نواز شریف کا بیانیہ اور ہماری سیاست ؟

سیاست لگی بندھی جامد اپروچ کا نام نہیں۔ یہ وقت اور بدلتے حالات کی مطابقت میں درست فیصلہ سازی اور بروقت اقدامات کا شعور وفہم ہے۔ اگر آپ بدلتے حالات کا پیشگی ادراک کرتے ہوئے عین اس موقع پر چوٹ مارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جب لوہا گرم ہو تو آپ کو سیاستدان کی بجائے اپنے محلے کی مسجد کا امام بن جاناچاہئے ۔

آج بہت سے خوش فہم حضرات اس نوع کی چھوڑ رہے ہیں کہ جب کرکٹر کی ایک طاقتور ہستی کے ساتھ ان بن ہو گئی تھی تو ن لیگ اور دیگر اپوزیشن کو اسے یونہی چلنے دینا چاہئے تھا، تحریک عدم اعتماد لانے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اس طرح اگر سلیکٹڈ حکومت اپنی معیاد پوری کرتی تو اتنی ذلیل ہو جاتی کہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔ یوں ن لیگ کیلئے 2023میں جیتنا اور اوپر آنا گویا میٹھی کھیر کی طرح ہو جاتا۔ لیکن یہ کھیر اتنی سیدھی نہ تھی ۔ ایسے سیانوں کی اپروچ درویش کی نظروں میں محض ڈنگ ٹپاؤ نوعیت کی ہے جس میں کوئی وزڈم ہے نہ حکمت۔ نہ بدلتی صورتحال کا بہتر ادراک۔

حضور اگر بڑی سرکار اور اس کے بالک میں خلیج پیدا ہو گئی تھی تو اس کا تقاضا یہی تھا کہ آپ اسے اپنے لئے لاٹری سمجھتے ہوئے اس پر چڑھ دوڑتے اور فوری طور پر اس خلیج کو کھائی میں بدلنے کی تمامتر تدابیر کرتے۔ اس حد تک ن لیگیوں یا متحدہ اپوزیشن نے جو کچھ کیا وہ سب قابل فہم ہونا چاہئے۔ مسئلہ اس سے آگے کا ہے ۔ کسے معلوم نہیں تھا کہ ایک کھلنڈرے لاڈلے ستر سالہ نوجوان نے اپنی ناتجربہ کاری، غیر سیاسی و غیرمفاہمانہ سوچ، ہوس اقتدار کی جنونیت اور جعلی بیانیہ کے ساتھ اس ملک کی بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غیر جمہوری جھوٹی اکڑ نے محض اس ملک کی معاشی ناؤ ہی نہیں ڈبوئی، قومی و بین الاقوامی سطح پر ایسی منافرتیں پروان چڑھائیں جن کا مداوا کرنے پر اگلی منتخب حکومت اپنی پوری ٹرم خرچ کر دے گی مگر کھلاڑی کی پھیلائی ہوئی زہریلی منافرتیں ختم نہ ہو سکیں گی ۔

ایسے حالات میں کس پاگل جانور نے آپ کو کاٹا تھا کہ آپ ڈیڑھ سالہ بوسیدہ اقتدار پر یوں جھپٹے جیسے یہ زہریلے گھونٹ نہیں، امرت دھارا ہے۔ ابا وزیر اعظم ہے، بیٹا وزیر اعلیٰ ہے، مفتا ح یوں مزے لے لے کر، عوام میں پٹرول بم پھوڑرہا ہے جیسے وہ پھلجھڑیاں چھوڑ رہا ہو۔ اور عوام کو اس کے سواگت کیلئے تالیاں بجانی چاہئیں۔ کیا اس گناہِ بے لذت میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے آپ لوگوں کو یہ سوچنا نہیں چاہئے تھا کہ ہم لوگ عوام کیلئے مرے کو ماریں شاہ مدار کا کردار ادا کیوں کریں؟ آپ لوگ تو اس مظلوم قوم کی آخری امید گنے جا رہے تھے، آپ ہی اسے سبق سکھانے پر کیوں تل گئے؟ ہمارے ملک کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں کسی سلیکٹڈ یا الیکٹڈ کو جب طاقتور، چھڑ یا ٹھوکرمارتا ہے تو عوام یہ سمجھ جاتے ہیں اب کے اس کی نہیں دوسرے کی باری ہے یہی وہ آئیڈیل وقت تھا جب آپ فوری اسمبلیاں تحلیل کرتے ہوئے عوام کی عدالت میں پیش ہو جاتے۔ مگر آپ نے تو طاقتور کی محبت و قربت میں عوام کو ذلیل کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔

