عوام جو بھی کہیں، پنجاب میں جوڑ توڑ جاری ہے

حکومتی اتحادی جماعتوں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے  باوجود انتخابات  کروانے سے انکار کیا ہے۔  اس دوران آصف زرداری کی مسلم لیگ  (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ ملاقات اور  واپسی پر اخبار نویسوں کو دیکھ کر  وکٹری سائن بنانے  کی نت نئی توجیہات سامنے آرہی ہیں۔  

جمہوریت  میں اگرچہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا اصول طے ہے لیکن  کچھ اخلاقی اقدار  کا خیال رکھنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ جمہوری اخلاقیات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پنجاب میں تحریک انصاف  کے خلاف اتحادی جماعتوں کا مقدمہ کمزور ہوچکا ہے۔ جن  منحرف ارکان کی حمایت  لے کر  حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کروایا گیا تھا، ان سب کو ضمنی انتخاب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ  ملنے کی وجہ سے انہیں اس بار اضافی ووٹ لے کر کامیاب ہونا چاہئے تھا۔  ان حلقوں میں عوام نے عمران خان کے مؤقف کو درست جانا اور تحریک انصاف کی مرضی و منشا کے خلاف  حمزہ شہباز  کو وزیر اعلیٰ منتخب کروانے والے  منحرف ارکان کو دوبارہ   اسمبلی میں بھیجنے سے انکار  کردیا۔

پنجاب کے عوام کے اس واضح اور دوٹوک فیصلہ کے فوری بعد مسلم لیگی لیڈروں نے عوام کی مرضی کے سامنے سر جھکانے اور اپنی غلطیاں درست کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔  لیکن ایک ہی دن کے بعد انتخابات میں شکست فاش کو ’درحقیقت‘ کامیابی کا نام دے کر ایک بار پھر حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کروانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ لاہور میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس  میں  حمزہ شہباز نے ضمنی انتخاب کے بعد پارٹی پوزیشن پر روشنی ڈالی اور اس اجلاس کے فوری بعد موجودہ سیاسی حکومتی انتظام کے معمار سمجھے جانے والے آصف علی زرداری،  چوہدری شجاعت حسین سے ملنے  گئے اور وہاں سے ان کے وکٹری نشان بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس طریقہ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) یا اتحادی جماعتیں پنجاب  کے ضمنی انتخاب میں عوام کی واضح رائے کے باوجود  شکست تسلیم کرنے اور  صوبے میں اکثریتی امیدوار کو آسانی سے  وزیر اعلیٰ  بننے دینے پر  آمادہ  نہیں ہیں۔ اب بھی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی سیاسی جوڑ توڑ سے   چوہدری پرویز الہیٰ کو  اکثریتی ووٹ لینے سے روکا جاسکے۔ اس حوالے سے متعدد افواہ نما خبریں گشت کررہی ہیں۔

وزیر داخلہ رانا ثناللہ کا یہ بیان تو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاچکا ہے جس میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا ہے کہ  اگر پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان غائب ہوگئے تو چوہدری  پرویز الہیٰ کیا کریں گے؟  یہ بیان  اور ہتھکنڈے پنجاب کے علاوہ ملک کی سیاسی صورت حال  کو پیچیدہ ، مشکل اور ناقابل یقین بنا رہے ہیں۔ اسی بے یقینی کی وجہ سے   ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اسٹاک ایکسچینج میں بدستور مندی ہے۔  تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں ایک ڈالر  225 روپے تک پہنچ چکا تھا۔  وزیر خزانہ نے اگرچہ اس کی وجہ سٹے بازی کو قرار دیا ہے لیکن اب اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ پاکستان کی کمزور حکومت اور سیاسی بے یقینی  کی وجہ سے  ملکی معیشت کے لئے آسانیوں کی بجائے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔  شہباز شریف کو وزیر اعظم بنتے ہوئے امید تھی کہ وہ فوری طور سے سعودی عرب اور دیگر  خلیجی ممالک سے مالی مدد حاصل کرکے معیشت کو سہارا دے  سکیں گے لیکن ان ممالک نے  آئی ایم ایف کی طرف سے امدادی پیکیج بحال کرنے سے پہلے کوئی مدد دینے سے انکار کردیا ۔جس کی وجہ سے پاکستانی حکومت کو کسی بھی قیمت پر آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط لینے کے لئے ایڑیاں رگڑنا پڑیں اور عوام پر محاصل اور  گرانی کا ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا گیا۔   حالیہ ضمنی انتخاب میں ہوشربا  مہنگائی ، روپے کی گرتی ہوئی شرح اور  پیٹرولیم مصنوعات میں پے درپے اضافوں سے پیدا ہونے والی مشکل صورت حال  بھی مسلم لیگ (ن) کی عبرت ناک شکست کی ایک وجہ بنی ہے۔

