مسٹر ایکس عمران خان کی جان کو کیوں آئے ہوئے ہیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 12 / جولائی / 2022
عمران خان انتخابی جہاد کے ذریعے قوم کو ’حقیقی آزادی‘ دلوانے کے مشن پر گامزن ہیں لیکن اس دوران کوئی مسٹر ایکس بلاوجہ پرائی لڑائی میں کود چکے ہیں اور کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہرانے کے مشن پر گامزن ہیں۔ یوں تو مسٹر ایکس کو کوئی نہیں جانتا حتی کہ موصوف کو عوام کی عدالت میں پیش کرنے والے عمران خان کو بھی علم نہیں ہے کہ وہ کون ہیں۔
اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ سب کو علم ہے کہ مسٹر ایکس کون ہے۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ویسے تو نہیں معلوم کہ یہ ’ایکس‘ کون ہے لیکن اتنا کہا جاسکتا ہے کہ جس کا نام عمران خان جیسا ’خوددار‘ شخص بھی مسٹر لگائے بغیر نہیں لے سکتا، وہ کوئی خاص آدمی ہی ہوگا۔ اور اس شخص کے خاص ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے جو کسی اور کو نہیں بلکہ عمران خان کو ’شکست‘ دلوانے کے لئے میدان میں اترنے کا حوصلہ کر رہا ہے۔ حالانکہ عمران خان نے تو واضح کردیا ہے کہ یہ انتخابات سب ڈھکوسلا ہے ۔ ’لوٹوں‘ سے خالی ہونے والی بیس کی بیس نشستیں بہر حال تحریک انصاف ہی جیتے گی۔ کیوں کہ اس نے عوام کے حقیقی نمائیندوں کو میدان میں اتارا ہے اور ماضی کی طرح لوٹوں یعنی الیکٹ ایبلز کو امیدوار نہیں بنایا۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ عمران خان کو اپنی مقبولیت اور عوام کی راست پسندی پر پورا یقین ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جن منحرف ارکان نے تحریک انصاف کے پیندے میں سوراخ کیا تھا، انہیں مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے باوجود جیتنے نہیں دینا۔
ایسے میں ’دشمنوں‘ کے گڑھ برطانیہ کے نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے ایک طویل رپورٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ ’عمران خان نے ضمنی انتخابات میں اپنے وفادار کارکنوں کی بجائے الیکٹ ایبلز ہی کو پارٹی کے ٹکٹ کیوں دیے ہیں‘؟ پھر حلقہ وار تحریک انصاف کے امیدواروں کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کس امیدوار کا ماضی اور حال کیا ہے اور ایک دوسرے کے مدمقابل ہونے کی حرکیات کون سی ہیں۔ اس کے بعد تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈیٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کے تبصرے کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف ضمنی انتخاب میں کسی کارکن کو ٹکٹ دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی ۔ کیوں کہ یہ انتخابات عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست میں بڑے داؤ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے پرخطر انتخاب میں کسی وفادار کو میدان میں اتار کر کامیابی کی امید نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص کو ہی امیدوار بنایا جائے جس کا اس حلقے میں اثر و رسوخ ہو اور برادری، قبیلہ یا تعلق داری کی وجہ سے وہ اپنے بل بوتے پر کسی نشست پر کامیاب ہوسکے ۔ اور پھر لیڈر اسے اپنی حق پرستی کے ثبوت کے طور پر پیش کرکے دادوصول کرتے رہیں۔
بی بی سی کی اس تجزیاتی رپورٹ سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
ایک: عمران خان کی مقبولیت ابھی اس سطح پر نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے کسی مخلص اور وفادار ساتھی کو کھڑا کرکے صرف پارٹی کے نام اور عمران خان کی وجہ سے کامیابی حاصل کرسکیں۔ اس کے لئے تحریک انصاف سمیت کسی بھی پارٹی کو ایسے خانوادوں کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے جو ذاتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کوئی نشست جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی لئے دیکھا جاسکتا ہے کہ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں یا تو ایک ہی خاندان کے دو لوگ مختلف پارٹیوں کی طرف سے انتخاب لڑیں گے یا مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے کسی ایسے شخص کو امیدوار نامزد کیا ہے جو پہلے ہی علاقے میں پہچان اور حمایت کا حامل ہو۔ یا تو کسی بڑی برادری یا قبیلے سے اس کا تعلق ہو یا وہ نسل در نسل اس حلقے سے کامیابی حاصل کرتا چلا آرہا ہو۔
دوئم: تحریک انصاف بھی مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح اپنی سیاسی کامیابی کے لئے الیکٹ ایبلز کی محتاج ہے۔ جس پارٹی کو زیادہ مؤثر اور طاقت ور ’ایکٹ ایبل‘ دستیاب ہوگیا، وہی اس حلقے میں انتخاب جیت جائے گی۔ اس طرح عمران خان کا یہ دعویٰ کہ یہ ضمنی انتخاب اچھائی اور برائی کے درمیان مقابلہ ہے ، باطل اور گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ تحریک انصاف بھی درحقیقت وہی انتخابی ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے جو دوسری پارٹیاں کرتی رہی ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر معروف لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دے کر میدان میں اتارنے کا خطرہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے 1970 کے انتخابات میں ضرور لیا تھا۔ لیکن اس وقت پیپلز پارٹی بھی سیاسی طور سے غیر معروف تھی۔ انتخابات میں اس پارٹی کے امیدواروں نے بھٹو کے نام پر ووٹ لے کر پیپلز پارٹی کو عوامی طور سے ایک مضبوط سیاسی قوت ثابت کردیا تھا۔
