غیر معمولی اہمیت کے حامل ضمنی انتخابات
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 15 / جولائی / 2022
17جولائی کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کے20حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو کئی لحاظ سے منفرد اور غیر معمولی اہمیت کا حامل گردانا جا رہا ہے۔حالیہ ضمنی الیکشن کی ایک انفرادیت بیک وقت20 حلقوں میں انتخابی دنگل کا سجنا ہے۔عام طور پرکسی ایک صوبے میں اتنے زیادہ حلقوں میں ضمنی الیکشن عام انتخابات کے فوری بعد ہونے والے بڑے ضمنی معرکے میں بھی نہیں ہوتے۔
عام انتخابات2018کے بعد پنجاب میں کل12حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے تھے جب کہ قومی اسمبلی کی11سیٹوں سمیت مجموعی طور پر پورے ملک میں 35حلقوں میں بیک وقت پولنگ ہوئی تھی۔حالیہ ضمنی انتخابات کی انفرادیت اور غیر معمولی اہمیت کی بنیادی وجہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کو ہٹائے جانے کے غیر معمولی حالات وواقعات میں مضمر ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد بننے والی صورت حال پر مزید بات کرنے سے پہلے انتخابی حلقوں کی تاریخ، امیدواروں کے چناؤ اور انتخابی مہم کی بنیاد پر ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔جہاں تک پنجاب کے ان 20حلقوں کی انتخابی تاریخ کا تعلق ہے تو عام انتخابات2018میں ان 20میں سے 10حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جب کہ باقی 10حلقوں میں آزاد امیدوار جیتے تھے لیکن وہ بعد ازاں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔جہاں تک ضمنی انتخابات میں ان حلقوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹکٹس دینے کی بات ہے تو (ن) لیگ نے قریبا سارے حلقوں میں انہیں اراکین کو ٹکٹس جاری کیے ہیں جو عام انتخابات2018میں ان حلقوں سے جیتے تھے۔
دیکھا جائے تو (ن) لیگ نے اپنے جماعتی کارکنوں اور پرانے ساتھیوں کو ان حلقوں میں نظر انداز کرتے ہوئے منحرف اراکین کو ٹکٹس جاری کیے ہیں جس سے پارٹی ورکرز اور ووٹرز مایوس اور دل گرفتہ بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر ہ پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے انتخابی مہم میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے بھی پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خاندانی اثر ورسوخ اور ووٹ بینک رکھنے والے"الیکٹیبلز" کا ہی چناؤ کرنے کی کوشش کی ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں اور ووٹرز میں بھی مایوسی اور رنج و الم کے جذبات نمایاں ہیں لیکن (ن) لیگ کی طرح وہ بھی مرکزی قیادت کی انتخابی حکمت عملی کو تسلیم کرتے ہوئے چناؤ کیے گئے امیدواروں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انتخابی ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں نے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر کے قابل رسوخ(الیکٹیبلز)افراد کو ٹکٹس جاری کرنے کی روش نہیں بدلی۔(ن) لیگ کی جانب سے تو یہ جواز سمجھ میں آتا ہے کہ انہوں نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلی کے لیے ووٹ دینے پر پی ٹی آئی کے منحرف اراکین سے آئندہ انتخابات میں ٹکٹس دینے کا وعدہ کر لیا تھا لیکن عدم اعتماد کے بعد کے دنوں میں عمران خان متعدد بار یہ کہتے نظر آئے کہ آئندہ وہ پارٹیاں بدلنے والے ضمیر فروش سیاستدانوں کی بجائے صرف اپنی جماعت کے دیرینہ کارکنوں کو ٹکٹ دیں گے۔واضح رہے کہ پنجاب کے20حلقوں میں پی ٹی آئی نے زیادہ تر ایسے سیاست دانوں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جو یا تو حال ہی میں کسی دوسری جماعت سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں یا پھر پی ٹی آئی میں آنے سے پہلے ایک یا ایک سے زیادہ نشستیں تبدیل کر چکے ہیں۔