اتحادی جماعتوں نے عمران خان کے خلاف ایک بیانیہ تیار کیا اور اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر ایک ناپائیدار سیاسی اتحاد بنا کر   تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں کامیاب بھی ہوگئیں۔ اب اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان جماعتوں نے عمران خان کو شکست دینے کے لئے داؤ پیچ کھیلنے پر جو صلاحیت اور وقت  صرف کیا ، اس کا عشر عشیر  بھی ملک کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے  کے آپشنز پر غور  کے لئے  صرف نہیں کیا گیا۔  عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے پہلے   بدحواسی کے عالم میں عثمان بزدار  سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر استعفی   لے لیا تھا۔ اس طرح  مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہتھیانے کے لئے نئے سرے سے کوششیں کرنے کا موقع مل گیا۔ حالانکہ پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے تھا اور اگر تحریک انصاف کو بدستور اکثریت کی حمایت حاصل رہتی تو اسے صوبے میں حکومت کرنے دی جاتی۔   اس  چھینا جھپٹی میں  سب سے بڑی حماقت یہ کی گئی کہ  حمزہ شہباز کو منتخب کروانے کے لئے  تحریک انصاف کے منحرف ارکان کا ووٹ بھی لیا گیا حالانکہ  یہ دکھائی دے رہا تھا کہ سپریم کورٹ شق 63 اے پر صدارتی ریفرنس کی وضاحت کرتے ہوئے  منحرف ارکان  کو پارٹی فیصلے کے خلاف جانے سے روک سکتی ہے۔ یادش بخیر اسی اندیشے کی وجہ سے 10 اپریل کو شہباز شریف کو وزیر اعظم  منتخب کرواتے ہوئے  تحریک انصاف کے منحرف ارکان کا ووٹ نہیں لیا گیا تھا جس کی وجہ سے شہباز شریف کی حکومت اب تک قائم ہے۔

سپریم  کورٹ کا مشورہ سامنے آنے کے بعد  الیکشن کمیشن نے پنجاب میں تحریک انصاف کے  ان بیس ارکان  کو نااہل قرار دیا جنہوں نے پارٹی ہدایت کے باوجود چوہدری پرویز الہیٰ کی بجائے حمزہ شہباز کو ووٹ دیاتھا۔  ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف یہ نشستیں واپس لے چکی ہے۔   اسی سے ملک میں سیاسی بحران اور بے چینی میں مزید اضافہ ہؤا ہے۔ اس کا جمہوری حل تو یہی ہے کہ عوام کا موڈ دیکھتے ہوئے  جلد از جلد ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے لیکن ایک طرف اتحادی جماعتیں قومی اسمبلی توڑنے پر آمادہ نہیں ہیں تو دوسری طرف  تحریک انصاف بھی چاہتی ہے کہ قومی انتخابات کے لئے تو دباؤ بڑھایا جائے لیکن  صوبائی اسمبلیاں نہ توڑی جائیں تاکہ قومی اسمبلی کے انتخاب کے دوران پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اس کی حکومتیں قائم ہوں جو انتخابی عمل پر حسب ضرورت اثر انداز ہوسکیں۔  ورنہ اگر تحریک انصاف واقعی ملک میں فوری انتخاب کے ذریعے  موجودہ سیاسی تعطل ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے تو اس کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ  خیبر پختون خوا، پنجاب اور بلوچستان کی اسمبلیاں توڑنے کا  فیصلہ کرلے۔ اس کے نتیجہ میں اتحادی جماعتوں  پر عام انتخابات کے لئے  دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن فریقین شفاف انتخابات میں عوام کی رائے جاننے کی  بجائے سیاسی ہتھکنڈوں سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں حالات کو پیچیدہ اور مشکل بنا  رہے ہیں۔