چلیں آپ کیلئے نومبر کا مسئلہ تھا اس لئے آپ کی مجبوری تھی کہ اتحادی حکومت کو تب تک بہرصورت رہنا چاہئے۔ تو کیا یہ بھی مجبوری تھی کہ اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے کی طرح، تمام اہم عہدوں پر اپنے لوگوں کو براجمان کر دیا جاتا ؟ آپ لوگ آکسیجن کا رول ادا کرتے ہوئے، خود کوئی عہدہ لئے بغیر اپنے تمام تر اتحادیوں بالخصوص چھوٹی پارٹیوں اور ان باضمیروں کو خوش کر دیتے جو ادھر سے پتے کٹوا کر آئے تھے۔ یوں سانپ بھی اپنی موت آپ مر جاتا اور آئندہ کیلیۓ آپ کی لاٹھی بھی محفوظ رہتی۔ اس درویش سے جو بن پایا اور جہاں تک وہ اپنی آواز پہنچا سکتا تھا پوری کاوش کی مگر کیا کریں کہ کرسی کی کشش ہی اتنی شدید ہے کہ اس نشے میں انہیں کچھ دکھتا ہی نہیں ۔

پنجاب میں 17جولائی کو جو کچھ ہوا ہے، فیس سیونگ کیلئے آپ ضرور یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیس کی بیس سیٹیں تو انہی کی تھیں بلکہ ہم نے تو پانچ چھین لی ہیں۔ یا یہ کہ ان حلقوں میں ہمارے ووٹوں کی شرح بڑھی ہے۔ بلاشبہ پنجاب ن لیگ کو چھوڑ کر کہیں نہیں گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 17جولائی سے قبل آپ لوگوں کے جو بھی دعوے تھے وہ تو رہے ایک طرف خود جیتنے والوں کو بھی اتنی بڑی کامیابی کی توقع ہرگز نہیں تھی ۔ یہ الگ بات کہ سکہ بند لالچی کا پیٹ کبھی بھر نہیں سکتا۔ وہ اسی ٹیون میں بولے جا رہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹایا جائے کیونکہ اصل خوف فارن فنڈنگ کیس کا ہے۔ ن لیگ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے تو کوئی احسان نہیں کیا۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ اسمبلی میں بھی اس مینڈیٹ کا احترام کرے گی ؟

ن لیگ کچھ اور کرے نہ کرے ، ایک نظر اپنی حالیہ کوتاہیوں پر ضرور ڈا لے۔ درویش اس پر ایک تفصیلی کالم الگ سے لکھنا چاہتا ہے۔ فی الحال اتنا ہی کہ ن لیگ نے نواز شریف کے عوامی اقتدار اعلیٰ کی عظمت منوانے والا بیانیہ چھوڑ دیا اورچاپلوسی و بیساکھیوں والا دیرینہ شہبازی نظریہ اپنا لیا جس کے خلاف لڑتے ہوئے انسانی عظمت منوانے کی قسم کھانے والوں نے زندگیاں نچھاور کر دی تھیں۔ اگر آپ لوگوں نے یہی ایڑیاں رگڑنی تھیں تو پھر کھلاڑی اس فن میں آپ جیسے نا ہنجاروں سے کہیں بہتر تھا ۔ آپ لوگ کس اخلاقیات یا ’’سیاست نہیں ریاست ‘‘ بچاؤ کی بات کرتے ہیں ؟ جن لوگوں نے برسوں آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر اذیتیں اٹھائیں، آپ چند ماہ کی کرسی کیلئے ان سب کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹکٹیں انہیں بانٹ رہے تھے جن پر حلقوں میں پی ٹی آئی کی چھاپ تھی۔ آپ انہیں نوازنے کا کوئی اور طریقہ بھی ڈھونڈ سکتے تھے ۔

باپ بیٹا تو رہے ایک طرف مگر وہ جو نئی محترمہ بے نظیر بننے جا رہی تھیں، وہ اپنے انتخابی جلسوں میں کیا فرما رہی تھیں؟ کیا کسی نے اس بی بی صاحبہ کی سطحی اپروچ کے مضمرات پر غور کرنے کی ہمت کی؟ لہٰذا اب بھی بہتری اسی میں ہے کہ جذبہ خود احتسابی کے تحت اپنی کوتاہیوں کا خود محاسبہ کریں اور اصلاح کا سوچیں۔