اب اصلاح کیسے ممکن ہوسکے گی ؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 17 / جولائی / 2022
اس بنیادی نکتہ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت کی تبدیلی یا رجیم چینج کے بعد بھی ملکی سیاست اور معیشت دونوں عدم استحکام سے دوچار ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سیاسی محاذ آرائی بھی بڑھی ہے۔
عمران خان کی سیاسی مزاحمت اور سازش کا بیانیہ ہے اور دوسری طرف ان کے مخالفین کا بیانیہ ہے جو دفاعی بیانیہ ہے۔ محاذ آرائی کسی بھی طور پر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔ موجودہ اتحادی حکومت سیاست اورمعیشت کے تناظر میں بہتری کے لیے کوشش کررہی ہے لیکن معیشت ابھی تک کنٹرول میں نہیں آئی ہے۔
سیاسی بداعتمادی کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی استحکام دونوں ہی بحرانی کیفیت سے دو چار ہیں ۔اسی طرح یہ جو منطق دی جارہی تھی کہ عالمی طاقتیں اور عالمی مالیاتی ادارے نئی حکومت کے ساتھ مل کر نئے معاشی امکانات کو قائم کرنے میں پیش پیش ہون گے ، وہ بھی پوری طرح سامنے نہیں آسکے ہیں ۔ آئی ایم ایف سے اول تو ابھی تک تحریری معاہدہ ممکن نہیں ہوسکا اورجو معاہدے کی کہانیاں سامنے آرہی ہیں وہ بحران کی سنگینی اور زیادہ بڑھادیتی ہیں۔
آئی ایم ایف کا نیا مطالبہ یہ بھی آیا ہے کہ اب پاکستان کے معاشی معاملات کی نگرانی کا نظام اور اس سے جڑے افراد کی تقرری کا اختیار بھی اسی ادارے کے پاس ہوگا اور وہی فیصلہ کرے گا کہ نگرانی کا عمل کون کرے گا۔ اگرچہ نئی حکومت تیرہ جماعتوں پر مشتمل ہے لیکن اول اس حکومت کا سیاسی بوجھ مسلم لیگ ن کے ہی کندھوں پر ہے ، مرکز اورپنجاب کی سطح پر ان کی حکومت چند ووٹوں کی بنیاد پر کھڑی ہے ۔ تیرہ جماعتیں شہباز حکومت کا حصہ ہیں اور اقتدار کی تقسیم میں شریک کار بھی مگر وہ حکومتی بوجھ اٹھانے یا تنقید کو اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں ۔ اسی وجہ سے مسلم لیگ ن میں ایک طبقہ اتحادیوں کے بارے میں تحفظات بھی رکھتا ہے ۔ پہلی بار سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ طاقت کے مراکز پر تنقید ہورہی ہے، وہ خود بھی لحمہ فکریہ ہے۔
پڑھے لکھے افراد کا ایک مخصوص گروہ بڑی دیدہ دلیری سے اداروں پر تنقید کرنے میں پیش پیش ہے۔ یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ۔ تمام فریقین میں مخالفانہ ردعمل کی سیاست مزید سنگین ہوسکتی ہے ۔ نوجوان نسل کا ایک گروہ یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ یہاں حکومت کی تبدیلی کے نام پر ہوا ہے، یہ غلط ہے اور وہ عمران خان کی سازشی تھیوری کو درست مان رہا ہے ۔ طاقت کے مراکز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی حمایت میں جو مضبوط سیاسی بیانیہ چلنا چاہیے تھا، وہ بھی دیکھنے میں نہیں آرہا۔
اس وقت سیاسی میدان میں عمران خان کریز سے نکل کر جارحانہ کھیل رہے ہیں۔ ان کے فالورز اور ان کا بیانیہ سوشل میڈیا میں پھیلا رہے ہیں۔ ان کی تقریروں کو رسمی میڈیا بھی نظرانداز نہیں کرسکتا ۔ اگر شہباز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری بھی کرتی ہے تو اس کو سیاسی میدان میں عمران خان کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ کسی بھی صورت میں حکومت کو مستحکم نہیں ہونے دے گا۔ سیاسی محاذ آرائی یا سیاسی بداعتمادی کا ماحو ل کیسے اس ملک کی سیاست کو بحران سے نکال سکتا ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ اصل میں جب سیاسی مہم جوئی یا سیاسی ایڈونچرز بغیر کسی سیاسی حکمت عملی یا سیاسی تدبر کی مدد سے کیے جائیں گے تو وہی کچھ برآمد ہوگا جس کا ہمیں موجودہ صورتحال میں سامنا ہے۔
