کورونا وبا کا خاتمہ نزدیک نہیں: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وبا ختم ہونے کے نزدیک نہیں ہے۔ اس کا پھیلاؤ بڑھنے کے ساتھ ہی ہمیں فوری محتاط ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ کورونا وائرس کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس سے نظام صحت اور ہیلتھ ورکرز پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کیے گئے کورونا کیسز کی تعداد میں گزشتہ 2 ہفتوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا، جس کا سبب اومیکرون ویرینٹ کی ذیلی اقسام اور کورونا پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ پھیلاؤ میں اضافے کے ساتھ حکومتوں کو ماسک پہننے اور وینٹیلیشن کو بہتر بنانے جیسے مؤثر اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے۔ ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ بی اے 4 اور بی اے 5 جیسی اومیکرون کی ذیلی اقسام دنیا بھر میں کورونا کیسز، ہسپتال میں مریض کی تعداد اور اموات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے نگرانی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، اس کے نتیجے میں مختلف ویرینٹس کے سبب بیماری کی خصوصیات اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں ٹیسٹنگ علاج اور ویکسین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔
عالمی ادارہ صحت کی کورونا ایمرجنسی کمیٹی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں اس بات کا تعین کیا کہ کورونا وبا پبلک ہیلتھ امرجنسی کی صورت میں بیماری بین الاقوامی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے واضح طور پر خطرے کی گھنٹی قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی امور کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے اجلاس کو بتایا کہ ٹیسٹنگ پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیاں کیسز کا پتہ لگانے اور وائرس کے ارتقا کی نگرانی میں رکاوٹ ہیں۔ اجلاس میں شرکا نے کہا کہ وائرس کے ارتقا کی رفتار اور ابھرتی ہوئی اقسام کی خصوصیات غیر یقینی اور غیر متوقع ہیں۔ ٹرانسمیشن کو کم کرنے کے اقدامات کی عدم موجودگی سے نئے اور پہلے سے مضبوط قسم کے ویرینٹس ابھرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
دریں اثنا عالمی ادارہ صحت کے یورپی دفتر نے عمر رسیدہ اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے کورونا ویکسین کے دوسرے بوسٹر شاٹ کی تجویز دی ہے۔ یورپ کے بیشتر حصوں میں مئی کے آخر سے کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس سے قبل یورپی یونین کی صحت اور ادویات کی ایجنسیوں کی جانب سے 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے دوسرے بوسٹر شاٹ کی تجویز دی جاچکی ہے۔