مداخلت سے پاک ضمنی الیکشن
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 21 / جولائی / 2022
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ پاک فوج نیوٹرل نہیں ’غیر سیاسی‘ ہے۔
میں نہیں سمجھتا اس وقت کسی کو اس اصطلاح کی سمجھ بھی آئی ہوگی بلکہ اکثر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ چونکہ عمران خان نے لفظ نیوٹرل کو لے کر بہت تنقید کی ہے، اس لیے لفظ ’غیرسیاسی‘ استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات نے ’غیرسیاسی‘ ہونے کا مطلب سمجھا دیا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس کے فوائد زیادہ ہوئے یا نقصانات زیادہ ہوئے ہیں۔
عمران خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں اپنی حکومت کو چلانے اور سیاسی مینجمنٹ کے لیے اداروں کو استعمال کرتے رہے ہیں اسی لیے اتحادیوں کے رحم وکرم پر کھڑی عمران خان کی حکومت مضبوط لگتی تھی۔ جب کہ آج اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی شہباز شریف کی حکومت ایک کمزور حکومت لگتی ہے۔ یہ بھی قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ پہلے اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کا بھی براہ راست فائدہ عمران خان ہی کو ہو رہا تھا اور آج کی پالیسی کا بھی عمران خان کو ہی فائدہ ہو رہا ہے۔ تب ان کا اقتدار مضبوط تھا، آج ان کی اپوزیشن مضبوط ہے۔
پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کی اصطلاحات استعمال کرکے عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو براہ راست سیاست میں گھسیٹنے کی پوری کوشش کی۔ شاید ان کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ وہ پنجاب کے ضمنی الیکشن جیت سکتے ہیں۔ اس لیے وہ تو اپنی ہار کے لیے جواز تلاش کر رہے تھے۔ وہ ایک ماحول بنا رہے تھے کہ اگر وہ ہار جائیں، جس کا انہیں قوی یقین تھا تو وہ کہہ سکیں کہ انہیں تو اسٹیبلشمنٹ نے ہروایا ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسا ماحول بنے کہ میڈیا اور لوگ کہیں کہ وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ہار گئے ہیں، اس لیے وہ یہ تاثر بنارہے تھے کہ انہیں ہرایا گیا ہے۔ جیسے وہ یہ تاثر بنانے میں بھی کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں کہ ان کی حکومت کے جانے میں بھی غیرملکی سازش کارفرما ہے۔
پنجاب کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے ثابت کیا ہے کہ مسٹر ایکس اور کسی مسٹر وائی کی اصطلاح بھی نفسیاتی جنگ کا حصہ تھی اور ایسے کرداروں کا وجود ہی نہیں تھا۔ یہ فرضی کردار تھے جنہیں سیاسی ضرورت کے تحت پیدا کیا گیا تھا تاکہ بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکے۔ تب بھی سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ عمران خان ایک طرف تو اپنی ہار کی وجہ بنا رہے ہیں اوردوسری طرف وہ اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کی مسٹرایکس اور مسٹر وائی کی مہم کی وجہ سے یہ تاثر بھی بنا ہے جیسے عمران خان نے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کو ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود شکست دے دی ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے بھی اس تاثر کو فالو کیا ہے۔
آج کی حکومت کو بھی گلہ ہے کہ اس کی ایسے مدد نہیں کی جا رہی جیسے عمران خان حکومت کی، کی جاتی تھی۔ ان کے خیال میں اگر ان کی تھوڑی بہت مدد کر دی جاتی تو نتائج بہتر ہو سکتے تھے۔ اس لیے اگر دیکھا جائے تو ’غیرسیاسی‘ پالیسی سے فی الحال نہ تو اپوزیشن اور نہ ہی حکومت خوش ہے۔ عمران خان بھی جانتے ہیں کہ ان کی احتجاجی تحریک اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتی اور حکومت کو بھی علم ہے کہ اس طرح حکومت کمزور ہی رہے گی۔ لیکن شاید اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ ہے کہ اس نے سیاسی میدان سے دور رہنا ہے۔ اس لیے شدید تنقید کے باوجود وہ دور ہی رہ رہے ہیں۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’غیرسیاسی‘ ہونے کی پالیسی کے فی الحال فوائد کم اور نقصان زیادہ نظر آرہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج کی قیادت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن پاک فوج نے یہ سب تنقید برداشت کی ہے اور سیاسی میدان سے دور رہنے اور
ہونے کے فیصلہ پر ثابت قدمی دکھائی ہے۔ وہ ایک مشکل راستے پر چل رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت انہیں ’غیرسیاسی‘ کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ انہیں ایک فریق کے طور پر چاہتے ہیں تا کہ اپنی ہار اور جیت کا سہرا ان کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ اسی لیے انہیں بار بار سیاسی میدان میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عمران خان کے پاس اس انتخابی مہم کے دوران کسی قسم کی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ان کے پاس مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کی کوئی پہچان نہیں تھی۔ وہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کریز سے باہر نکل کر کھیل رہے تھے لیکن وہ ایسا اقتدار میں رہتے ہوئے بھی کرتے تھے اور اقتدار سے نکل کر بھی کر رہے ہیں۔ آج ایک خاص سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ اسٹیبلشمنٹ کی ’غیرسیاسی‘ کی پالیسی سے خوش نہیں ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں موجودہ تنقید کو مکمل نظر اندازکرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو یہ پالیسی جاری رکھنا چاہیے۔ جس طرح ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ جھوٹ بے نقاب کیا ہے کہ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کا کوئی وجود تھا، اسی طرح آہستہ آہستہ پاک فوج کو سیاسی میدان میں لانے کی تمام کوششیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔
سیاسی قیادت کو بھی سمجھ آجائے گی کہ اپنا کام خود ہی کرنا ہے۔ حکومت بھی خود ہی کرنی ہے اور اپوزیشن بھی خود ہی کرنی ہے۔ نہ کوئی فیڈر میں دودھ پلائے گا اور نہ ہی کوئی آپ کی گندی نیپی بدلے گا۔ اپنا گند خود ہی صاف کرنا ہوگا۔ آج سوشل میڈیا پر بھی جو پراپیگنڈا نظر آتا ہے اس کی بھی عمر زیادہ نہیں ہے۔ وہ بھی اپنی موت خود ہی مر جائے گا۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات کے بعد کافی حد تک مر گیا ہے۔ لیکن مذموم مقاصد کے لیے اس کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی عمر بھی کم ہی نظر آرہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)