پی ٹی آئی قیادت کےخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل

  • جمعہ 15 / جولائی / 2022

وفاقی کابینہ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے غداری کے مقدمے سے متعلق وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئندہ اقدامات پر تجاویز پیش کرے گی۔

کابینہ کے اجلاس میں گزشتہ دنوں میں بارش کی تباہ کاریوں میں جاں بحق ہوجانے والوں کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی اور ان کے لواحقین کے لیے مختص ریلیف پیکج فوری فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اجلاس میں کل وزیراعظم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد صوبائی اور وفاقی سطح پر اس پر عملدرآمد کے لیے مکمل مانیٹرنگ کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ جیسے جیسے مزید کمی آئے گی تو اس کے ایک ایک پیسے کا فائدہ ریلیف کی صورت میں عوام تک پہنچایا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے معطل شدہ معاہدے کو موجودہ حکومت نے دن رات محنت کرکے بحال کروا لیا ہے، اسی دوران ایسا بجٹ بھی پیش کیا جس سے عام آدمی کو ریلیف مل رہا ہے اور ملک کو استحکام کی جانب لے جائے گا۔ حکومت اور وزیراعظم کی یہ متفقہ رائے ہے کہ ملک صرف اس وقت ترقی کر سکتا ہے جب ملک کی معیشت مستحکم ہوگی اور ملک معاشی طور پر خومختار ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر مقررہ مدت سے زائد عرصے تک ملک میں ٹھہرنے والے غیر ملکی لوگوں کے لیے ایمنیسٹی کی منظوری دی ہے۔ بیرون ملک سے پاکستان آنے والوں اور دیگر کے لیے یہ ایمنسٹی 31 دسمبر 2022 تک موجود رہے گی۔ اس مدت تک وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر آگہی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ جو غیر ملکی لوگ واپس جانا چاہتے ہیں، وہ اس دوران انتظامات مکمل کرسکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات، تمام وفاقی وزرا اور اتحادی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ یہ خصوصی کمیٹی عدالت کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں اقدامات کے حوالے سے اپنی تجاویز مرتب کرکے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

آرٹیکل 6 کی کارروائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ عدالتی فیصلہ واضح ہے جس میں نام درج ہیں کہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر، وزیر اعظم نے آئینی عہدوں کی تذلیل کی۔ لہٰذا کابینہ کا فیصلہ بھی واضح ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس آئین شکنی اور آئینی سرکشی کو ختم کرنے کےلیے کمیٹی تجویز پیش کرے گی اور کابینہ اس کی منظوری دے گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ طیبہ گل کا معاملہ بھی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا، یہ بات سامنے آئی کہ طیبہ گل نے سابقہ حکومت کے پی ایم پورٹل پر شکایت درج کروائی تھیں جس کے بعد انہیں وزیراعظم آفس بلا کر ان کے مطابق 18 روز تک وہاں اغوا کرکے رکھا گیا۔ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے کمیشن آف انکوائریز ایکٹ 2017 کے تحت ایک آزاد اور شفاف کمیشن بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ کابینہ کی کمیٹی کے ساتھ مل کر اس کمیشن کے تمام امور کو حتمی شکل دے کر کابینہ سے اس کی منظوری لی جائے گی۔