پنجاب میں کوئی بھی جیتے، پاکستان ہار ے گا

ہفتہ کی  شام تک پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے عہدے کا فیصلہ ہوجائے گا۔ بظاہر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے  امیدوار پرویز الہیٰ کو اسمبلی   میں اکثریت کی حمایت حاصل ہوچکی ہے لیکن  اتحادی جماعتوں نے حمزہ شہباز کو کامیاب کروانے کے لئے حتی الامکان زور لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔  مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ایک دوسرے پر رشوت دینے اور ارکان اسمبلی خریدنے  کے الزام لگا رہے ہیں ۔  یہ صورت حال عوام کی پریشانی اور ملکی معیشت کی بدحالی کا سبب بن رہی ہے۔

ایک دوسرے کے خلاف  الزامات سے بھرپور ویڈیو یا   آڈیو پیغام سامنے لانے، مختلف ہتھکنڈوں سے   مخالف فریق کو کو  نیچا دکھانے اور  مسلمہ جمہوری طریقہ  اختیار کرنے کے سوا ہر ہتھکنڈا  آزمانے والے یہ سب لوگ عوامی حاکمیت کے دعویدار  بھی ہیں اور ملک و قوم کا بھلا بھی چاہتے ہیں۔ عمران خان کی سیاست ایک نکاتی ایجنڈے پر استوار ہے کہ وہ پاکستان کو خوددار قوم بنانا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک  جو قوم اپنی عزت نہیں کرسکتی ، دنیا میں کوئی بھی اس کی عزت نہیں کرتا۔ تاہم ملک پر پونے چار سال  اقتدار کے دورانیہ میں ان کی حکومت کے نامہ اعمال میں شاید ہی کوئی ایسا کارنامہ ہو جس سے پاکستان کو دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہو۔  تحریک انصاف   کی خارجہ پالیسی  امریکہ کو خوش کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر استوار رہی تھی۔ شاہ محمود قریشی اور اسٹبلشمنٹ کے بزرجمہروں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ پاکستان اگر طالبان کو امریکہ کے ساتھ  معاہدہ کرنے پر آمادہ کرلے تو   اس  کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ صدر  ڈونلڈ ٹرمپ جیسا مقبولیت پسند شخص اس سفارتی کامیابی میں  تعاون کرنے پر پاکستان کو نہال کردے گا۔  امریکہ کی طرف سے ملک کی روکی ہوئی دفاعی اور معاشی امداد بحال  ہو جائے گی  اور  دنیا بھر کے فورمز پر پاکستان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

یہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے یا اس بنیاد پر امیدوں  کا سہانا محل تعمیر کرتے ہوئے کسی بھی ذمہ دار عہدیدار نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ ایک بار امریکی افواج افغانستان سے نکل گئیں تو اس کے بعد اس ویران اور تباہ حال ملک میں اس  کی کیا دلچسپی باقی رہ جائے گی؟  عمران خان کی قیادت میں پاکستانی وزارت خارجہ نے اس محیر العقل سادہ لوحی اور کم نگاہی کا ثبوت فراہم کیا کہ  مسلسل یہی سمجھا جاتا رہا کہ افغانستان سے نکلنا امریکہ کی اتنی بڑی مجبوری ہے کہ  وہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر تیار ہے۔  پاکستان یہی قیمت لینے لئے طالبان لیڈروں کو منا کر دوحہ مذاکرات  میں شامل ہونے پر آمادہ کرتا رہا  تھا۔ پاکستانی حکومت و اسٹبلشمنٹ کا خیال تھا کہ امریکی افواج کے جانے کے بعد نام نہاد دہشت گرد عناصرکے قلع قمع کے لئے پاکستان کو اہم کردار سونپا جائے گا۔      پاکستان علاقے میں امریکہ کا نائب بن کر  ایک طرف افغانستان کو زیر اثر رکھے گا تو دوسری طرف بھارت کو آنکھیں دکھا کر اپنی مرضی کے مطابق  مفاہمت کے کسی منصوبہ پر مجبور کردے گا۔  اس دورانیہ میں اگر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے بیانات  کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دوحہ  میں مذاکرات تو طالبان اور امریکی وفود کررہے تھے لیکن اس ریجن پر  ’حکمرانی‘ کے خواب پاکستان دیکھ رہا تھا۔ بھارت کے ساتھ تند لب و لہجہ اختیار کیا گیا اور دو طرفہ مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط عائد کی جاتی رہیں۔ یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ   کشمیر کے  جن قوانین کے بارے میں پاکستان نئی دہلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا تھا، اس قانون کو پوری دنیا نے بھارت کا اندرونی معاملہ سمجھتے ہوئے اس پر کوئی بات  نہیں کی۔

