پرویز الہیٰ کی اکثریت کے باوجود حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے

  • جمعہ 22 / جولائی / 2022

پنجاب اسمبلی میں اکثریت کئے باوجود پرویز الہیٰ وزیر اعلیٰ منتخب نہیں ہوسکے۔ ڈپٹی اسپیکر دوسر محمد مزاری نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کے خط کے برعکس رائے دینے والے دس ارکان کے ووٹ شامل کرنے سے انکار رکدیا۔ یوں حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔  

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار پرویز الہٰی کو ملنے والے ووٹوں میں سے (ق) لیگ کے تمام 10 ووٹ مسترد کردیے۔ جس کے بعد حمزہ شہباز 3 ووٹوں کی برتری سے وزیر اعلیٰ پنجاب برقرار رہے۔ وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے جبکہ 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کو 176 ووٹ ملے اور حمزہ شہباز کو 3 ووٹ کی برتری حاصل ہوئی۔

ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوان کو بتایا کہ مجھے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ 22 جولائی کو شیڈول ہے اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو حکم دے رہا ہوں کہ وہ حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کی کاپی پارٹی کے تمام اراکین کو بھیجی گئی ہے۔ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جتنے بھی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کے مطابق حافظ عمار یاسر، شجاع نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، پرویز الہٰی، محمد رضوان، ساجد احمد خان، احسان اللہ چوہدری، محمد افضل، بسمہ چوہدری اور خدیجہ عمر کے ووٹ شمار نہیں ہوئے۔ اس طرح مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کرکے حمزہ شہباز منتخب قرار پائے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہٰی کو 186 ملے تھے لیکن 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد ان کے 176 ووٹ رہ گئے۔ جبکہ حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے اور یوں انہیں 3 ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔ ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن راجا بشارت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میں 63 اے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ووٹ کی ہدایت دینے کے لیے کس کو حق حاصل ہے۔

راجا بشارت کے سوال پر ڈپٹی اسپیکر نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق پارٹی کے سربراہ کو حق حاصل ہے۔ اس پر راجا بشارت نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کو حق حاصل ہے اور آئینی شق پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ چوہدری ساجد ہیں اور حکم انہوں نے دینا تھا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عدالت کا حکم پڑھیں۔

اسپیکر کو مخاطب کرکے راجا بشارت کا کہنا تھا کہ اب آپ کے فیصلے کے مطابق امیدوار کی حیثیت ختم کر رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الہٰی خود اپنے آپ کو ووٹ نہیں دے سکتے۔ تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق میں نے چوہدری شجاعت سے فون پر پوچھا تو انہوں نے 3 مرتبہ کہا کہ صحیح ہے اور انہوں نے پارٹی کے سربراہ کے طور پر یہ خط لکھا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کے ووٹ شمار نہیں کیے جارہے اور اس کے نتیجے میں حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ کے کامیاب امیدوار ہیں، جنہوں نے موجود اراکین کی اکثریت حاصل کی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔

یاد رہے کہ 17مئی کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے خلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے کیا گیا تھا۔