اب جہاں تک دونوں جماعتوں کی انتخابی مہموں کا تعلق ہے تو بلاشبہ دونوں جماعتیں ہی انتخابات میں اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 2008سے لے کر اب تک ہونے والے قریبا سارے ہی ضمنی انتخابات میں (ن) لیگ فتح یاب ہوئی۔2013میں اپنے سابقہ دور حکومت میں (ن) لیگ نے 13میں سے 12ضمنی الیکشن جیتے جب کہ 2008اور2018میں بننے والی پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی حکومتوں کے ادوار میں ہونے والے زیادہ تر ضمنی معرکوں میں بھی (ن) لیگ ہی فاتح رہی۔حالیہ ضمنی انتخابات بارے زیادہ تر سیاسی تجزیہ کار اور انتخابی ماہرین کی رائے یہی ہے کہ (ن) لیگ 20میں سے15نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے لیکن انتخابی سیاست پر گذشتہ کئی سالوں سے عملی طور پر نظر رکھنے والے چند انتخابی ماہرین کے مطابق حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج زیادہ تر تجزیہ کاروں کے تجزیوں کے برعکس آئیں گے۔ایسے انتخابی ماہرین کا موقف ہے کہ ماضی کے برعکس حالیہ ضمنی انتخابات دھڑے اور برادری ازم کے ساتھ ساتھ شخصی تصورات کو توڑتے ہوئے دکھائی دے سکتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق (ن) لیگ اگر20حلقوں میں سے10میں بھی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو وہ22جولائی کو ہونے والے وزارت اعلی کے انتخاب میں موجودہ وزیر اعلی حمزہ شہباز کو دوبارہ وزیراعلی منتخب کرا لے گی لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کے لئے 12سے13حلقوں میں کامیابی ضروری ہے۔
حالیہ ضمنی انتخابات کی غیر معمولی اہمیت یہ ہے کہ ان انتخابات کے نتائج کے فوری بعد(22جولائی) کو نہ صرف پنجاب اسمبلی کے وزیرا علی کا انتخاب ہوگا بل کہ ضمنی انتخابات کے نتائج ملک کی مجموعی سیاسی و انتخابی صورت حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔پی ٹی آئی کی کامیابی کی صورت میں (جس کے امکانات بظاہر کم ہیں) (ن) لیگ کو نہ صرف پنجاب کی وزارت اعلی سے ہاتھ دھونے پڑیں گے بل کہ وفاق میں دو ووٹوں کی اکثریت سے میاں شہباز شریف کی وزارت عظمی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت بنانے کے بعد پی ٹی آئی وفاق میں برسراقتدار اتحادی حکومت کو ملک میں فوری انتخابات کرانے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ضمنی انتخابات میں (ن) لیگ کی کامیابی (جس کے امکانات زیادہ ہیں)کی صورت میں پی ٹی آئی نہ صرف پنجاب کی سیاست میں بیک فٹ پر چلی جائے گی بل کہ آنے والے عام انتخابات میں بھی اس کی پوزیشن پنجاب سمیت ملک کے زیادہ تر علاقوں میں کمزور ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔آخری تجزیہ یہی ہے کہ ضمنی انتخابات میں (ن) لیگ اکثریت حاصل کر کے ایک بار پھر حمزہ شہباز کو وزیراعلی منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائے گی اور پی ٹی آئی دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی دکھائی دے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں قریبا سبھی عام انتخابات دھاندلی کسی نہ کسی حد تک دھاندلی زدہ ہی رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عام انتخابات کے برعکس ضمنی انتخابات میں دھاندلی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے سابق ادوار میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں (ن)لیگ کو دھاندلی کی کوششوں کے باوجود نہ ہرایا جا سکا۔حالیہ ضمنی انتخابات میں مین سٹریم میڈیا کے علاوہ، مانیٹرنگ ٹیموں اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا سیل کی بھر پور توجہ ہو گی۔