تیزی سے بڑھتی آبادی کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے
صدر عارف علوی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے خاندانی منصوبہ بندی کو معمول پر لانے کے ذریعے پاکستان میں آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے.
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 میں عالمی آبادی 9.7 ارب سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ متوقع اضافے میں سے نصف کا اضافہ پاکستان سمیت 8 ممالک میں ہو گا۔ عالمی یوم آبادی کے موقع پر اقوام متحدہ ی جانب سے جاری کی گئی ورلڈ پاپولیشن پراسپیکٹس 2022 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ اس سال نومبر میں عالمی آبادی آٹھ ارب سے تجاوز کر جائے گی۔ آبادی میں اس اضافے کے ذمے دار آٹھ ممالک پاکستان کے علاوہ کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائیجیریا، فلپائن اور تنزانیہ ہیں۔
تازہ ترین تخمینوں کے مطابق آبادی 2030 میں تقریباً 8.5 ارب اور 2050 میں 9.7 ارب تک بڑھ سکتی ہے جس کے بعد 2080 کی دہائی میں اس کے 10.4 ارب لوگوں کی بلندی پر پہنچنے کا امکان ہے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایشیا کی آبادیاتی توسیع کے نتیجے میں دنیا کی آبادی میں آٹھویں ارب کے نصف کا اضافہ ہوا ہے، بھارت 2023 میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر چین کو پیچھے چھوڑنے کی راہ پر گامزن ہے جبکہ عالمی آبادی 15 نومبر کو آٹھ ارب تک پہنچ جائے گی۔
1990 میں پاکستان دنیا کے 10 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر تھا تاہم 2022 میں ملک آبادی میں اضافے کے اعداد و شمار میں پانچویں نمبر پر ہے۔ 2050 میں بھی پاکستان کے اسی پوزیشن پر رہنے کا امکان ہے۔
پیدائش کے وقت عالمی متوقع عمر 2019 میں 72.8 سال تک پہنچ گئی ہے جو 1990 سے تقریباً 9 سال کی بہتری کو ظاہر کرتی ہے لیکن 2021 میں کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے متوقع عمر عالمی اوسط سے 7 سال پیچھے رہ گئی۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں آبادی کا حصہ بڑھ رہا ہے۔
پاکستان میں آبادی میں تیزی سے اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار طرز زندگی کو خطرہ بنا رہا ہے جو کہ ساڑھے 22کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو درپیش مسائل کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت عام لوگوں کو آبادی میں اضافے کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے تمام آپشنز استعمال کر رہی ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آبادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کم وسائل کا حوالہ دیا اور عوام میں بہتر صحت کی دیکھ بھال، مستحکم معیشت اور پائیدار سماجی زندگی کے لیے آبادی میں اضافے کی شرح پر قابو پانے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پر زور دیا۔