پاکستان دیوالیہ نہیں ہورہا: حکومت کی یقین دہائی

  • جمعہ 22 / جولائی / 2022

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کی جانب نہیں جا رہا، روپیہ جلد مستحکم ہوگا۔ ملک کے پاس ایک ماہ سے زیادہ کے لیے پیٹرول کے ذخائر موجود ہیں ۔

جمعرات کو وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں دعویٰ کیا گیا کہ اگلے ماہ تک ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بے لگام قیمتوں میں کمی آئے گی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اجلاس کو بتایا کہ 'ڈالر کی شرح کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اگلے ماہ تک روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہو جائے گا'۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر میں ریکارڈ کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وفاقی کابینہ نے اجلاس کے دوران پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے ملٹی ماڈل ایئر روڈ کوریڈور پالیسی کی منظوری سمیت کچھ دیگر اہم فیصلے بھی کئے گئے۔

وفاقی کابینہ نے ترکی کے ساتھ سامان کی تجارت کے معاہدے کی بھی منظوری دی، یہ معاہدہ پاکستان کے لیے 261 ٹیرف لائنوں میں سہولت فراہم کرے گا اور 123 اشیا کی زیرو ریٹنگ کر دے گا۔ معاہدے کے تحت پاکستان بھی ترکی کو 130 ٹیرف لائنوں، زراعت، کیمیکل، چمڑے، پلاسٹک، ربڑ، انجینئرنگ اور اسٹیل کی صنعتوں جیسے شعبوں میں سہولت اور نرمی فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے سے دوطرفہ تجارت  5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے روپیہ پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ اس کے اثرات اگلے ماہ سے پڑیں گے جبکہ اگلے دوماہ کے لیے ڈیزل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔17 تاریخ کے بعد سے ڈالر کی مارکیٹ بڑھی ہے اور اب آہستہ آہستہ کنٹرول میں آگئی ہے۔ اس مہینے کی درآمدات پچھلے سال اور پچھلے مہینے کے مقابلے میں کم ہیں۔ ڈالر میں دباؤ کی وجہ سیاسی کشیدگی ہے لیکن جیسے ہی اعلان ہوا کہ وفاقی حکومت جاری رہے گی تو مارکیٹ میں ٹھہراؤ آگیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے ایک سوال پر کہا کہ ہم اگلے ہفتے کے اندر اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر نامزد کریں گے اور آج ہی اسٹیٹ بینک کے بورڈ کے نام بھی جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈالر کو قید نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ڈبلیو ٹی او اور سب سے اہم آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہیں۔ ڈالر کی ٹریڈنگ ہورہی ہے لیکن ہم دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ٹھیک کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت میں کمی آ رہی ہے تو ہمیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں ادائیگیوں میں توازن اور استحکام ہوجائے گا اور ستمبر، اکتوبر میں پاکستانیوں کو مہنگائی میں بھی کمی ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