صنفی برابری میں پیچھے کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعرات 21 / جولائی / 2022
خواتین اور مردوں کو معیشت،صحت،تعلیم اور سیاست میں مساوی حقوق اور مواقع ملنے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ورلڈ اکنامک فورم کی صنفی تفریق رپورٹ 2022 میں پاکستان کا146ممالک میں سے145واں نمبر ہے یعنی فہرست میں موجود کل ممالک میں صرف افغانستان ہی ہم سے بدتر پوزیشن پر ہے۔
رپورٹ میں جن آٹھ خطوں کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں جنوبی امریکی خطے میں صنفی برابری سب سے زیادہ جب کہ جنوبی ایشیائی خطے میں صنفی برابری سب سے کم ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکی خطے میں صنفی فرق کو ختم ہونے میں 59سال جب کہ جنوبی ایشیائی خطے میں صنفی تفریق کے خاتمے میں 197سال لگیں گے۔جنوبی ایشیائی خطے میں بنگلہ دیش اور نیپال علاقائی کارکردگی میں سب سے بہتر جب کہ افغانستان صنفی برابری کی سب سے کم سطح پر موجود ہے۔جنوبی ایشیائی ممالک کی رینکنگ کی بات کی جائے تو بنگلہ دیش 71 ویں، نیپال96، سری لنکا110، مالدیپ117، بھوٹان126، انڈیا135، پاکستان145اور افغانستان146ویں نمبر پر ہیں۔مختلف خطوں میں شامل دیگر اہم ممالک میں جرمنی 10، فرانس15، برطانیہ 22، امریکہ27، آسٹریلیا43، اسرائیل،60، متحدہ عرب امارات68، انڈونیشیا92، چین102، ملائیشیا103، جاپان116، ترکی124، سعودی عرب127، مصر129اور ایران143ویں نمبر پر ہے۔
اگرچہ کسی بھی ملک میں 100فیصد صنفی برابری نہیں ہے تاہم پہلے دس ممالک میں صنفی برابری کی شرح90سے80فیصد کے درمیان ہے۔پہلے دس ممالک میں شمالی یورپی اور سکینڈے نیوین ممالک کے علاوہ روانڈا اور نمیبیا جیسے سب سہارن افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔ اگرچہ عالمی صنفی تفریق رپورٹ 2022کے مطابق پاکستان نے اقتصادی شراکت اور معاشی مواقع فراہم کرنے سمیت تین ذیلی درجات میں نمایاں مثبت بہتر دکھائی ہے تاہم اس کے باوجود یہ حقیقت ہمارا منہ چڑانے کے لیے کافی ہے کہ رپورٹ میں شامل کل146ممالک میں سے ہم سیکنڈ لاسٹ (145) پوزیشن پر ہیں۔10کروڑ 70لاکھ سے زائد خواتین کی آبادی والے ہمارے ملک میں صنفی فرق 56 فیصد سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ2006میں شروع کی گئی رپورٹ کے بعد سے عدم مساوات کی اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2022کے مطابق پاکستان بلا امتیاز اقتصادی شراکت اور معاشی مواقع فراہم کرنے میں 145ویں نمبر پر ہے، حصول تعلیم کے مساوی مواقع کی فراہمی میں 135ویں، طبی سہولیات کی فراہمی میں 143ویں، اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے میں 95ویں نمبر پر ہے۔
معاشی اشاریوں میں اجرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ صنفی فرق ہے۔اگرچہ تخمینہ شدہ آمدنی کے حوالے سے خواتین کی آمدنی میں گزشتہ سال کی نسبت چار فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن حالیہ سال میں ہمارے ہاں لیبر فورس میں خواتین کی شرکت میں کمی آئی ہے۔لیبر فورس سروے کے مطابق صنعتی شعبے میں خواتین کی اجرت مرد کارکنوں کے مقابلے میں 20سے50فیصد تک کم ہے۔صنفی تفریق کی رپورٹ کے مطابق پاکستان وہ ملک ہے جہاں خواتین کا انتظامی اور قانون سازی میں سب سے کم (4.5فیصد) کردار ہے۔اس کے علاوہ ہمارے ہاں پیشہ وارنہ اور تکینکی جگہوں پر بھی خواتین کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے غیر امتیازی کنونشنز کی توثیق کر رکھی ہے لیکن ابھی تک ہمارے ہاں خواتین کے لیے مساوی اجرت اور موقعوں کی ضمانت کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی جو ملازمت دینے والے اداروں کو پابند کر سکیں۔
