سیاسی صورتحال کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہورہی ہے: مفتاح اسمعٰیل

  • بدھ 20 / جولائی / 2022

وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل نے کہا ہے کہ اس میں گزشتہ 2 روز میں روپے کی قدر میں کمی میں ملک کی سیاسی صورتحال کا بڑا ہاتھ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر صرف پاکستانی کرنسی نہیں پوری دنیا میں مہنگا ہورہا ہے۔ امریکا میں مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے فیڈرل ریزرو سسٹم نے شرح سود 20 سال میں سب سے زیادہ بڑھا دی ہے جس کے باعث تمام کرنسیوں نے قدر کھوئی ہے۔

درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ 6 ماہ روپے پر دباؤ رہا، گزشتہ 3 ماہ میں ہم نے کوشش کی کہ درآمدات کچھ کم کریں۔ جون میں ہمیں اس میں کچھ کامیابی حاصل ہوئی، توانائی کے علاوہ درآمدات ہم نے 15 فیصد کم کرلیں اور لیکن توانائی کی قیمتیں بڑھنے کے سبب گزشتہ ماہ اس کی درآمدات 120 فیصد بڑھ گئیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ 7.4 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں جن میں سے 3.7 ارب ڈالر کی درآمدات توانائی کی تھیں جبکہ 3.7 ارب ڈالر کی دیگر درآمدات تھیں۔ ہم نے جو جو اقدامات اٹھائے اس کا ثمر بالآخر ہمیں جولائی میں ملا، دو روز قبل 18 جولائی کو ہماری درآمدات محض 2.6 ارب ڈالر تھیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پورے مہینے میں ساڑھے 5 ارب ڈالر سے زیادہ درآمدات نہیں ہوں گی۔

وزیر خزانہ کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ درآمدات کو برآمدات اور ترسیلات زر کے برابر لے آئیں کیونکہ ہمارے پاس غیر ملکی ذخائر میں گنجائش موجود نہیں ہے اور نہ ہم ہمارے پاس اور کوئی ذخائر ہیں اس لیے توازن ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عموماً 7 سے 8 روز کا ڈیزل ہوتا ہے لیکن آج پاکستان کے پاس 60 روز کا ڈیزل موجود ہے اس لیے آئندہ ماہ پاکستان میں ڈیزل کی درآمات کم ہوں گی اور ایندھن کی مجموعی درآمدات بھی کم ہوں گی۔ مفتاح اسمعٰیل نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پاچکا ہے۔ اب کوئی رکاوٹ نہیں اور انشا اللہ ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کوئی رکاوٹ پیدا ہو۔ اس معاہدے کے بعد ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی فنانسنگ بھی کھل گئی ہے اور انشااللہ وہ پیسے بھی آنا شروع ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ میں پہلے بھی آگاہ کر چکا ہوں کہ ایک دوست ملک نے ہمیں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی آئل فنانسگ کا کہا ہوا ہے، چند روز میں وہ بھی طے پا جائے گی، ایک سال تک ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر ملیں گے۔ ایک اور دوست ملک ہے جو پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاریہ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیریقینی صورتحال میں دنیا بھر کے سرمایہ کار ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں اس لیے ڈالر کی قدر ہر چیز کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔ اس وجہ سے روپے نے بھی قدر کھوئی ہے لیکن اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ گزشتہ 2 روز میں روپے کی قدر میں جو کمی آئی ہے اس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا بڑا ہاتھ تھا۔ معاشی صورتحال ہرگز ایسی نظر نہیں آتی جس سے روپے کو نقصان ہوتا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اللہ کی مہربانی سے ہماری معیشت اچھی چل رہی ہے، ٹیکس کلیکشن بھی اچھا آرہا ہے۔ جو مشکلات درپیش تھیں ان کی وجہ گزشتہ 3 برسوں میں لیا جانا والا 20 ہزار ڈالر کا قرض تھا۔