غیریقینی سیاسی صورتحال کے سبب ڈالر 224 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

  • منگل 19 / جولائی / 2022

ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ڈالر6 روپے 25 پیسے مہنگا ہو کر 222 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔

منگل کو دن کے آغاز کے ساتھ ہی ڈالر کی قدر میں 50 پیسے کی کمی واقع ہوئی جہاں گزشتہ روز ڈالر 215 روپے 20 پیسے کی سطح پر بند ہوا تھا۔ ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا اور کراچی انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے 75 پیسے مہنگا ہو کر 217 روپے 50پیسے کی ریکارڈ سطح پر آگیا۔

بعد ازاں مارکیٹ میں روپے کی گراوٹ کا سلسلہ تیزی سے جاری رہا اور کراچی انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 5روپے 25 پیسے مہنگا ہو کر 221روپے کی ریکارڈ سطح پر آگیا جبکہ اس کے بعد بھی بتدریج ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق ڈالر گزشتہ روز کے 215.20 روپے کے مقابلے میں 8.8 روپے یا 4 فیصد اضافے کے ساتھ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب 224 روپے تک پہنچ گیا۔ میٹس گوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے بعد پنجاب اور مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے خوف کی وجہ سے مالیاتی منڈیاں افرا تفری کا شکار ہیں اور ڈالر خرید رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، دوست ممالک اور دوطرفہ ذرائع سے رقم کے حصول کے حوالے سے تحفظات کی وجہ سے درآمد کنندگان کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چئیرمین فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا کہ ملک میں سیاسی حالات کو جواز بنا کر بینک ڈالر کی قیمت میں سٹہ بازی کررہے ہیں جس کا اسٹیٹ بینک کو نوٹس لینا چاہیے۔

مارکیٹ میں غیر ضروری طور پر ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے روکنا چاہیے، بینکس کی اجاراہ داری کے خاتمے کے لیے فوری طور پر ڈالر کی فاروڈ بکنگ پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مارکیٹ میں بدحواسی والی صورتحال کو روکا جا سکے۔