تحریک انصاف کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ عمران خان دوران حکومت حلیف بننے والی جماعتوں کے لالچ اور ہرجائی پن کی شکایت کرنے کے علاوہ اب انتخابات کو حق و باطل کی جنگ قرار دیتے ہیں ۔ اسی لئے وہ ضمنی انتخابات کو ’جہاد‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ 17 جولائی کو درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے انہوں نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر جانے والوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر حلقے سے نئے ’لوٹے‘ تلاش کئے ہیں لیکن انہیں امر بالمعروف کا نمائیندہ بناکر پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ملتان کے حلقے 217 کے ایک جلسہ میں جب دعویٰ کیا کہ ’ حلقے والو! خیال کرنا اگر میرے بیٹے زین قریشی کو ووٹ نہ دیا تو نقصان تمہارا ہوگا‘ تو اس موقع پر آواز آئی کہ ’کیا یہ نقصان آپ کو ووٹ دینے اور ممبر اسمبلی بنانے سے بھی زیادہ ہوگا‘؟ اس سے ملکی انتخاب میں لوٹا کریسی کی طاقت اور تحریک انصاف کی حکمت عملی کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔
اس کے باوجود محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ، کی روایت پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چئیر مین نے ’مسٹر ایکس‘ نام کا ایک پراسرار کردار تخلیق کیا ہے جو انتخاب میں ان کی ناکامیوں کا جواز بنے گا۔ اہل پاکستان کو چند ہی دنوں میں یہ سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ’میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔ مسٹر ایکس سرگرم ہوچکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر ان کا اپنا بندا ہے۔ ان کے ہوتے تحریک انصاف کیسے جیت سکتی تھی‘۔ اس لئے تحریک انصاف کے جو لوگ مسٹر ایکس سے بہت خوفزدہ ہیں، انہیں جمع خاطر رکھنی چاہئے کہ یہ ایک خیالی کردار ہے جسے بوقت ضرورت مختلف نام دے کر سامنے لایا جاتا ہے۔ ابھی یہ ’مسٹر ایکس‘ کے نام سے معروف ہے، کسی اگلے مرحلے پر اسسے ایکس وائی زیڈ یا کوئی بھی نامم دیا جاسکتا ہے۔ یہ اصل میں شکست کے خوف کا دوسرا نام ہے۔ مسٹر ایکس درحقیقت عمران خان کے ان دعوؤں کا پول کھولتا ہے کہ وہ کوئی مقدس سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں جہاں وہ خود اچھائی کی سربلندی کے لئے سرگرم ہیں جبکہ ان کے مخالفین برائی کے نمائیندے ہیں۔
یہ نعرے بھی اب بدعنوانی کے دعوؤں کی طرح اپنی اہمیت اور دلکشی کھو چکے ہیں۔ تحریک انصاف ایک نئے معمول میں سیاسی قوت کے طور پر اپنی سیاسی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 17 جولائی کے ضمنی انتخابات پارٹی کی سیاسی حیثیت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اسی لئےتمام تجزیہ نگار انہیں ملکی سیاست میں اہم سمجھ رہے ہیں۔ اگر تحریک انصاف یہ انتخاب جیت کر پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو مرکز میں شہباز شریف کی اتحادی حکومت بھی شاید زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی۔ ففتھ جنریشن وار کی ’ڈاکٹرائن‘ کے تحت عمران خان کی سربراہی میں ایک ہائبرڈ نظام متعارف کروایا گیا تھا۔ جب اس اڑیل ٹٹو نے چلنے سے انکار کردیا تو اس کی جگہ ’تحریک عدم اعتماد‘ کے نام سے پرانی سیاسی قوتوں کو زور آزمائی کا ایک نیا موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب اگر عمران خان ’مسٹر ایکس‘ کے زور لگانے کے باوجود ضمنی انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ریاستی قوتوں کی سوچی سمجھی متفقہ حکمت عملی کو ناکام بنانے کے مترادف ہوگا۔ نظر بظاہر اس حکمت عملی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسی انقلابی کامیابی کے لئے جس زاد راہ کی ضرورت تھی ، عمران خان اسے فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں یعنی پارٹی کے وفاداروں کو آگے لانے کی بجائے ابن الوقت سیاسی گھوڑوں پر تکیہ کیا گیا ہے۔ ان حالات میں نظریاتی ہونے کے دعوے، جہاد برپا کرنے کا ہنگامہ اور برائی کو شکست دینے کا عزم خود ہی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔
اسی لئے عمران خان جیسے لیڈروں کو فیس سیونگ کے لئے ’مسٹر ایکس‘ جیسے کرداروں کی ضرورت رہتی ہے یا اعلیٰ عہدیداروں کی کردار کشی کے کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایاجاتا ہے جس میں اپنی ناکامی کے عذر کے طور پر ’نامعلوم عناصر‘ کی مداخلت کو پیش کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر مریم نواز اور حمزہ شہباز سے متعدد خفیہ ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ حالانکہ عام عقل کا انسان بھی یہ جان سکتا ہے کہ اگر الیکشن کمشنر نے واقعی موجودہ حکومت کے حق میں انتخابات میں دھاندلی کا ارادہ کیا ہے تو وہ اس کے نمائیندوں سے ہرگز خفیہ ملاقاتیں نہیں کریں گے۔
بظاہر یہ گتھی الجھی ہوئی اور مشکل لگتی ہے لیکن درحقیقت مسٹر ایکس ایک ایسے پراسرار کردار کا نام ہے جو تحریک انصاف کی شکست کا بوجھ اٹھانے کے لئے تخلیق کیا گیا۔ بے چارہ مسٹر ایکس ویسے تو کسی لینے دینے میں نہیں ہے لیکن 17 جولائی کے بعد عمران خان کا سب سے بڑا غم گسار ہوگا۔