مفروضوں پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے مزید شواہد عدالتی ریکارڈ پر لانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی طرف سے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفروضوں پر کارروائی آگے نہیں بڑھا سکتے۔
پرویز الٰہی کے وکیل نے تحریک انصاف کے تین ارکان صوبائی اسمبلی کے بیان حلفی عدالت کے سامنے پیش کئے۔ وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس اور نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ پڑھا۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ نے کہا پانچ بندے ادھر ادھر ہو جائیں گے، جس پر بنچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کہاں ہوئی ہے، یہ بتائیں۔ مفروضوں پر تو ہم توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے۔
چوہدری پرویز الہی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ن لیگی ایم پی اے راحیلہ نے عطا تارڑ کے ذریعے پیسے دینے کے لیے ایم پی اپز کو کال کی، جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی بیان حلفی پر تاریخ درج نہیں کہ کب کال کی گئی۔ تینوں بیان حلفی میں ایک ہی قسم کی زبان استعمال کی گئی ہے۔
دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اپ کے مؤکل کے ایم پی اے کے ساتھ بات کس تاریخ ہوئی اور اصل بیان حلفی کدھر ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اصل بیان حلفی لاہور میں ہیں۔ اس ہر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئی ایم سوری اس کا مطلب ہے آپ کو بھی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں بیان حلفی پرعبارت ایک جیسی ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ہمارے یکم جولائی کے حکم کی کیا خلاف ورزی ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ عطا تارڑ اور ایم پی اے راحیلہ کے خلاف آپ کی توہین عدالت کی درخواست نہیں، جس ہر فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالت راحیلہ اور عطا تارڑ کے خلاف سوموٹو لے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ سوموٹو لینا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ریاستی مشینری سے بندے اٹھائے جائیں تو یہ فوجداری جرم ہوگا اور جب یہ جرم ہوگا توہین تب ہوگی۔ کسی جرم کو پہلے فرض نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کے وکیل کو توہین عدالت سے متعلق مزید شواہد ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا جو الزام لگایا ہے اس کو ثابت کریں تاکہ پتا چلے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پر بیٹھے ہیں اور ہماری آنکھیں بند نہیں ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ہماری نظر اپنے حکمنامے اور قانون پر ہے۔