الیکشن کمیشن، پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنائے: وزیراعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طویل عرصے تک چلنے والے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ جلد سنائے۔
ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ریاستی اداروں پر بار بار اور بے شرمانہ حملوں کے باوجود عمران نیازی کو طویل عرصے سے کھلا راستہ دیا گیا ہے، انہیں دی جانے والی کھلی چھوٹ نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹوئٹر پر بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ وہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا طویل عرصے سے محفوظ فیصلے کا اعلان کرے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔
ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے خلاف 2014 سے زیر سماعت ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ گزشتہ ماہ محفوظ کر لیا تھا۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم کا یہ بیان 17 جولائی کو پنجاب کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی کے 2 روز بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ روز حامیوں سے خطاب میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ای سی پی کو جانبدار ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انتخابی معرکے کے دوران مسلم لیگ (ن) کی مبینہ حمایت پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔
عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی نے ریاستی مشینری کے استعمال کے باوجود ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ عمران خان کے اس خطاب کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مطالبہ کیا تھا کہ ای سی پی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد جاری کرے۔
ایک بیان میں مریم نواز نے کہا تھا کہ عمران خان الیکشن کمیشن آف پاکستان پر اس لیے تنقید کررہے ہیں کیونکہ انہیں فارن فنڈنگ کیس میں فیصلے کا خوف ہے۔