آئین سے بغاوت پر سیاست
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 15 / جولائی / 2022
17 جولائی سر پہ کھڑی ہے۔ کوئی مسٹر ایکس لاہور میں براجمان ہیں اور اپنے ’برادر خورد‘ مسٹر وائی کو ملتان بھیج دیا ہے تاکہ وہاں زین قریشی اپنے والد مخدوم محمود شاہ قریشی کی شکست کا بدلہ نہ لے سکے۔ ادھر سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلہ میں دیگر دلائل دینے کے علاوہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ عدالت کو وہ خفیہ مراسلہ نہیں دکھایا گیا جس کے بارے میں عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اسی میں ان کی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کا سارا راز پوشیدہ ہے۔
حالات و واقعات کی یہ ستم گری کافی نہیں تھی تو کسی درپردہ مگر پکڑی نہ جانے والی ’ بین الاقوامی سازش‘ کے تحت عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم کروادی گئیں تاکہ پاکستان کا ’امپورٹد وزیر اعظم‘ شہبازشریف پنجاب کے ضمنی انتخابات سے عین پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرکے قومی ہیرو بننے کی کوشش کرے اور پنجاب کے بھولے عوام ایک جعلی اعلان کو حقیقی مان کر شہباز شریف کو نجات دہندہ سمجھنے لگیں۔ ظاہر ہے پاکستان عالمی سیاست میں ’بنیاد‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہاں پر عالمی طاقتوں کو للکارنے والا جری لیڈر عمران خان اس وقت عوامی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ رہاہے۔ اسے اس بات کا یقین ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ہونے والے کسی بھی قومی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے عوام دوست حکومت قائم کرے گا اور پاکستان کے عالمی دشمنوں کو تہس نہس کردے گا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ’ عام انتخابات تو ابھی دور ہیں، یہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہی دوددھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی عوام عالمی سازشوں کو بھانپ چکے ہیں اور ’امپورٹڈ حکومت‘ کے چیلوں چانٹوں کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے‘۔
عمران خان نے مسٹر ایکس کی حرکتوں کا سراغ لگاکر تو عوام کو چوکنا کردیا تھا لیکن اب اس ناگہانی کو کیا کہا جائے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو وطن عزیزکے خلاف عالمی سازشوں کی گہرائی اور سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ہوپایا۔ ایک پرانے معاملہ پر فیصلہ سنانے کے لئے ایک ایسا دن منتخب کیا گیا جب پنجاب کے عوام سب سازشوں اور ’حکومتی ہتھکنڈوں‘ کو ناکام بنانے کے لئے دھڑا دھڑ تحریک انصاف کے جاں نثار، قوم پرست اور محنتی کارکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ باندھ رہے تھے۔ ایسے میں عدالت عظمی کا فیصلہ سامنے آنا اور پرانی باتوں کے بارے میں نئی تفصیلی دلیلیں پیش کرنے سے ظاہر ہے کہ انصاف تو مضبوط نہیں ہوگا بلکہ اس سے تو سازشی عناصر کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ فواد چوہدری نے فوری طور سے پریس کانفرنس کرکے سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ’نقائص و تضادات‘ کی نشاندہی تو کی ہے اور درمندی سے سوال بھی کیا ہے کہ’معزز جج حضرات کیا آپ کو ملک کے خلاف نئی سازشوں کا اندازہ نہیں ہے کہ آپ پرانی ’سازش‘ کے غبارے سے ہوا نکالنے پر تلے ہوئے ہیں‘؟ جو فیصلہ پہلے ہی دو اڑھائی ماہ سے مؤخر تھا، اگر مزید دوچار روز اس کا اعلان نہ کیا جاتا تو آپ کا کیا جاتا۔ ضمنی انتخاب کا ٹنٹا خیر خوبی سے نکل جاتا۔ عمران خان پنجاب میں ’مسٹر ایکس‘ کی سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوجاتےتو بھلے ایسے فیصلے سامنے آتے رہتے۔ پھر عام انتخابات تک اس قسم کے فیصلوں کا ’زہر‘ نکالنے کے لئے دس نئے ہتھکنڈے تلاش کئے جاسکتے تھے۔ لیکن اس وقت اس پرانے مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ عام کرنا تو بالکل ویسا ہی طریقہ ہے جو شہباز شریف نے عالمی سازش کے ’ہرکارے‘ کے طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرکے اختیار کیا ہے۔ اب بیچارہ عمران خان کس کا دامن پکڑے۔ اس پریشانی میں البتہ عثمان بزدار کی پریشانی علیحدہ نوعیت کی ہے۔ وہ منہ سے کچھ بولنا تو اپنی خاندانی شرافت و نجابت کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن استفسار بھری آنکھوں سے ٹکڑ ٹکڑ اپنے لیڈر کی طرف دیکھتے ہوئے جاننا ضرور چاہتے ہیں کہ ’اگر اسی حال کو پہنچنا تھا تو میری قربانی دینے کی کیا ضرورت تھی، حالانکہ اس وقت تو بقرعید بھی نزدیک نہیں تھی‘۔
یہ دعوے اور عوام کو رجھانے کے یہ ہتھکنڈے کیا واقعی ملکی سیاست میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں؟ سفارتی مراسلے کے مندرجات میں عمران خان کے سوا کسی دوسرے کو کوئی سازش دکھائی نہیں دی۔ اس مراسلے کے بارے میں مملکت پاکستان کے سب ادارے متفقہ طور سے کہہ چکے ہیں کہ اندرونی ملکی معاملات میں مداخلت کی کوشش ضرور ہوئی ہے اور اس پر احتجاج رجسٹر کروایا جائے لیکن امریکہ یا کسی دوسرے ملک نے پاکستانی میں حکومت کی تبدیلی کے لئے کوئی سازش نہیں کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عمران خان کی وزارت عظمی کے وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ سازش کی باتیں غلط ہیں ۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد جب شہباز شریف کی قیادت میں اس معاملہ پر اجلاس ہؤا ، تب بھی یہی بات سامنے آئی۔ ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی و مفادات کا تحفظ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لئے یہ شبہ نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی ملک سازش کرے گا اور قومی ادارے اسے کامیاب ہونے دیں گے۔
اب سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے بچانے کے لئے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی واضح کیا ہے کہ اوّل تو انہیں یہ سائفر دکھایا نہیں گیا بلکہ بحث کے دوران اس بارے میں اشاروں میں بات کی گئی تھی۔ دوسرے یہ باور کروایا گیا ہے کہ جس معاملہ میں دوسرے ملک ملوث ہوں، س پر نہ تو سپریم کورٹ تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی فیصلہ صادر کرسکتی ہے۔ بین املکی معاملات میں فیصلے کرنا اور لائحہ عمل تیار کرنا حکومت وقت کا کام ہے۔ یہ سوال جمعرات کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلہ میں اٹھایا گیا ہے کہ مراسلہ حکومت 7 مارچ کو مل گیا تھا۔ اگر اس کے مندرجات اور نام نہاد سازش کا پتہ چل گیا تھا تو تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے اس معاملہ پر تحقیقات کرنے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کا اقدام کیوں نہیں کیا گیا۔ یا 3 اپریل کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے لئے سفارتی مراسلہ کو عذر کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اس پر اپوزیشن اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
سفارتی مراسلہ ، امریکی سازش اور پاکستان کے ’میر جعفر و میر صادق‘ کے ذریعے عمران خان کی کامیاب اور پاکستان کو دنیا میں بلندی پر لے جانے والی حکومت کو گرانے کے بارے میں اتنی تفصیلات عام کی جاچکی ہیں کہ اس سلسلہ میں اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں جس طرح جھوٹ کے اس غبارے سے ہوا نکالی گئی ہے، اس پر عمران خان اور تحریک انصاف کی پریشانی قابل فہم ہے۔ تاہم اس کے باوجود ملک کی اس اہم پارٹی کی قیادت یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ قومی سیاست میں جھوٹ اور پروپیگنڈا ضرور کام کرتا ہوگا لیکن کسی بھی سیاسی گروہ کو قومی مسائل حل کرنے کے لئے الزامات، کردار کشی، جھوٹے پروپیگنڈا کے علاوہ کوئی سیاسی لائحہ عمل بھی تیار کرنا چاہئے۔ اگر موجودہ حکومت اور عمران خان کی حکومت کے نمائیندوں کے سیاسی بیانات میں سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کو منہا کردیا جائے تو دونوں گروہوں کی سیاست میں کچھ باقی نہیں بچتا۔ وقت آگیا ہے کہ تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ اتحادی حکومت میں شامل بڑی پارٹیاں بھی اس پہلو پر غور کریں تاکہ ملکی سیاست میں اعتدال اور قبولیت کا ماحول پیدا ہوسکے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ملکی سیاست میں سنسنی پیدا کرنے کی چاہے جیسی بھی کوششیں کی جائیں، اگر سیاسی قیادت کو جمہوری راستے پر آگے بڑھنا ہے اور قومی مسائل کے دیرپا حل کے لئے مفاہمانہ ماحول پیدا کرنا ہے تو ایک دوسرے کے لئے احترام و قبولیت کا راستہ ہموار کرنا ضروری ہوگا۔ یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب سیاست کو شخصیات کی بجائے اصولوں پر استوار کیا جاسکے گا۔
قاسم سوری کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ملکی آئین کے احترام کو بالادست کیا ہے ۔ گو کہ اس فیصلہ پر متحارب سیاسی گروہوں کی جانب سے اپنے نقطہ نظر سے تبصرے کئے جارہے ہیں حالانکہ یہ فیصلہ نہ تو اتحادی جماعتوں کی سیاست کو درست کہہ رہا ہے اور نہ ہی اس نے تحریک انصاف کی سیاست اور عمران خان کی قیادت پر کوئی رائے دی ہے۔ بلکہ آئین کے تناظر میں ایک رولنگ کا جائزہ لے کر اسے غیر آئینی اقدام کہا ہے۔ ایسے فیصلوں سے حکومت اور اپوزیشن کو سبق سیکھنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اس فیصلہ سے رہنمائی حاصل کرنے اور ملکی سیاست کو آئینی بنیاد پر استوار کرنے کی بجائے اب وفاقی کابینہ نے سابقہ حکومتی ارکان کے خلاف غداری کے الزام میں کارروائی کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تفصیلی غور سے پہلے عجلت میں کیا گیا ایسا فیصلہ درحقیقت ملکی سیاسی فضا کو مزید آلودہ کرے گا۔
وفاقی کابینہ کا فیصلہ دراصل سپریم کورٹ کے بنچ میں شامل ایک جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے اضافی نوٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلہ میں آئین کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے اسے بہر طور آئین شکنی قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم جسٹس میاں خیل نے لکھا ہے کہ ’ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی نام نہاد رولنگ بدنیتی پر مشتمل تھی۔ اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے جس کی صدر، اس وقت کے وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اس وقت کے وزیرقانون نے خلاف ورزی کی۔ اراکین پارلیمان کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایسے غیر آئینی اقدامات پر آئین کی شق 6 کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ارکان کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ مستقبل میں ایسی آئین شکنی کا راستہ کھلا چھوڑ دیں یا ایسی قانون شکنی کی گرفت کے لئے مناسب اقدامات کریں‘۔
پانچ رکنی بنچ کے ایک جج کے اس اضافی نوٹ کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف غداری کے الزامات پر سیاست کرنے سے کوئی قومی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ آئین شکنی کی روک تھام کے لئے صرف قانون سازی اور مقدمے قائم کرنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ آئین کا احترام عام کرنے کا رویہ بھی فروغ پانا چاہئے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس پہلو سے معاملہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