بانڈڈ لیبر فرلیبریشن فرنٹ سمیت کئی ایک تنظیموں کی جدوجہد کے نتیجے میں گذشتہ چند برسوں میں خواتین کے معاشی و سماجی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں قانون سازی ہوئی ہے لیکن قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے سے قانونی اور عدالتی نظام بھی معاشرے میں عورتوں کے مقام میں قابل ذکر اضافہ کرنے میں مددگار دکھائی نہیں دے رہا۔ صنفی مساوات قائم کرنے کی راہ میں ہمارا معاشرہ بھی برابر کا قصور وار ہے۔گھروں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی خوارک،لباس تعلیم اور صحت کے معاملات میں تفریق روا رکھی جاتی ہے۔ہم لوگ اسلامی قانون وراثت کے تحت بھی خواتین کو انکے وراثتی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ مرد کی بالا دستی کے اصول پر قائم ہمارے معاشرے میں زمین اور جا ئیداد کو بچانے کے لیے بھی خواتین کا استحصال کیا جا تا ہے۔ مردانہ بالادستی کے اعتقادات پر مبنی نظام میں مرد کی فوقیت اور عورت کی کمتر حیثیت کو اس طرح سے اجاگر کیا جاتا ہے کہ ان پڑھ اور کم پڑھی لکھی روایتی خواتین بھی یہ یقین کر لیتی ہیں کہ مردوں کو نہ صرف تشدد کے ذریعے خواتین کو قابو میں رکھنا چاہیے بل کہ مرد رقم اور جائیداد کی ملکیت کی بنا پر خواتین کو قابو میں رکھنے پر قادر ہیں۔مردانہ بالادستی کے اصول پر قائم ہمارے معاشرے میں عورتوں کو جہاں ایک طرف صنف کی بنیاد پر گھریلو تشدد کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف اسے ازدواجی معاملات میں تولیدی صحت کے حقوق حاصل نہیں۔سرکاری اور پرائیوٹ شعبے میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کی شکایات عام ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خواتین کی ملازمت کے حق میں نہیں۔ اپنے وراثتی حقوق کے حصول کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنے کی جرات کرنے والی خواتین کو خاندان سے قطع تعلق سمیت متعدد دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگرچہ ماضی کے مقابلے میں آج خواتین میں تعلیم اور شعور بڑھنے سے نہ صرف وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو رہی ہیں بلکہ ان کے اندر اپنے حقوق سے متعلق آگہی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ اضافہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے۔سندھ میں ویمن ایگریکلچر ورکرز ایکٹ پاس کیا گیا ہے جس کی پنجاب سمیت دوسرے صوبوں کو بھی تقلید کرنی چاہیے۔حال ہی میں خواتین ملازمین میں یونینز بنانے کا خوش آئند رجحان پیدا ہوا ہے۔دنیا میں وہی ممالک زیادہ خوشحال اور پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں جہاں خواتین کو پیشہ وارانہ تعلیم اور اقتصادی مواقع تک برابر رسائی حاصل ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق فراہم کرکے معاشرے میں صنفی توازن پیدا کیا جائے تاکہ ملک کی نصف آبادی پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ انیسویں صدی میں خواتین کے حقوق کی سرگرم سماجی رہنما سوسن بی انتھونی کے ایک مشہور قول کا مفہوم یہ تھاکہ "حقیقی جمہوریہ میں مردوں کو ان کے حقوق سے کچھ زیادہ نہیں ملتااور خواتین کو ان کے حقوق سے کچھ کم نہیں ملتا"۔ سوسن بی انتھونی کے قول کو سامنے رکھتے ہوئے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج جہاں جہاں حقیقی جمہوریت ہے، وہاں وہاں صنفی برابری کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