روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ آگے بڑھانے کا فیصلہ
اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے میانمار کی حکومت کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزام پر مبنی مقدمے پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلے دیا ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے 2019 میں مغربی افریقی ملک گمبیا کی جانب سے دائر کردہ مقدمے پر میانمار کے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے سے میانمار کے روہنگیا کے خلاف 2017 کے خونریز کریک ڈاؤن کے الزامات پر عدالت میں مکمل سماعت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
صدر آئی سی جے جون ڈونوگو نے کہا کہ عدالت اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے پاس گیمبیا کی جانب سے دائر درخواست پر غور کرنے کا دائرہ اختیار ہے اور مذکورہ درخواست قابل قبول ہے۔ تقریباً 5 سال قبل آپریشن کے دوران روہنگیا مسلمان ملک سے فرار ہو گئے تھے جنہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے قتل، ریپ اور آتش زنی کے ہولناک واقعات کی اطلاعات دیں۔
تقریباً ساڑھے 8 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزیر ہیں جب کہ مزید 6 لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار کی جنوب مغربی ریاست راکھین میں ہیں۔ آئی سی جے میں میانمار کی نمائندہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی تھیں تاہم انہیں گزشتہ سال ایک بغاوت میں بطور سویلین لیڈر معزول کر دیا گیا تھا اور اب وہ زیر حراست ہیں۔
گمبیا نے نومبر 2019 میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار کے سلوک نے 1948 کے اقوام متحدہ کے 'کنونشن برائے نسل کشی' کی خلاف ورزی کی۔ میانمار کی جانب سے کئی بار یہ استدلال دیا جا چکا ہے کہ عالمی عدالت کا اس معاملے میں کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے اور اس مقدمے کو ابتدائی مراحل میں ہی خارج کر دینا چاہیے۔
تاہم ججوں نے متفقہ طور پر میانمار کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ گمبیا اس معاملے میں 57 ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 'پراکسی' کے طور پر کام کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ آئی سی جے میں مقدمات دائر کرنے کی اجازت تنظیموں کو نہیں صرف ریاستوں کو حاصل ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی صرف ملکوں کے درمیان تنازعات پر فیصلہ دیا ہے۔
عالمی عدالت نے متفقہ طور پر میانمار کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ گمبیا مقدمہ درج نہیں کر سکتا کیونکہ وہ مبینہ نسل کشی کا براہ راست فریق نہیں ہے یا میانمار نسل کشی کنونشن کے متعلقہ دائرے سے باہر ہے۔