ضمنی انتخابات میں ووٹ دے کر عوام نے ثابت کردیا یہ نیا پاکستان ہے: عمران خان

  • سوموار 18 / جولائی / 2022

چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو فخر کرنا چاہیے کہ ضمنی اںتخابات میں جس طرح لوگ نکلے اور جس طرح خواتین نکلیں، اور نوجوان نکلے۔ یہ نیا پاکستان ہے۔

عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جس طرح پنجاب کے عوام ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے ہیں میں شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔ یہ ملک کے لیے خوش آئند ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا وقت آیا ہے کہ ہم سب کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنے نظریے کی سمجھ آ گئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے پنجاب کےضمنی انتخابات میں اپنی مہم کے درمیان اپنی قوم کو صرف ایک ہی چیز بتائی کہ پاکستان کا مطلب اور تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ، یہ پاکستان کا نظریہ ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ایک فلسفے کا نام ہے، جس دن ہم اسے سمجھ گئے اپنا نظریہ سمجھ جائیں گے۔ جس دن ہم نظریہ سمجھ جائیں گے تو یہ قوم عظیم بن جائے گی، قوم نظریے کے بغیر نہیں بن سکتی وہ عوام کا ہجوم ہوتا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ بیرونی سازش کے تحت ہمارے اوپر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی تو عوام نے پوچھنا شروع کیا کہ قائداعظم نے ہمیں ہندوؤں کی غلامی سی نجات دلائی تھی تو ہم کسی اور کی غلامی کے لیے تیار نہیں ہیں، جس طرح یہ لوگ ہم پر مسلط کیے گئے، میں نے اپنی قوم میں شعور و بیداری دیکھی، میں اس لیے خوش ہوں کہ ہم اللہ کے فضل سے قوم بننے جارہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جب ہم قوم بن جائیں گے تو قرضوں سمیت جتنے بھی مسئلے ہیں یہ حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ملک کی اشرافیہ نے ملک سے باہر کیوں فلیٹ خریدے ہوئے ہیں، اپنا پیسہ باہر کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیونکہ یہ لوگ پاکستان پر اعتماد ہی نہیں کرتے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قوم کے اندر بیداری دیکھ رہا ہوں، قائد اعظم نے جس طرح اپنی خراب صحت کے باوجود انتھک جدوجہد کی۔ اور ڈاکٹروں کو بھی پتہ نہیں چلنے دیا کہ وہ بیمار ہیں کہ کہیں مخالفین کو نہ پتہ چل جائے، اس طرح کی قربانیوں سے ملک بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب کہتے تھے کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے تو یہ لوگ کہتے تھے کہ مہنگائی مارچ کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود تمام چیزیں مثبت تھیں، ہم پاکستان کو اس کے نظریے کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست کی طرف لے کر جارہے تھے۔ پہلی بار ہیلتھ کارڈ دیا جس سے کسی بھی ہسپتال میں جا کر 10 لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تحفیفِ غربت کے احساس پروگرام کو بین الاقومی طور پر سراہا گیا، سٹینفورڈ یونیورسٹی نے تحقیق کرکے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو احساس پروگرام فلاحی ریاست کی طرف لے کر جا رہا تھا۔ اسی طرح کامیاب جوان پروگرام کے تحت نچلے طبقے کو 20 لاکھ تک قرضے فراہم کررہے تھے تاکہ لوگ کاروبار کرسکیں، کسان پیسہ لگا سکیں۔ ہم گھر بنانے کے لیے سود کے بغیر قرضے دے رہے تھے، یہ تمام چیزیں چل رہی تھیں کہ سازش کرکے ہماری حکومت گرائی گئی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات کروانے کا۔ جس طرح کے انتخابات پنجاب میں کروائے گئے ہیں، اگر آگے اسی طرح کے انتخابات کروانے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے بحران بڑھے گا۔ ہمیں انتخابات میں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، پنجاب کی حکومت کے پاس ہمیں انتخابات میں شکست دینے کے جتنے بھی طریقے تھے وہ انہوں نے استعمال کیے۔ پولیس کے متعدد افسران نے پی ایم ایل (ن) کے جیالے بن کر ہمارے خلاف سرگرمیاں کیں، ہم سب یاد ہے، یہ سپریم کورٹ کی توہین تھی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مجھے سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہے۔ انہوں نے بدیانتی کی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پی ایم ایل (ن) کی جتوانے کی پوری کوشش کی، ہمارے پاس 8 کیسز ہیں جسے لے کر ہم الیکشن کمیشن کے پاس گئے۔ انہوں نے وہ مسترد کردیے۔ اس کے خلاف ہم 8 بار عدالتوں میں گئے، عدالتوں نے ان کے خلاف فیصلہ دیا، اس کا مطلب تھا کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کر ہمارے خلاف فیصلہ دیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے سینیٹ کا الیکشن کروایا، سپریم کورٹ نے اجازت دی کہ آپ سینیٹ کے ووٹ کی تصدیق کریں، الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ سینیٹ کی خفیہ رائے شماری میں پیسہ چلتا ہے۔ اس الیکشن کمشنر نے اس پر عمل نہیں کیا۔ جتنا پیسہ پچھلے سینیٹ کے انتخابات میں چلا اتنی تاریخ میں کبھی نہیں چلا، یوسف رضا گیلانی کا بیٹا پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا، اسی الیکشن کمشنر نے اس کی تحقیقات کی۔ سوا سال ہوگیا ہے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگوں میں شعور و بیداری آگئی ہے، اب شعور کا جن بوتل سے نکل آیا ہے اس کو واپس نہیں ڈال سکتے۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ بند کمروں میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر لیں گے۔ یہ قوم حقیقی آزادی کی طرف چلی گئی ہے، چھبیس سال کی تاریخ میں ایسا جذبہ کبھی نہیں دیکھا۔