ضمنی انتخاب میں  تحریک انصاف کی واضح اور شاندار کامیابی کے بعد  ہونا تو یہ چاہئے تھا  کہ عمران خان دھاندلی اور انتخابی عمل میں مداخلت  کے الزامات سے گریز کرتے اور  چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جانبداری کے پرانے الزامات سے رجوع کرلیتے۔ اسی طرح اگر انہیں  عوام میں اپنی مقبولیت کی تصدیق کے بعد یہ امید پیدا ہوئی  ہے کہ وہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر  اقتدار میں آسکتے ہیں تو وہ سیاسی مخالفین کے خلاف بے بنیاد اور زہر آلود پروپیگنڈے اور نفرت سے  گریز کا طریقہ اختیار  کرتے۔ گزشتہ روز کامیابی کے بعد انہوں نے جو طویل خطاب کیا ، اس میں صرف اسٹبلشمنٹ کو  معاف کیا گیا اور’ نیوٹرل  ‘کے ساتھ گلے شکوے نہیں کئے گئے لیکن انہوں نے ضمنی انتخاب میں ’دھاندلی‘ کا الزام  بھی عائد کیا اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان  نے مسلم لیگ (ن) کو جتوانے کی سرتوڑ کوشش کی، اس لئے وہ فوری طور سے اپنے  عہدے سے  استعفیٰ  دیں۔  عمران خان کا یہ بیان ملک کے انتخابی عمل کو بدستور مشکوک بنانے کی افسوسناک کوشش ہے۔  حالانکہ راجہ سکندر سلطان نے ہی منحرف ارکان کو نااہل کیا تھا اور انہی کی نگرانی میں ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف  نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔  عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ  اگر راجہ سکندر سلطان  استعفیٰ دیتے ہیں تو نئے چیف الیکشن کمشنر  کی نامزدگی شہباز شریف نام نہاد اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض  احمد کی ’رائے‘ سے کریں گے۔ 

حکومت اور تمام سیاسی پارٹیوں کو  موجودہ بے یقینی  ختم کرنے کےلئے  اقدا م کرنا چاہئے  تاکہ ملک کو موجودہ معاشی گرداب سے نکالا جاسکے۔ مخالف فریق کی مشکل میں اضافہ کرنے کے لئے  الزام تراشی اور بیان بازی  کی اصل قیمت پاکستانی معیشت اور عوام کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔ یہ حالات  مستقبل قریب میں  حکومت سنبھالنے والی کسی بھی پارٹی کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔ اس لئے ایک دوسرے کے راستے میں کانٹے بونے کی نیت سے اختیار کی گئی حکمت عملی کسی بھی سیاسی لیڈر یاجماعت کے لئے مفید نہیں ہوگی۔  سیاسی طاقتوں کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ باہمی مصالحت سے اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی روک تھام کا کوئی طریقہ کار وضع کرلیں لیکن اگر انہوں نے ایک دوسرے پر چاند ماری کا سلسلہ بند نہ کیا تو حالات اس نہج تک بھی  پہنچ سکتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی    ملک میں ایک نئے مارشل لا کی راہ ہموار ہوجائے۔

انتخابی کامیابی کے باوجود عمران خان کی جذباتی سیاست ہی کا نتیجہ ہے کہ اب وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ کہ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا  روکا ہؤا فیصلہ سنایا جائے۔ سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف تحریک انصاف کی  درخواست پر غور کے دوران  عدالت عظمیٰ کے ججوں نے سوال  کیا ہے کہ  عدالت کیوں کر پارلیمنٹ کا متبادل ہوسکتی ہے؟ اور یہ کہ تحریک انصاف بڑی سیاسی قوت ہونے کے باوجود اپنی شکایات قومی اسمبلی کے فلور پر کیوں پیش نہیں کرتی۔  عمران خان اور تحریک انصاف کو یہ اشارے سمجھنے چاہئیں اور ضمنی انتخاب میں کامیابی   کے جوش میں ہوش  کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