سری لنکا کے وزیرِ اعظم وکرما سنگھے نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا

  • جمعہ 15 / جولائی / 2022

سری لنکا کے وزیرِ اعظم رانیل وکرما سنگھے جمعے سے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے۔ وہ نئے صدر کے انتخاب تک عبوری صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

سری لنکا کی معیشت کے دیوالیہ ہونے پر ملک میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سابق صدر گوتابایا راجا پکسے نے جمعے کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفے کے بعد مظاہرین نے دارالحکومت کولمبو میں بیشتر سرکاری عمارتوں کا قبضہ بھی چھوڑ دیا ہے۔

حکومت مخالف مظاہرین گزشتہ اختتامِ ہفتہ ایوانِ صدر میں داخل ہو گئے تھے اور ملک کے اعلیٰ عہدوں پر موجود شخصیات سے مستعفی  ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ راجا پکسے کے بدھ کو ملک سے فرار کے بعد وزیرِ اعظم رانیل وکرما سنگھے قائم مقام صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا کا کہنا ہے کہ پارلیمان جلد ہی نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کیاجائے گا۔ ممکنہ طور پر آئندہ ایک ہفتے میں ملک کے نئے صدر کا انتخاب ہو جائے گا۔ قبل ازیں جمعے کو ہی اسپیکر نے اعلان کیا تھا کہ سابق صدر گوتابایا راجا پکسے نے صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سری لنکا کی پارلیمان کا اجلاس ممکنہ طور پر ہفتے کو ہوگا جس میں نئے صدر کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سری لنکا میں صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ملک کے وزیرِ اعظم کا تقرر کرے۔ بعد ازاں اس تقرر کی منظوری پارلیمان سے بھی لی جاتی ہے۔

مستعفی ہونے والے صدر گوتابایا راجا پکسے بدھ کو سری لنکا سے فرار ہو کر مالدیپ پہنچے تھے جب کہ جمعرات کو وہ سنگاپور پہنچ گئے تھے۔ اسپیکر نے ان کا استعفیٰ بھی جمعرات سے مؤثر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے والے صدر گوتابایا راجا پکسے نے امریکہ کا ویزا حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی البتہ ان کی درخواست کو رد کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے 2019 میں صدارتی الیکشن میں حصہ لینے سے قبل امریکہ کی شہریت ترک کی تھی۔

سابق صدر گوتابایا راجا پکسے پر الزام ہے کہ ان کی بد انتظامی کی وجہ سے ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہوا ہے۔ مستعفی صدر گوتابایا راجا پکسے کا خاندان گزشتہ کئی برس سے سری لنکا کی سیاست میں نمایاں پوزیشن پر رہا ہے۔ ان کے بھائی مہندا راجا پکسے نے شدید عوامی احتجاج کے بعد مئی میں وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیا تھا۔ جب کہ ان کے ایک اور بھائی باسل راجا پکسے رواں برس اپریل میں وزیرِ خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہوئے تھے۔