’خود داری   میں  سرشار‘ حکومت  کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ شاہ محمود قریشی نے یہ سمجھا کہ اگر کسی طور سعودی عرب کو دھمکا کر اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلا لیا جائے اور چالیس پچاس مسلمان ممالک  پر مشتل یہ کاغذی اتحاد کشمیر کے سوال پر پاکستان کے حق میں بھارت کی مذمت کردے تو بیل منڈھے چڑھتے دیر نہیں لگے گی۔ اس وقت شاید حکومت کو یقین تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو افغانستان میں تعاون کے ذریعے اس قدر خوش کردیا گیا ہے اور پھر عمران خان نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران اسے یوں اپنے ’شخصی سحر ‘ میں گھیر لیا ہے کہ اب صرف مسلمان ممالک کی طرف سے رسمی  حمایت کے بعد کشمیر کسی پکے ہوئے پھل کی طرح پاکستان کی جھولی میں آ گرے گا۔  شاہ محمود قریشی کے ایک غیر ذمہ دار بیان نے پاک سعودی تعلقات میں ایسی گہری دراڑ  ڈال دی کہ  اسے اب تک بھرا نہیں جاسکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ سعودی ولی عہد کے دیے ہوئے تحائف کو عام مارکیٹ میں فروخت کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات میں غیر معمولی بے اعتباری پیدا کی گئی۔ اب  اسی حکومت کا سربراہ پاکستانی عوام کو خوددادری کا چورن بیچتا ہے تاکہ اس کی سیاسی دکان چلتی رہے۔  عوام کو گمراہی کے اس دلدل میں دھکیلتے ہوئے ہرگز یہ باور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ  جو جھوٹے اور ناقابل عمل خواب سیاسی کامیابی کے لئے دکھائے جارہے ہیں،  جب ان کی تکمیل نہیں ہوپائے گی تو   پھر عوام کا ردعمل کیسے سمیٹا جائے گا۔

صبح  شام آصف زرداری اور شہباز شریف  کے خلاف دشنام طرازی کرنے والے عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ انہوں نے ایک ناکام اور غیر مقبول حکومت کے خلاف ’عدم اعتماد‘ لاکر  عمران  خان کو عوام کی نظروں میں ’سیاسی شہید ‘ بنا دیا ہے۔   یوں وہ یک طرح سے عمران خان کے ذاتی محسن ہیں۔  لیکن  وہ نہایت ڈھٹائی سے مہنگائی اور ملک کو  غیر ملکی قرضوں سے زیر بار کرنے کے سوال پر موجودہ حکومت کو مطعون کرتے ہیں اور عوام کی داد وصول کرتے ہیں کیوں کہ ان کی اپنی نااہلی  اتحادی حکومت کی  عاقبت نااندیشی کی وجہ سے بھلا دی گئی ہے۔ عمران خان کی غلطیوں کا سارا بوجھ شہباز حکومت نے  اٹھایا  اور اب وہ عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ہماری غلطیاں نہیں ہیں بلکہ عمران خان ملکی معیشت میں ’بارودی سرنگیں‘ بچھا گیا تھا۔ یہ بیان دیتے ہوئے  اتحادی حکومت کے نمائیندے یہ فراموش کردیتے ہیں کہ سیاسی لیڈروں نے عوام کو متوازن طریقے سے سوچنے، حالات کا تجزیہ کرنے، سیاسی لیڈروں کی غلطیوں کا جائزہ لے کر رائے بنانے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔

کبھی کسی بھی سیاسی پارٹی نے ووٹروں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ  نہیں کیا اور نہ ان میں  متوازن سیاسی شعور کو ابھرنے کا موقع دیا۔ سب نے انہیں نعرے فروخت کئے ہیں۔ پنجاب کے  ضمنی انتخاب نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان کے نعرے زیادہ قابل فروخت  تھے ، اس لئے انہیں  زیادہ پزیرائی نصیب ہوئی ۔ ان نعروں میں مذہبی وارفتگی، قومی  خودداری اور امریکہ سمیت سب ’دشمنوں‘ کو للکارنے کا حوصلہ دکھائی دیتا ہے۔ نعرے چونکہ ہوا میں تیرتا ہؤا ایک ایسا بے بنیاد استعارہ ہے جس کے پاؤں نہیں  ہوتے  کہ انہیں  زمین پر دھرا جاسکے۔  اور نہ ہی  ان کا  کوئی طبعی وجود ہوتا ہے کہ اسے تھاما جاسکے۔ یہ  لیڈر کے منہ سے نکلتا ہے اور عام لوگوں کی سماعت سے ٹکرا کر ایک غیرمرئی  شبیہ بنا تے ہوئے  غائب ہوجاتا ہے۔  لیڈر ا س کیفیت کا  سیاسی فائدہ اٹھا کر آگے بڑھ جاتا ہے اور نعروں کے سحر میں مبتلا لوگ ہوش میں آنے کے بعد سوچتے ہیں کہ ان کے ساتھ تو ’ ہاتھ ‘ ہوگیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

