زرمبادلہ کا بہاؤ مستحکم، پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ہیں: خرم دستگیر

  • جمعرات 21 / جولائی / 2022

وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت زر مبادلہ کا بہاؤ متوازن و مستحکم ہے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بھی ریکارڈ سطح پر  ہیں۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ جب عمرانی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو ملک کی معیشت ڈگمگانا شروع ہوجاتی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی ہوئی، اسٹاک مارکیٹ گری، عمرانی فتنے کا ایجنڈا پاکستان کی معیشت کو ڈانواں ڈول رکھنا ہے، وہ ہمیں واضح طور پر نظر آیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کتنی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے کہ جس جماعت نے 17 جولائی کے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، وہ اپنی کامیابی کے باوجود الیکشن کمیشن پاکستان پر چڑھ دوڑے۔ عمران خان چیف الیکشن کمشنر کو غدار قرار دے رہے ہیں، انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ ہی فاشزم کا خاصا ہے کہ جو ادارہ بھی فاشسٹ شخص کی مرضی کے خلاف عمل کرے اس کے خلاف ہر قسم کی مغلظات بکی جائیں، اس کے بارے میں غلط گفتگو کریں، اس کو غدار قرار دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا ایجنڈا ملکی جمہوری اداروں کو آگ لگانے کا ہے۔ ہماری وسیع البنیاد اتحادی حکومت اس آگ کو بجھانے آئی ہے، ان آئینی اداروں کا تحفظ کرنے آئے ہیں۔ 17 جولائی کو عمران خان کے 4 بیانیے زمین بوس ہوگئے۔ ان کا ایک پانچواں بیانیہ بھی ہے لیکن وہ وہ لطیفہ ہے۔ ان کے 4 بیانیوں میں سے زمین بوس ہونے والا ایک بیانیہ یہ تھا کہ عمران خان اب بتادیں کہ 17 جولائی کو امریکی سازش کہاں ہوئی اور اس نے کس کی حمایت کی۔ ان کا دوسرا بیانیہ ایکس اور وائے کا تھا، نیوٹرل اور جانور کا یہ بھی بتادیں کہ 17 جولائی کو کس کی حمایت ہوئی تھی۔

خرم دستگیر نے  کہا کہ ان کا تسیرا بیانیہ وہ ہے جس کے تحت وہ الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہیں، وہ بیانیہ بھی زمین بوس ہو گیا۔  جب سے آئین شکنی سے متعلق عدلیہ کا تفصیلی فیصلہ آیا ہے اس وقت سے وہ اس پر بھی حملہ آور ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بد تہذیبی، آئین شکن اور فاشسٹ گفتگو اور طریقہ کار کی وجہ سے ملک آگے نہیں جا رہا۔ ان کے اس رویے کی وجہ سے صرف جمہوریت کو نہیں بلکہ ملک کی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کو قریب سے دیکھنے والے ادارے اور دوست ممالک پریشان ہیں کہ پاکستان بھی عمران خان کے فتنے کی وجہ سے سری لنکا جیسے حالات سے دوچار ہونے کی جانب جانا شروع تو نہیں ہوگیا۔

خرم دستگیر نے کہا کہ اس بات کی وضاحت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کرچکے ہیں، میں ان کی بات کو دہرانا چاہوں گا کہ یہ اتحادی حکومت پاکستانیوں اور ان کے بچوں کے معاشی مستقبل کی محافظ ہے۔ ہم عمران خان کی انتشارپھیلانے کی کوششوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ہے، ملک میں جو مہنگائی ہے اس سے پاکستانیوں کو تکلیف پہنچی ہے لیکن یہ بات یاد رکھی جائے کہ 9 اپریل 2022 تک ملک پر عمران خان کی حکومت تھی اور ابھی جو بجٹ کے اعداد و شمار آئے ہیں، اس میں ہم 9 اپریل کی بعد کی صورتحال کے ذمے دار ہیں۔