آج کی حکمران جماعتیں عمران خان کی حکومت کو تو عملاً گرانے میں کامیا ب ہوگئی ہیں لیکن اس کے بعد کی صورتحال میں ان کو مختلف حوالوں سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایک مسئلہ فوری انتخابات کا ہے جس پر عمران خان بضد ہیں کہ اس کے بغیر کوئی سمجھوتہ یا بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ دوسرا موقف حکومت کا ہے جو اپنی مدت پوری کرکے اتخابات میں جانا چاہتی ہے ۔ اسی پر سیاسی ٹکراؤ ہے ۔ عمران خان جب نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کا مخاطب حکومت نہیں بلکہ طاقت کے مراکز ہیں ۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ۔
پاکستان کا سیاسی بحران محض نئے انتخابات سے حل نہیں ہوگا کیونکہ نئے انتخابات اور اس کے نتائج بھی نئے مسائل پیدا کریں گے ۔ پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد جو ماحول پیدا ہوگا، وہ بھی نئی محاذ آرائی کو جنم دے گا کیونکہ ان انتخابات کے نتائج کو آسانی سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ مسئلہ قومی سیاست میں نئے رولز آف گیم کا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہی ہے کہ نئے رولز آف گیم کون بنائے گا۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا بحران محض سیاسی نہیں بلکہ معاشی بحران میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔ ان غیر معمولی اقدامات میں جو بھی فیصلے ہوں گے وہ باہمی مشاورت یا بات چیت سے ہی ممکن ہوسکتے ہیں ۔ لیکن سیاسی فریقین کیسے ایک دوسرے پر اعتماد پیدا کریں اور مل بیٹھیں یہ خود ایک بڑا چیلنج ہے اور موجودہ منظر نامہ میں مشکل بھی نظر آتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ تمام فریقین کی باہمی مشاورت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔ جب بھی قومی سیاست سے جڑے معاملات کو ہم افراد کی بنیاد پر دیکھنے ، پرکھنے یااس سے نمٹنے کی کوشش کریں گے تو اس کے نتیجہ میں ریاستی مسائل زیادہ سنگین ہوں گے ۔
بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی فریقین مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں یا وہ اسی روائتی انداز میں مسائل کو ساتھ لے کر چلنے کو ہی اپنا مفاد سمجھتے ہیں ۔ اہم مسئلہ یہ بھی جو بھی فریق مسائل کا حل چاہتا ہے تو اس کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس کو باہر نکال کر اصلاح کا عمل شروع کیا جائے ۔ یعنی وہ خود کو اصلاح کے عمل میں نہ تو شامل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی وہ خود کو کسی بھی سطح پر جوابدہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ ایسی صورت میں اصلاحاتی ایجنڈا پیچھے رہ جاتا ہے۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ سخت گیر اصلاحات اور فریم ورک کا ہے جس کے لیے سٹیک ہولڈرز تیار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نہ تو ہم دنیا میں مثبت تبدیلی کے تناظر میں پیدا ہونے والے امکانات یا ان کے تجربات سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی بڑے غیر معمولی اقدامات کے لیے تیار ہیں جو ہمیں بہتری کی طرف لے جاسکے ۔ یہ ہی ہمارا سب سے بڑا سیاسی المیہ بھی ہے ۔