بھارت کو روس سے تجارت پر امریکی پابندیوں سے استثنٰی دینے کی ترمیم منظور

  • ہفتہ 16 / جولائی / 2022

امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قانونی ترمیم منظور کی ہے جو روس سے میزائل خریدنے پر بھارت کو تعزیری پابندیوں سے تحفظ فراہم کرے گی۔

 جمعرات کو منظور ہونے والی بھارت سے متعلق ترمیم کو صدر جو بائیڈن کے دستخط سے پہلے سینیٹ سے بھی منظور کروانا ہوگا۔ بھارتی نژاد امریکی کانگریس مین رو کھنہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی یہ ترمیم بائیڈن انتظامیہ پر زور دیتی ہے کہ وہ بھارت کو ماسکو سے ہتھیار خریدنے پر پابندیوں سے استثنی فراہم کرے۔

ترمیم میں کہا گیا ہے کہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اس طرح کی چھوٹ ضروری ہے۔ اس سے قبل اس ترمیم کو 2023 کے لیے امریکی دفاعی بل پر غور کے دوران ایک این بلاک ترمیم کے حصے کے طور پر زبانی ووٹ سے منظور کیا گیا تھا۔

امریکا بھارت کو چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے 'کواڈ'  اتحاد میں بھی شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد بحرالکاہل کے علاقے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے۔ 2017 میں امریکی کانگریس کے ذریعہ نافذ کیا گیا، کاسٹا نامی قانون روسی دفاع اور انٹیلی جنس کے شعبوں کے ساتھ لین دین میں شامل کسی بھی ملک کے خلاف پابندیاں عائد کرتا ہے۔

روس یوکرین جنگ کے دوران نئی دہلی کی جانب سے ماسکو سے ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد یہ قانون بھارت امریکا تعلقات میں ایک اہم مسئلہ بن گیا تھا۔ بھارت نے روس سے تیل خریدنے پر امریکی پابندیوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

مئی میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ سینیٹر باب مینینڈیز نے کانگریس کی سماعت میں نشاندہی کی تھی کہ بھارت روس سے تیل خریدتا ہے۔ وہ ایس 400 (اینٹی میزائل سسٹم) خریدتے ہیں، اقوام متحدہ میں روس پر کے خلاف ووٹ سے گریز کرتے ہیں ۔  پھر بھی بھارت کو خلاف ورزیوں کی سزا نہیں دی گئی۔

تاہم کانگریس مین رو کھنہ جو امریکی کانگریس میں انڈیا کاکس کے وائس چیئرمین ہیں، انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھڑا رہے۔ دوسری جانب رواں ہفتے رائٹرز نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ جون میں روس سے بھارت کی تیل کی درآمدات تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ بھارت نے جون میں تقریباً 48 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل کی جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