عمران خان کی  قومی خوددداری کے مقابلے پر اتحادی حکومت   عوام کو معاشی استحکام کے نعرے بیچنا چاہتی ہے۔ لیکن جب ملک میں روزانہ کی بنیاد پر بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں، روپے کی قدر تیزی سے ابتری کا شکار ہو، لوگوں کی آمدنی ان کی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں ناکام ہورہی ہو تو ایک نیم خواندہ معاشرے کے لوگوں کو معیشت کی پیچدگیوں، سیاسی فیصلوں کی نزاکتوں اور اس مشکل سے نکلنے کے لئے قومی جذبہ سے کام لینے جیسی اصطلاحات سمجھانا آسان نہیں ہوتا۔  اب یہ واضح ہورہاہے کہ  اتحادی جماعتوں نے عمران خان کی مخالفت اور کسی انجانے خوف میں مبتلا ہو کر ایک ناکام حکومت کو  گرایا اور اس کا سارا ناکارہ ملبہ اپنے سر پر اٹھا لیا۔   یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لئے جو قیمت ادا کی گئی اس  میں ’ووٹ کو عزت  دو یا عوامی حکمرانی‘ جیسے نعروں سے دست برداری بھی شامل تھی۔ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں  معاشی مشکلات، مہنگائی اور  اسی اسٹبلشمنٹ کے کاندھوں پر سوار ہوکر حکومت کرنے کے طریقہ کے خلاف رائے سامنے آئی ہے جس کے خلاف عمران خان کو نامزد قرار دیتے ہوئے  پونے چار سال تک عوامی رائے ہموار کی گئی تھی۔ اب لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ اتحادی  حکومت کے کسی ترجمان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے عمران خان  پر جوابی وار کرکے معاملہ الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ  معاشی  خود انحصاری کے بغیر نہ  کوئی ملک خود مختار رہ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے عوام کی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔  یہ بھی سب کے علم میں ہے کہ معاشی بحالی کا کام کرنے کے لئے  اعتبار ، مصالحت، سیاسی استحکام اور   معاشرتی اطمینان و سکون  ضروری ہے۔ جب تک کسی ملک میں بدامنی اور سیاسی مارا ماری ہوگی، کوئی سرمایہ  دار وہاں  کا رخ نہیں کرے گا۔ آئی ایم ایف  جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکلنے اور ملک  کے کثیر غیر ملکی قرض کی ادائیگی کے لئے قومی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ یہ معاشی تحرک بیرونی سرمایہ کاری اور لوگوں میں کام  کی لگن پیدا کرنے سے  ہی حاصل ہوسکتا ہے۔  لیکن پاکستان کے سیاست دان  احتجاج  منظم کرکے  اور جلسہ گاہیں بھر کر قومی تعمیر کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف حکومت چھوڑنا نہیں چاہتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ معاشی صورت حال میں  ہونے والاانتخاب ان کی پارٹی کی رہی سہی مقبولیت کا پول بھی کھول دے گا۔ عمران خان اس حکومت کو چلنے نہیں دینا چاہتے کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ اگر زیادہ سے زیادہ انتشار پیدا نہ کیا تو وہ سیاسی طور  سے ’غیر متعلقہ‘ ہوجائیں گے۔

 پھر بھی دونوں  عوام کی محبت  کا دم بھرتے ہیں،  ترقی کا نعرہ لگاتے ہیں اور ملک میں جمہوریت عام کرنا چاہتے ہیں۔  پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں ان نعروں کی جعل سازی  عیاں ہورہی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون جیتے گا اور کون ہار جائے گا۔ پاکستان تو  دونوں صورتوں میں ہار رہا ہے۔  ہیجان ، انتشار اور سیاسی تصادم کی موجودہ صورت حال میں ملکی معیشت   مسلسل کمزور پڑ رہی ہے۔