ضمنی انتخابات میں امن و امان کیلئے فوج، رینجرز اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ
سترہ جولائی کے ضمنی انتخابات کے دوران امن وامان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے فوج، رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں وزیرداخلہ پنجاب عطااللہ تارڑ، سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل اور اعلیٰ فوجی حکام سمیت دیگر حکام نے شرکت کی جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے ضمنی انتخابات کے تمام حلقوں میں آتشیں اسلحہ کی نمائش، ساتھ رکھنے پرمکمل پابندی ہوگی جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر شرپسند عناصر کی ضمنی انتخابات کے حلقوں میں داخلے پر پابندی ہوگی۔Atاجلاس میں گجرات سے لاہور میں لائے گئے 300 اسلحہ بردارافراد کے حوالے سے رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایسے مسلح افراد کی ضمنی الیکشن کے دوران امن وامان پراثر انداز ہونے کے باعث پیشگی اقدامات لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی وفاقی سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سے ضمنی انتخابات کے دوران سکیورٹی انتظامات کرنے پر تمام وسائل بروئے کارلائیں جائیں۔ وزارت داخلہ کے زیرانتظام سول آرمڑ فورسز امن وامان کیلئے صوبہ سندھ اور پنجاب کی مکمل معاونت کرے گی اور چیف الیکشن کمشنر کے خط کی روشنی میں پنجاب کے چھ انتہائی احساس حلقوں میں سیکورٹی کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتہائی حساس انتخابی حلقوں میں لاہور کے چار، بھکر اور ملتان کا ایک ایک حلقہ شامل ہے۔ ضمنی انتخابات کے دوران دوسرے صوبوں سے لائے گئے شر پسند عناصر پرکڑی نظررکھی جائے۔