پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں مقابلہ ہوگا
پنجاب کے 20حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ اتوار کو ہوگی۔ اس دوران 175 امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ یہ انتخاب ن لیگ اور تحریک انصاف کی مقبولیت کا امتحان ہے۔
پنجاب میں ضمنی انتخابات کے لیے پریزائڈنگ افسران پولنگ کا سامان لینے متعلقہ پولنگ اسٹیشن پہنچنے لگے ہیں۔ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور ایف سی کے جوان تعینات ہوں گے۔ ضمنی انتخابات کے لیے پرجوش انتخابی مہم رات 12 بجے ختم ہوچکی ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل ریٹرننگ افسران تک کردی گئی ہے۔ آج الیکشن مٹیریل ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پریذائیڈنگ افسران کے حوالے کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ پولنگ کا مواد سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچایا جائے گا۔ پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس کے جوان تعینات ہوں گے، جبکہ رینجرز حلقوں میں گشت کرے گی۔ آرمی اسٹینڈ بائی پوزیشن پر ہوگی۔
لاہور کے 4 حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوں گے۔ پی پی 158 میں 251 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ پی پی 167 میں 140 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں، جبکہ پی پی 170 میں 78 پولنگ اسٹیشن ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید 3 دن لاہور کیمپ آفس میں بیٹھیں گے۔ آج شام ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے پولنگ سامان ایشو ہوگا۔ پولیس کی نگرانی میں سامان پولنگ اسٹیشنز میں پہنچایا جائے گا۔
ذرائع الیکشن کمیشن کا بتانا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل کل مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورے کریں گے۔ ضمنی انتخاب میں 50 ہزار کے قریب پولیس اہلکار ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق پنجاب کے 20 حلقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کی کل تعداد 3 ہزار 131 ہے۔ 676 انتہائی حساس، 1194 حساس اور 1271 نارمل پولنگ اسٹیشن ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی نفری حساس، انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹی سر انجام دے گی۔ پنجاب کے 20 حلقوں میں 45 لاکھ 79 ہزار 898 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
آئی جی پنجاب راؤ سردار علی کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی ضمنی انتخابات کے پر امن انعقاد کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔ 14 اضلاع کے 20 حلقوں میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنائے جائیں گے۔ ضمنی انتخابات کے 3100 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر 52 ہزار اہلکار و افسران تعینات کیے گئے ہیں۔ خواتین کے پولنگ اسٹیشنوں پر لیڈی پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گی۔ لاہورکے 4 حلقوں میں 9 ہزار سےزائد اہلکارتعینات ہوں گے۔
راؤ سردار علی کا کہنا ہے کہ افسران و اہلکار ایس او پیز کے مطابق آج سے ہی فرائض کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔ اسلحے کی نمائش، پرائیویٹ مسلح افراد، لڑائی جھگڑا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انتخابی سامان اور بیلٹ پیپرز کی بحفاظت ترسیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