاب مخدوم سجاد حسین قریشی تھے۔ ان کے بیٹے شاہ محمود قریشی جو لندن سے واپس آئے تھے یونین کونسل گھڑیالہ سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ مخدوم جاوید کے چھوٹے بھائی مختار ہاشمی سے 436 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہار گئے اور شاہ محمود قریشی نے عملی سیاست کا آغاز ناکامی سے کیا۔ اسی انتخاب میں یوسف رضا گیلانی صاحب کو خدا نے بڑی زبردست کامیابی سے نوازا۔ آپ نے حکومتی نمائندہ اور وفاقی وزیر سید فخر امام کو چیئرمین ضلع کونسل ملتان کے الیکشن میں سخت مقابلے کے بعد شکست دی اس کے بعد سیاسی وضع داری کا ثبوت دیتے ہوئے وزیر سید فخر امام نے اپنی وزارت سے استعفی دے دیا۔


شاہ محمود قریشی کا خاندان ملتان کی سیاست میں ایک ابن الوقت گھرانے کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے دادا مرید حسین قریشی یونینسٹ پارٹی میں رہے مگر حالات دیکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے ، جب کہ گیلانی خاندان شروع سے ہی مسلم لیگ میں رہا۔ یوسف رضا گیلانی کے والد علمدار حسین گیلانی کئی بار بار وفاقی کابینہ کے رکن رہے اور اس خاندان کا مسلم لیگ سے تعلق 1988 میں سید یوسف رضا گیلانی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت تک برقرار رہا۔ اس کے بعد تقریبا 35 سال سے پی پی سے وابستہ ہیں مگر پچھلے 75 سالوں میں قریشی خاندان آل انڈیا مسلم لیگ ، کنونشن مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی ، پی این اے ، تحریک استقلال ، ضیاء الحق ، آئی جے ائی، مسلم لیگ نواز گروپ ، پیپلز پارٹی ، اور تادم تحریر پی ٹی آئی تک کا سفر کر چکا ہے اور رخت سفر باندھ رکھا ہے۔ اور بہترین عہدہ انجوائے کرنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت کو عین نازک وقت پر چھوڑنے کے لئے مشہور ہے اور پارٹی چھوڑنے کے بعد کے الزامات ، الامان و الحفیظ ۔ شاہ محمود بظاہر ایک نفیس انسان ہیں مگر خدا ان کی الزام تراشی سے اور طوطا چشمی سے دشمن کو بھی محفوظ رکھے ۔

