کیا کپتان بھی بھاگ جائے گا؟

پی ٹی آئی والے دوست کچھ بھی کہیں مجھے خدشہ ہے کہ کپتان بھی نواز شریف کی طرح بھاگ جائے گا۔  سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ شاید آپ مجھ سے اختلاف کریں۔ لیکن سچ یہی ہے۔ میں تو کہتا ہوں جتنی جلدی ممکن ہو پی ڈی ایم عمران خاں اور اس کے ساتھیوں پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات درج کرائے۔

اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہو گا کہ عمران خان سمیت جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس ملک میں سیاسی انقلاب ممکن ہے، وہ اس خواب سے باہر آ جائیں گے اور انہیں علم ہو جائے گا کہ یہاں صرف خونی انقلاب ممکن ہے۔ دو سرے اس مقدمے کے نتیجے میں اگر عمران خان اور اس کے ساتھیوں کو سزائے موت بھی دے دی جائے گی تو اس کے بعد یا تو عوام ہمیشہ کے لیے خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اور جرنیل اور جج اپنی مرضی کا سلوک اس ملک کے باشندوں سے کرتے رہیں گے۔ وہ کروڑوں اور کھربوں کی جائیدادیں بناتے رہیں گے اور عوام اپنے بچوں کی دوائی کے لیے بھی ترستے رہیں گے۔ کچھ مر جائیں گے کچھ بھاگ جائیں گے، باقی جہنم سے بدتر زندگی گزارتے رہیں گے۔

 اور یہ روز روز کا خواب انقلاب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ نہ کسی کی عزت محفوظ ہو گی اور کسی کی جان کو تحفظ ہو گا۔ اور ہو بھی کیوں کہ غلاموں کو یہ حقوق حاصل نہیں ہوا کرتے۔ یا پھر یہ ہو گا کہ ہزاروں برس کے سوئے ہوئے عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور پھر آرٹیکل 6 کے تحت پھانسیوں کا اک لامتناہی سلسلہ شروع یو جائے گا۔ ہر چوراہے پر پھانسی گھاٹ نصب ہوں گے۔ اور عوام اس ملک کے دشمنوں کو پھانسی دیں گے۔ یہاں تک کہ کچھ عظیم المرتبت جرنیل اور منصف جو نظریہ ضرورت کے بانی ہیں انہیں قبروں سے نکال نکال کر پھانسی پر لٹکایا جایے گا۔ اور ظاہر ہے عمران خان اور اس کے ساتھیوں کی پھانسی کے بعد ان جرنیلوں اور منصفوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والے اور ان کی لوٹ مار میں ان کا ساتھ دینے والے سیاستدانوں اور ان کے بچوں کو کہاں پناہ ملے گی۔

میں تو ہمیشہ یہی کہتا رہا ہوں کہ انقلاب ہمیشہ خونی ہوتا ہے اور یہی اس ملک کے مسائل کا بھی حل ہے۔ کیونکہ کینسر زدہ حصوں کو کاٹ کر پھینکنا بہت ضروری ہوتا یے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کینسر پورے ملک کو کھا جاتا ہے یا لوگ اٹھ کر کینسر کو کاٹ دیتے ہیں۔ ویسے بھی اگر عمران خان یہ سمجھ رہا ہے کہ اس طرح کے جلسے اور جلوس منعقد کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ اسے آرام سے حکومت دے دے گی تو یہ ایک دیوانے کا خواب یے۔ کیونکہ موجودہ صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ  کا ہار ماننے کا مطلب ہمیشہ کے لیے اقتدار سے باہر ہونا ہے۔ اور بات یہاں تک نہیں رکے گی جو کچھ کھایا پیا ہے اس کا حساب بھی دینا پڑ جائے گا۔

اب یا تو عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ پر بیعت کرکے امریکہ اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے مطابق حکومت میں آئے گا ورنہ پھر خونی انقلاب۔ جس میں جو بچ گیا اس کی حکومت ہوگی۔ پی ٹی آئی والے دوست کچھ بھی کہیں، مجھے یہ خدشہ ہے عمران خان بھی نواز شریف کی طرح اپنے موقف سے بھاگ جائے گا اور سول سپرمیسی یعنی ووٹ کو عزت دو کی جنگ ادھوری رہ جائے گی۔

 تاہم سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ اس بات مظہر ہے کہ کپتان ابھی تک ڈٹا ہوا ہے۔