مزید جھوٹ

جو عزت چاہتا ہے جھوٹ ترک کر دے، جو آسانی چاہتا ہے دروغ گوئی سے اجتناب کرے، جو میٹھی نیند سونا چاہتا ہے کذب سے منہ موڑ لے۔ دنیا کی تمام برائیاں ایک کمرے میں رکھ کر کمرہ مقفل کر دیا گیا ہے، اور یہ قفل صرف ایک ہی کنجی سے کھلتا ہے، اور اس کنجی کا نام ہے ’جھوٹ‘۔

دنیا کی ہر برائی سے بچنے کا، ہر ذلت ہر رسوائی سے محفوظ رہنے کا ایک انتہائی سادہ اور آزمودہ نسخہ ہے، جھوٹ سے پرہیزکریں۔ اور جھوٹی گواہی تو جھوٹ کی بدترین قسم ہے جو ہمارے اعتقاد کی رو سے گناہِ کبیرہ ہے۔عمران حکومت میں ایک وزیر ہوتے تھے شہریار آفریدی، اپنی ہر تقریر درود ِپاک سے شروع کرتے تھے، پھر مزید کچھ دعائیں پڑھتے تھے، اپنی گفتگومیں ماشا اللہ اور الحمدللہ کے ستارے جا بہ جا ٹانکتے تھے اور یہ تو سارا ملک جانتا ہے کہ انہوں نے ’جان اللہ کو دینی ہے‘۔ان صاحب نے ایک یادگار پریس کانفرنس کی تھی جس میں ڈی جی اے این ایف بھی ان کے ساتھ تھے، جس میں آفریدی صاحب نے بارہ مرتبہ خدا کا نام لیا تھا، جان اللہ کو دینے کا وعدہ کیا تھا اور رانا ثنا اللہ سے پندرہ کلو منشیات رنگے ہاتھوں پکڑنے کا اعلان فرمایا تھا۔ اور یہ بھی بتایا تھا کہ گرفتاری کی ویڈیو اور تمام ثبوت موجود ہیں جو عدالتوں میں پیش کر دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ وہ اس پریس کانفرنس میں اپنی ’کامیابی‘ پر مسلسل مسکرا رہے تھے، اور ان کی بلند آواز میں حقانیت کا وفور تھا۔ پھر اسی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے درودِ پاک سے تقریر کا آغاز کیا، ساتھ حضرت موسیٰ کی دعا ”رب شرح لی صدری “بھی پڑھی، پھر آئین کی حرمت کا ذکر کیا، پھر اپنے حلف کی ذمہ داریوں کے ادراک کا دعویٰ کیا۔ اور پھر بتایا کہ رانا ثنااللہ پاکستان کا پبلو ایسکوبار ہے، یعنی منشیات فروشی کے دھندے کا بے تاج بادشاہ ہے۔

اب معلوم ہوا ہے کہ وہ سراسر، سو فی صد، صریحاً جھوٹ بول رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں، مگر وہ بے تکان، انتہائی اعتماد سے سفید جھوٹ بول رہے تھے۔ (شہر یار آفریدی کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہونے والے احمد فراز کہتے ہیں ’میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں، لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں‘)۔ عمران کابینہ کے ایک اور وزیر چودھری فواد نے یہ راز افشا کیا ہے کہ رانا ثنااللہ کیس بے سروپا اور بے بنیاد تھا اور یہ کہ میں نے منع بھی کیا تھا کہ یہ جھوٹا کیس نہ بنایا جائے جس پراس وقت اے این ایف کے سربراہ ناراض ہو کر میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔ کابینہ کے اہم وزیر کی مخالفت کے باوجود یہ کیس کس کے کہنے پر بنایا گیا؟ فواد نے تویہ نہیں بتایا مگر یہ کوئی راز نہیں۔ سچ یہی ہے کہ رانا ثنا اللہ پر جھوٹا کیس بھی ان صاحب نے ہی بنوایا تھا جنہوں نے اپنے ہر سیاسی مخالف پر جعلی کیس بنوایا تھا۔اور ان کیسز کو ہم یونہی بے سروپا نہیں کہہ رہے، ہر عدالت نے ضمانت لیتے ہوئے نیب کے ہر سیاسی کیس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بلا شبہ، جھوٹ کے اس کاروبار کا سب سے بڑا بیوپاری نیب رہا ہے، طیبہ گل کی دل خراش کہانی تو آپ نے سن ہی لی ہو گی۔انصاف کی تلاش میں وزیراعظم عمران خان تک پہنچنے والی اس خاتون کی داد رسی کے بجائے، اس خاتون کو بلیک میل کرنے والے سرتاپا ’صالح‘ کردار کی ویڈیوز اس خاتون سے حاصل کی گئیں اور پھر مبینہ طور پر ان غیر اخلاقی ویڈیوز کی مدد سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نیب کیسز ختم کرائے گئے۔ طیبہ گل نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں جب وہ عمران خان سے ملیں تو دورانِ گفتگو خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کا حوالہ بھی دیا تھا ( مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں)۔ بہرحال، خان صاحب ایک باکردار انسان ہیں جو حقائق سے متاثر نہیں ہوتے، ظفر اقبال فرماتے ہیں، جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر، آدمی کو صا حب کردار ہونا چاہیے۔ عمران خان آج بھی اسی ایقان سے فرماتے ہیں کہ رانا ثنااللہ نے اٹھارہ قتل کئے ہیں، میرے خلاف امریکا نے سازش کی ہے، اپوزیشن چور ہے، اور فرح گوگی، بشریٰ اور میں ایمان دار ہیں۔

