پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے چوہدری شجاعت حسین نے پرویز الہیٰ کی حمایت کردی
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے چوہدری پرویز الٰہی ہی پارٹی کے امیدوار ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب بارے چوہدری شجاعت حسین کا پالیسی بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ جن کو مینڈیٹ ملا حکومت کرنا اس کا حق ہے۔ ایک بار نہیں دو تین مرتبہ پہلے بھی یہی بات کہہ چکا ہوں۔ انہوں نے کوئی لیٹر جاری کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی لیٹر جاری نہیں کررہا۔ کسی قسم کے لیٹرز جاری کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
چوہدری شجاعت نے کہا کہ مجھے صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ گنتی کے چکروں سے باہر نکلا جائے۔ غریب آدمی کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے۔ جو غریبوں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گا حقیقی معنوں میں اسی کی گنتی پوری ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو منتخب ہوئے ہیں وہ عوام کی خدمت کریں، اس فکر میں نہ پڑیں کہ ایک دوسرے کو کیسے نیچے دکھانا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ نے کہا کہ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ سال ڈیڑھ سال حکومت کا موقع ملنا چاہیے یا فوری انتخابات کی طرف جا یا جائے۔
خیال رہے چوہدری شجاعت کا یہ بیان پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ایک روز قبل حکمراں اتحاد کی اعلیٰ قیادت پنجاب حکومت کو بچانے اور اگست 2023 میں آئندہ عام انتخابات تک موجودہ اسمبلیاں برقرار رکھنے کے لیے اکٹھی ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پی پی پی رہنما نے حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رہنے کے لیے مسلم لیگ (ق) کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر چوہدری شجاعت سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ چوہدری شجاعت کے بیٹے چوہدری سالک حسین اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ شہباز شریف کی کابینہ کا حصہ ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین ہیں اور مبینہ طور پر آصف زرداری نے چوہدری شجاعت سے حمزہ شہباز کو بچانے کے لئے حکمران اتحاد کا ساتھ دینے کو کہا تھا۔