کیا عقل و شعور کے لئے بڑھاپا ضروری ہے؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 16 / جولائی / 2022
چالباز و گھمنڈی لوگ اپنی مکاریوں سے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں جب یہ لوگ جھوٹ، منافقت، ملمع کاری اور ریا کاری سے دوسروں کو بے وقوف بنا رہے ہوتے ہیں تو ان کا ضمیر انہیں کیوں ملامت نہیں کرتا؟
کیا وہ واقعی ابدی نیند سو چکا ہوتا ہے؟ جس کے بعد وہ اتنی بڑی بڑی چھوڑتے ہیں اور انہیں ذرا شرم محسوس نہیں ہوتی۔ درویش کو ربع صدی قبل اپنی پہلی ہی ملاقات میں ایک شخص کی ساری خود پرستی و رعونت پوری طرح واضح ہوگئی تھی۔ آخر ان لوگوں کو کیوں دکھائی نہیں دیتی جو اس کے آس پاس رہتے ہیں یا ہمہ وقت اس کے بے سروپا بھاشن سنتے ہیں۔ کیا اس شخص کو سمجھ نہیں کہ بائیس کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں۔ ان کے سامنے جون سے اور جتنے مرضی ڈرامے کرتے جاؤ، یہ مجھےاپنا نجات دہندہ ہی سمجھیں گے اور اس بات پر بھی ایمان لے آئیں گے کہ مرنے کے بعد قبر میں بھی ہم سے یہ سوال پوچھا جائے گا کہ تم نے اس نام نہاد ہستی کا ساتھ کیوں نہ دیا تھا۔ اے میری قوم کے نوجوانو! آپ بھی کچھ سمجھ جاؤ، عقل شعور کے لئے لازم تو نہیں ہے کہ سن رسیدہ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ جینئس ہونے کے لئے بڑھاپا لازم نہیں ہے۔
سچ اور جھوٹ، حق یا باطل کی پرکھ کے لئے لچھے دار تقاریر اور مداری گری کو معیار کیوں بناتے ہو؟ بندے کی اصلیت کیوں نہیں پرکھتے ہو؟ اس شخص کی اصلیت کے حوالے سے درویش نے جب براہ راست سوال کیا تو جواب دینے والے کو بڑی چبھن ہوئی ’’آپ جانتے ہو میری لائف پلے بوائے کی رہی ہے لیکن اس نوع کے سوالات اٹھا کر یہ جو ٹین ایجر گلی محلوں میں مجھ سے محبت کرتے ہیں آپ انہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟‘‘ جواب دیا وہی جو سچائی اور حقیقت ہے کیونکہ ریا کاری پسند نہیں۔ آج یہ شخص شہر و شہر اپنی پارسائی کے ڈھکوسلے یوں بیان کرتا پھرتا ہے جیسے یہ کوئی اوتار یا ماورائی مخلوق ہے، جیسے ایمانداری اور قابلیت اس پر ختم ہوگئی ہے۔ میں حق کا پیغام لے کر باطل کے خلاف جہاد پر نکلا ہوں، لہٰذا اے طاقتورونیوٹرل مت بنو ورنہ تمہاری دنیا و عاقبت دونوں برباد ہو جائیں گی۔ سابق حکمرانوں نے قرضے لے لے کر ملک کو غلامی میں دھکیل دیا، ان کے بچے باہر ہیں، یہ چیری بلاسم ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کردی، یہ چور ہیں، انہوں نے لوٹ مار کی۔
حضور جانے بھی دو ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لو، جس کا کل سرمایہ حیات ہی بھیک یا بوٹ پالش ہے، وہ دوسروں کو اس نوع کے طعنے کس منہ سے دے رہا ہے ۔ ساڑھے تین سالوں میں ملک کی چولیں ہلا ڈالیں، قوم کو معاشی بدحالی و مہنگائی کے سونامی میں ڈبو دیا آج کہہ رہے ہو کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ سن کر بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ ان کو مراسلے کی انکوائری کرنی چاہیے تھی۔ ذرا مزید پڑھ یا سن لو یہی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ جب تمہاری حکومت تھی تمامتر اختیارات تمہارے پاس تھے پورا وقت بھی ملا تو تم نے اپنے اس سائفر یا مراسلے کی تحقیقات خود کیوں نہ کروائیں؟ کیوں کھیسے میں دبائے رکھا؟ فاضل جج نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ’’اگر سائفر میں ایسا کوئی مواد بھی ہوتا تو بھی اس کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو مسترد نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا تھا، سائفر کی بنیاد پر آئینی تقاضا پورا نہ کرنے کا یہ عمل ڈپٹی سپیکر کی جانب سے بدنیتی ، تعصب اور دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ پوری قوم گواہ ہے کہ آئینی تقاضے اور عدالتی حکم کے باوجود سپیکر نے جان بوجھ کر جمہوری عمل کو لٹکایا...‘‘
