فری لنچ کی قیمت
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 17 / جولائی / 2022
توقع اس بار یہی تھی کہ اس پندھرواڑے میں حکو مت کو تیل کی قیمتیں کم کرنے کی سپیس ملی ہے تو وہ طمطراق سے قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے گی۔ سسپنس اگر تھا تو اتنا کہ کتنی قیمتیں کم ہوں گی۔
قیمتوں میں گزشتہ جتنے بھی اضافے ہوئے ان کا اعلان مفتاح اسماعیل اور ڈاکڑ مصدق نے مشترکہ پریس کانفرنسوں میں کیا۔ مشکل تھا مگر دونوں نے اپنے تئیں عالمی منڈیوں کے بھاؤ تاؤ اور آئی ایم ایف کی بیڑیوں اور عمران خان اور ان کی ٹیم پر ذمہ داری ثابت کرنے کی کوششیں کیں۔ بار بار یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اگر قیمتوں میں عالمی سطح پر کوئی کمی آئی تو ہمیں اتنا بھی کٹھور نہ جانئے گا، جھٹ سے قیمتوں میں کم کریں گے۔ پچھلے دو ہفتوں میں عالمی حصص اور کموڈٹییز مارکیٹس میں مندے کا بلاوا ہانکا جا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں افراط زر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ چالیس سال میں ایسی طوفانی مہنگائی نہ ہوئی۔ صارفین کو انرجی بلوں اور کھانے کے لالے پڑ گئے۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا کر افراط کو اسپیڈ بریکر لگانے کی کوشش کی۔ یہی کوششیں یورپ کے دیگر مرکزی بنک بھی کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود مالیاتی ماہرین نے مندی کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ اسی راگ کا کرشمہ کہ کساد بازاری کے خوف سے تیل کی قیمتیں یوکرائن روس جنگ کے لیول پر آ گئی ہیں۔
حکومت پر تیل کی قیمتوں میں دباؤ کم کرنے کی یہ غیبی امداد تھی۔ یہ امداد کب تک ساتھ دیتی ہے، اللہ تعالی بہتر جانتا یے مگر اس امداد کو ن لیگ نے سیاسی بیانئے کے طور پر استعمال کیا۔ مشکل وقت گیا، اب اچھے دن دستک دے رہے ہیں۔ اتوار 17 جولائی کو ضمنی انتخابات کے معرکے میں یہ موقع غنینت تھا اور یوں یہ سیاسی بیانیہ وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے ہی جلسوں جلسوں پھیلایا گیا۔
سیاست دلچسپ کھیل ہے۔ مثل مشہور ہے کہ کامیابی کو گود لینے بہت لوگ تیار ہو جاتے ہیں مگر ناکامی کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ قیمتوں میں اضافے کے اعلان اور توجیہ کے لئے رات گئے پریشان چہروں کے ساتھ مفتاح اسماعیل اور ڈاکٹر مصدق کی ڈیوٹی رہی۔ مگر جب کچھ کمی کی صورت بنی تو کریڈٹ کا پہلا نقارہ جلسوں میں گونجا اور اس کے اعلان کا سہرا وزیراعظم نے ایک قومی خطاب کے ذریعے باندھا۔
تفصیل اس سارے قصے کی بیان کرنے کا مقصد اس امر کو واضح کرنا ہے کہ سیاست اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں کے درمیان توازن اور مداخلت ایک حد تک رہے تو کام چلتا رہتا ہے مگر جب سیاست معیشت کی چولی سے اپنا دامن ہمہ وقت وسیع کرنے پر کمر بستہ ہو جائے تو مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ معیشت کا اپنا ایک نظم ہے، ڈیمانڈ سپلائی کا پہرہ ہوتا ہے، سرمائے کی آمدورفت اور گردش گوں نا گوں قواعد کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ عالمی مارکیٹ کے ساتھ جڑت کے اپنے تقاضے ہیں۔ یہ تقاضے اور اثرات ان ملکوں پر مزید بھاری پڑتے ہیں جن کی درآمدات برآمدات سے اڑھائی گنا زائد ہوں۔ یوں پیدا ہونے والا تجارتی خسارہ زر مبادلہ کے ذخائر اور شرح مبادلہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بجٹ اور معاشی ڈھانچے کی اپنی الگ مبادیات ہوتی ہیں۔ سو: معیشت کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان کا موجودہ معاشی منظر نامہ پچھلے تیس پینتیس سالوں کی پولیٹیکل اکانومی کی بیلنس شیٹ ہے۔ ماضی کی تمام حکومتوں کا کچھ نہ کچھ حصہ بقدر جثہ اس میں ہے۔ کسی کا کم اور کسی کا زیادہ۔ سیاسی بیانیے اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے پچھلے تیس پینتیس سالوں میں ہم ہر دو چار سال بعد مجبور ہوئے اور آئی ایم ایف کے سامنے عرض گزار ہوئے۔ ایک پروگرام کے علاوہ کوئی پروگرام اپنی طبعی مدت کامیابی سے مکمل نہ کر سکا۔ مالیاتی ڈسپلن مفقود رہا۔ کہنے کو پارلیمنٹ نے قرضوں کی حد مقرر کر رکھی ہے ، بلکہ ایک پورا شعبہ قرض کی حدود و قیود کے لئے قائم بھی یے مگر ہوتا وہی آیا ہے جو سیاسی حرکیات کی مجبوری تھی۔
