سری لنکن صدر فوجی طیارے میں ملک سے فرار ہوگئے
سری لنکا کے صدر گوتابایا راجاپکسے مستعفی ہوئے بغیر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ وہ اس وقت مالدیپ میں موجود ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ صدر پکسےبدھ کو اپنی اہلیہ اور دو محافظوں کے ہمراہ فضائیہ کے طیارے میں ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ سرکاری ذرائع اور صدر پکسے کے قریبی حلقوں کا بتانا ہے کہ مفرور صدر اس وقت مالدیپ کے دارالحکومت مالی میں ہیں۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت صدر کو ملک چھوڑنے سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔
اس سے قبل پیر اور منگل کی درمیانی شب سری لنکن صدر نے متحدہ عرب امارات فرار ہونے کی کوشش کی تھی تاہم ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام سے تکرار کے بعد وہ ہوائی اڈے کے قریب واقع ملٹری بیس پر چلے گئے تھے۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں معاشی بحران کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔ ہفتے کو مظاہرین نے صدارتی محل کا گھیراؤ کیا تھا جس کے بعدصدر گوتابایا راجاپکسے نے اعلان کیا تھا کہ وہ بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تاکہ متحدہ حکومت قائم کی جا سکے۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم رانل وکراماسنگھے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کر چکے ہیں۔ سری لنکن آئین کے مطابق اگر وزیرِ اعظم بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں تو اس صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابی وردنا قائم مقام صدر بن جائیں گے اور وہ اس وقت تک اس عہدے پر فائز رہیں گے جب تک نئے صدر کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔
اسپیکر ابی وردنا نے پانچ روز قبل کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 14 جولائی کو ہو گا جس میں ملک کے نئے صدر کا انتخاب ہوگا۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس کب ہو گا اور صدر گوتابایا کے استعفے کے بغیر نئے صدر کا انتخاب کس طرح کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ راجا پکسے خاندان گزشتہ کئی برسوں سے سری لنکا کی سیاست میں نمایاں پوزیشن پر رہا ہے۔ موجودہ صدر گوتابایا کے بھائی مہندا راجا پکسے نے شدید عوامی احتجاج کے بعد مئی میں وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیا تھا۔ جب کہ ان کے ایک اور بھائی باسل نے رواں برس اپریل میں وزیرِ خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ واضح رہے کہ عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال نے سری لنکا کے سیاحت کو بری طرح متاثر کیا تھا جب کہ بیرونِ ملک سے آنے والے زرِ مبادلہ میں کمی اور کھاد میں استعمال ہونے والے کیمیکل پر پابندی نے بھی سری لنکا کی معیشت کو دھچکا لگا تھا۔
سری لنکا کو پیٹرول، گیس، خوراک اور ادویات کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ایندھن کے حصول کے لیے شہریوں کو طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ صورتِ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ سری لنکا میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 54 اعشاریہ چھ فی صد ریکارڈ کی گئی تھی اور مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران یہ 70 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