اس بدقسمت سیاسی مسافر نے ہمیشہ خود کو بڑے عہدے کے لئے حقدار صرف اور صرف ذاتی خود پسندی کی وجہ سے سمجھا ۔ 1988 سے 1990 نواز شریف کا صوبائی وزیر رہا اور 1990 میں میاں صاحب کے وزیر اعظم بننے کے بعد محض اس بنیاد پر کہ اس کے والد نے 1988 میں نواز شریف سے اس وقت وزارت اعلیٰ کا حلف لے لیا جب محترمہ بینظیر بھٹو اسے صرف اپنے وزیراعظم کے حلف تک روکنا چاہتی تھیں ، شاہ محمود قریشی 1990 کے انتخاب کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند تھے اور کچھ حلقوں میں ان کا نام بھی لیا گیا مگر قرعہ غلام حیدر وائیں کے نام نکلا۔ اور یہی اختلاف اور 1993 کے انتخابات میں نواز شریف کا ڈوبتا سورج  اور این اے 114 پر پیپلز پارٹی کی محفوظ پوزیشن اس لوٹے کو پیپلز پارٹی میں لی آئی۔ مگر یہاں شاہ جی کو صبر کرنا پڑا کیونکہ اللہ نے پھر یوسف رضا گیلانی کو اسپیکر کے عہدے سے نوازا ، 2002 کے اسمبلی میں شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کا الیکشن لڑا ۔ اور 2008 کے الیکشن کے بعد ہر رات شاہ محمود قریشی اس خواب کے ساتھ سوتے کہ صبح زرداری صاحب ان کا اعلان کریں گے کہ وہ پیپلز پارٹی کے وزارت اعظمی کے امیدوار ہیں۔ مگر وقت نے ان کو پھر پیچھے دھکیلا اور گیلانی صاحب وزیر اعظم بن گئے اور شاہ محمود قریشی کے لئے یہ کام بڑا صبر آزما تھا اپنے نزدیک ترین سیاسی حریف کو سر کہنا ۔
اس بات کا اعتراف زرداری صاحب حامد میر کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی کرچکے ہیں ، ایک بار ایک ملاقات میں علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ ان کے والد کو یقین تھا کہ افتخار چودھری کورٹ ان کو نااہل ضرور کرے گی۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کو کہا کہ وہ پارٹی چھوڑنے میں جلدی نہ کریں میرے بعد وہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار وہی ہوں گے مگر اس کی سیاسی بدقسمت کے مالکان اس کو کچھ اور بتا رہے تھے ، اور وہ الزامات کے شعلے اگلتے کپتان کو پیارے ہو گئے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد وہ بہت جلد کپتان کے نائب کپتان بن گئے ، جاوید ہاشمی کے پارٹی چھوڑنے اور جہانگیر ترین کی نااہلی نے تو گویا شاہ محمود قریشی کے لئے راہیں صاف کردیں اور وہ اپنی خوابوں کی فراری کو ، ملتان کے بیت القریش سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک دوڑاتے، دل ہی دل اپنے سیاسی مخالفین اور سپریم کورٹ زدہ  اور اب ایوان اقتدار میں کسی نمائندگی سے محروم گیلانی ہاؤس کے سامنے کھنگورا مارتے۔  گویا اب ان کے ممکنہ خوابوں میں سے ایک خواب کی تعبیر میں صرف اور صرف 2018 کے انتخابات کی پولنگ رہ گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ خود پسند ، جھوٹی انا کے خول میں لپٹے ، شخصی حسد میں مبتلا لوگوں کے خواب اکثر زمینی حقائق سے بہت دور ہوتے ہیں اور کسی عہدے کے سحر میں مبتلا لوگوں کو استعمال کرنے والے بھی ائیڈئیل سمجھتے ہیں۔  یہی کچھ اس خوابوں کے شہزادے کے ساتھ ہوا۔ جو شخص ٹکٹوں کی تقسیم اور مقبولیت کے زعم میں ایسا مبتلا تھا کہ ملتان کے کئی صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں صوبائی وزارتوں کے وعدوں کی خیرات بانٹی کہ ان کے اور ان کے بیٹے کے نیچے لڑنے والے صوبائی اسمبلی کے امیدوار خود کو سائرن اور جھنڈے والی گاڑیوں بیٹھا محسوس کرنے لگے۔ کیونکہ موصوف خود پارٹی کے پرانے کارکن سلمان نعیم کو اس کے ٹکٹ کےحق سے محروم کرکے خود صوبائی اسمبلی کا الیکشن بطور امیدوار وزیر اعلیٰ پنجاب لڑ رہے تھے۔ ادھر سلمان نعیم نے بھی ہمت نہ ہاری اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور حلقہ نمبر 217 کے لوگوں نے ویلکم کیا مگر اس متکبر مزاج آدمی کو شاید کچھ فیصلوں کا علم نہیں تھا اور انتخابات کی رات نتائج میں شاہ صاحب قومی اسمبلی کا الیکشن تو جیت گئے اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن ان کے ارمانوں کی موت ثابت ہوا ، وہ سلمان نعیم کے ہاتھوں ہار گئے:
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا
یوں شاہ صاحب کا وزارت اعلیٰ کا خواب پھر ادھورا رہ گیا اور شاہ محمود قریشی ایک بار پھر 1990 کی پوزیشن پر آگیا۔ وفاق میں اسے وزارت خارجہ کا عہدہ ملا ، گویا پرانی تنخواہ پر راضی ہو گیا اور کہتے ہیں ان کو یہ منصب پارٹی کو ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے دیا گیا ورنہ پاکستان میں وزیر خارجہ کی اختیارات سے سب واقف ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اسمبلی میں زرداری صاحب سمیت کچھ پرانے دوستوں نے ان کو دیکھ کر کہا ہو ’ ہن چنگا  رہیا ایں‘ ۔  ایک بار حالات شاہ صاحب کو وہیں لے آئے ہیں گزرے تھے کل جہاں سے۔ طلب انکو ایک اور سیاسی منزل کی تلاش ہے خبریں یہ بھی ہیں کہ انہوں کچھ پرانے ٹھکانوں سے رابطہ کیا ہے۔ مگر ابھی تک خبریں ٹھیک نہیں ہیں۔ ادھر حلقے کے حالات بھی موافق نہیں ہیں۔ شکست کے بادل منڈلا رہے ہیں اور وہ حلقے کے لوگوں کو دہائیاں دے رہے ہیں کہ 2018 والی غلطی نہ کریں۔ اللہ جانے وہ کون سا مستقبل ہےجو وہ اپنے بیٹے کی کامیابی کی صورت میں دکھا رہے ہیں اور ادھر نوحہ کناں بھی ہیں کہ 2018 میں ان کی شکست کی ذمے دار پارٹی کے کچھ لوگ ہیں۔

 شاہ محمود قریشی اس وقت زندگی کی سب سے مشکل الیکشن مہم میں ہے۔ اس کامیابی نے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنا ہے ، اپنی پارٹی کی نظر میں بھی اور فیصلہ سازوں کی نظر میں بھی اور نئی سیاسی منزل کے لئے بھی۔ شاہ صاحب آ ج ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز کررہے ہیں کہ وہ انتخاب میں لوٹوں کو ہرانے کی بات کررہے مگر لوٹے کی تعریف پر پورے اترنے والے، خودپسند، طوطا چشم ، ابن الوقت صاحب بھول گئے ہیں کہ لوگوں کی یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں کیونکہ حلقہ 217 کے عوام ملتان کے ایک شاعر خالد مسعود کا ایک شعر اکثر پڑھتے ہیں:
پہلے ایدھروں فیر اودھروں مڑ کے فیر کھڑا اے ایدھروں
پبلک تنگ ہے لیکن لوٹا ، لوٹا ای ہوتا ہے

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)