ایسا بیانیہ جھوٹ اور نفرت کی دکان پر ہی بک سکتا ہے، جہاں سیاسی مخالفین کے بارے میں  برہنہ جھوٹ بولا جائے، انہیں ڈی ہیومنائز کر کے اپنے حواریوں کی نظر میں قابل نفرت بنا دیا جائے۔ اور اس نفرت کی راہ میں حقائق کو بھی حائل نہ ہونے دیا جائے۔ یہ ہے وہ نسخہ جسے ٹرمپ اور مودی نے بھی کامیابی سے استعمال کیا اور ہم بھی اس کا موثر استعمال اپنے ہاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی کا شاخسانہ تھا جو ہم نے موٹر وے پر بھیرہ کے ایک ریستوران میں دیکھا جہاں مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کو دیکھ کر ایک متمول خاندان کے افراد، عورتوں اور بچیوں نے ’ چور چور کے ‘ نعرے بلند کیے۔ آپ ذرا تصور تو کیجیے اس دماغی ساخت کا، اپنے باپ سے بڑی عمر کے شخص کو، جو دنیا کے سب سے موقر اداروں وارٹن بزنس سکول، ہارورڈ یونی ورسٹی اور جارج ٹاﺅن کا فارغ التحصیل ہو،اور عدالتوں کے مطابق جس کے اوپر واحد کیس سیاسی دشمنی کے باعث بنایا گیا ہو  اور جسے گالی دینے کے لئے خان صاحب کو ’ارسطو‘  کا لفظ استعمال کرنا پڑتا ہو، کیا ایسے شخص کو گالی دینا اندھی نفرت کے بغیر ممکن ہے؟ پھر جب اس خاندان نے احسن اقبال سے اپنی بدتہذیبی پر معذرت کی تو خان صاحب نے بہت برا منایا، اور انہیں برا ہی منانا چاہیے تھا کہ مبادا ان کے ٹائیگرز آئندہ گالم گلوچ سے گریز نہ کرنے لگیں، نفرت کا الاﺅ ماند نہ پڑ جائے، معاشرے کی رگوں میں سمِ قاتل کا ریلا کہیں رک نہ جائے۔ اور وہ بھی ایک ایسے وقت پر جب پنجاب ام الانتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہی تو سیزن ہوتا ہے نفرت کے بیوپار کا۔

پس نوشت:خان صاحب کچھ بھی کہیں، کچھ بھی کریں،سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں خان صاحب سے محبت ہے۔ ان سے زیادہ رونقی وزیراعظم ممکن نہیں، صرف عید کی مثال ہی لے لیجیے، شہباز شریف نے عید کی نماز پڑھی، اور بس، خبر ختم۔جب کہ عمران خان عید پر کیسی رونق لگایا کرتے تھے، کبھی خبر آتی خان صاحب عید کی نماز نہیں پڑھ پائے، کبھی پتا چلتا عید کی نماز ظہر کے وقت بنی گالا میں پڑھی گئی ہے، کالی عینک، نیلے پیلے نمازی۔ دلِ مرحوم یاد آتا ہے، کیسی رونق لگائے رکھتا تھا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)