چند ماہ سے جاری تیل کی قیمتوں کے اس پنگ پانگ کو ہی دیکھ لیں۔ عمران خان حکومت نے اپنی مجبوریوں کے تحفظ کے لئے فیصلہ لیا۔ عدم اعتماد کے بعد اتحادیوں کی حکومت آئی تو عالمی منڈی میں طوفان برپا ہو گیا۔۔۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی اضافے اور آئی ایم ایف کی شرائط نے نئی حکومت کے لئے مشکل پیدا کر دی۔ اس مشکل میں شرح مبادلہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اب عالمی منڈی میں کمی ہوئی ہے تو یہ بھی ایک معمول کی مارکیٹ ایکٹیویٹی ہے۔ مگر اس کا ڈھنڈورا یوں بلند ہو رہا ہے: مشکلات کے دن گئے، اب خوشحالی دستک دینے آئی ہے۔
سیاست میں اپنے ووٹ بنک کو خوش رکھنے کے لئے بھی معیشت کی تنگ دامنی کا بھرم رکھنے کی بجائے اپنے سیاسی بھرم رکھنے کے لئے مفت سہولیات کا چلن بھی عام تھا اور ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ حکومت نے سب تن من دھن وار دیا لیکن اس فری لنچ کی قیمت کوئی تو ادا کرتا ہے۔ فری لیپ ٹاپ ہوں، پیلی ٹیکسی اسکیم ہو یا گرین ٹریکٹرز اسکیم، آٹے چینی اور گھی یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستا ہو ، ہر اسکیم کی ایک مالیت تو بہر حال ہوتی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ ایک ٹارگٹڈ سبسڈی ہے مگر قرض سے فنڈنگ ہے۔ پچھلے ماہ حکومت نے موٹر سائیکل مالکان کو ماہوار رقم دینے کا اعلان کیا۔
اسی طرح کے فری لنچ حکومتیں کھلے دل سے دیتی ہیں مگر ہر فری لنچ کی ایک قیمت ضرور ہوتی ہے۔ اب پنجاب میں سو یونٹ بجلی سے کم پر بل نہیں آئے گا کے نعرے کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی تو بل بھرے گا۔ یعنی خزانہ بوجھ برداشت کرے گا۔ یہی کرتے کرتے ہم تیس پینتیس سالوں میں یہاں آئے ہیں۔ فری لنچ کے عوض معاشی و سیاسی الیٹ کئی گنا مفادات حاصل کرتی ہیں۔ انڈسٹریل کارٹلز اپنی جگہ، بجلی اور پبلک سیکٹر کارپوریشنز کے سالانہ سینکڑوں ارب روپے کے نقصانات انہی شاہ خرچیوں اور تباہ کن گورننس کا نتیجہ ہیں۔
سری لنکا کی مثالیں سیاسی الزام تراشی کے لئے آج کل سب فریقوں کے کام آ رہی ہیں لیکن کوئی اگر کھوج لگائے تو دو عوامل واضح ترین ہیں۔ اول: بحران کی آمد اور پھیلاؤ کے باوجود بحران سے انکار۔ نہیں نہیں، یہ سب وقتی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ دوئم: خالی خزانے اور قرضوں کے بوجھ کے باوجود 2019 میں حکومت نے ٹیکس کٹوتی اور دیگر سہولیات کے صورت میں 25 فی صد محصولات سے ہاتھ جھاڑ لیا۔ مگر جب فری لنچ کے ڈکار لے چکے تو پتہ چلا اگلے وقت کے لئے اسباب ندارد ہیں۔ تیل ، خوراک اور ادویات تک کی امپورٹ کی سکت سلب ہو گئی۔ وہی عوام جو فری لنچ پر شاداں و فرحاں تھے سڑکوں پر نکل آئے۔ تشدد ہوا تو رولنگ فیملی کے محلات کو روند ڈالا۔ اب رولنگ فیملی ملک سے فرار پناہ کی تلاش میں ہے اور سری لنکا اپنی آبرو اور معمول میں زندگی کی تلاش میں ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ ترین قرض بحالی کی بنیاد ان ہی شرائط پر ہے جو ہر حکومت مجبوری میں مان آتی ہے مگر بعد میں عمل درآمد میں ڈھیر ہو جاتی ہے۔ 17 جولائی کے الیکشن اور ہر آن بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کی زد میں معیشت کی چولی ایک بار پھر کام آ رہی مگر تا بکے۔۔۔ فری لنچ کی قیمت کوئی نہ کوئی تو ادا کرتا ہے!