سپریم کورٹ کے متفقہ تفصیلی فیصلے میں اس قدر واضح آئین شکنی مانے جانے کے بعد اگر ضمیر میں ذرا بھی زندگی کی رمق ہوتی تو کم از کم شرمندگی سے قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے لیکن ڈھٹائی اور سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ سائنس اور قانون کا سابق وزیر اپنے اس آقا کی خوشنودی میں سپریم کورٹ کو دھمکانا چاہتا ہے۔ فیصلہ مفاد میں آ جائے تو ججز کا ضمیر جاگتا ہے بصورت دیگر سو جاتا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو سپریم جوڈیشری نے اپنا یہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے قوم یا جمہوریت پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔ یہ آئین کا صریحی تقاضا تھا جسے پورا کرنا آئینی عدالت کی ذمہ داری تھی۔ سچائی کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کے علاوہ دوسرا کوئی فیصلہ بنتا ہی نہیں تھا جس کی نظریہ ضرورت کے تحت بھی گنجائش نہیں نکالی جاسکتی۔ لیکن یہاں چونکہ آئین، پارلیمان اور بنیادی انسانی حقو ق تک کا بارہا کھلواڑ کیا جاتارہا ہے اس لئے آئین اور جمہوریت پر ایمان رکھنے والے ہوا کا ایک بہتر جھونکا آنے پر جوڈیشری کو تحسین و تشکر بھری نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کی سرشت اور گھٹی میں نظریہ ضرورت اور اسٹیبلشمنٹ گھسی ہوئی ہے، وہ آج منافقت میں اس کے خلاف لاکھ نعرے بازی کریں اصلیت تو نہیں بدل پا رہی۔
آج کے الفاظ کا چنائو ذرا ملاحظہ ہو:’’ جرنیل اور ججز نوکری کر لیں یا سیاست‘‘۔ ’’اسٹیبلشمنٹ کے منہ کو خون لگا ہوا ہے‘‘۔ ’’یہ نہیں ہوسکتا کہ جرنلز اور ججز بند کمروں میں فیصلے کرلیں‘‘۔ ’’آرٹیکل 6 کے کیسز بننا شروع ہوئے تو گردنیں زیادہ اور رسے کم پڑ جائیں گے، وہ کام کریں جو کرسکیں‘‘۔ ’’مقتدر حلقوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہاں انقلاب ووٹ کے ذریعے آئے گا یا سری لنکا جیسی صورت حال سے‘‘۔
مقتدروں سے پہلے کیا یہاں میڈیا میں اس امر پر مباحثہ نہیں ہونا چاہیےکہ یہاں آج پاکستان کو سری لنکا والی پوزیشن میں پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ مانا کہ ’’مقتدرہ‘‘ کو قطعی یہ رول نہیں کرنا چاہیے۔ اسی کی آج وہ خود سزا بھگت رہے ہیں اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر یہ نااہل مزید اقتدار میں رہ جاتا تو اے ہینڈسم کے عاشقو! تمہاری پنشنوں کے پیسے بھی نہیں بچنے تھے۔ اسی بربادی کو دیکھ کر تو وہ توبہ تائب ہوئے ہیں اور آپ لوگ انہیں نیوٹرل کے طعنے دیتے ہوئے اس لئے کوس رہے ہیں کہ ملک ڈوبتا ہے تو ڈوب جائے قوم جائے بھاڑ میں، تم نیوٹرل مت بنو ، مزید بربادی کے لئے ہمیں دوبارہ اقتدار میں لے آؤ۔ اٹھارہ جیسی دھاندلی کے ساتھ نئے انتخابات کرواؤ۔
نئے انتخابات کا شوق بھی بالآخر پورا ہو جائے گا فی الحال پنجاب کی یہ جو بیس سیٹیں ہیں جو تمہارے مطابق تمہاری پارٹی کی ہیں ذرا انہیں جیتنے کا چیلنج تو قبول کرو۔ ن لیگ والوں نے تو آپ کے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے ہیں جبکہ آپ لوگوں نے فرشتے اتارے ہیں۔ مدنی خلیفہ جن کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ خوش قسمتی سے مہنگائی و بربادی کا اپنا سارا ٹوکرا شریفوں کو اٹھوا کر اپنی پارسائی کے ڈھول پیٹ رہا ہے۔ اتوار کو اگر اس میں جیت جاؤ تو شاید تمہاری سیاست بھی بچ جائے گی ورنہ جج صاحب کی رہنمائی میں کم از کم چھ آئین شکنوں کو پارلیمینٹ کی ہدایت پر باقی زندگی جیل یاترا کرنی چاہیے۔
آئینی تقاضا تو یہی بنتا ہے باقی طاقتوروں کی مرضی جن سے ہنوز آپ لوگوں کا اندر خانے یارانہ ہے۔ مٹ گئی محبت مگر کسک درد محبت کی جہاں محسوس ہوتی تھی، وہیں محسوس ہوتی ہے۔